ٹیگ کے محفوظات: پاے

ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل

دیوان پنجم غزل 1671
صد ہزار افسوس آکر خالی پائی جاے گل
ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل
بے نصیبی سے ہوئے ہم موسم گل میں اسیر
تھے نہ پیشانی میں اپنے سجدہ ہاے پاے گل
دعوی حسن سراپا تھا پہ نازاں تجھ کو دیکھ
شاخیں پر گل جھک گئیں یعنی بہت شرمائے گل
کیا گل مہتاب و شبو کیا سمن کیا نسترن
اس حدیقے میں نہ نقش پا سے اس کے پائے گل
جیتے جی تو داغ ہی رکھا موئے پر کیا حصول
گور پر دلسوزی سے جوں شمع سر رکھ لائے گل
بے دلی بلبل نہ کر تاثیر میں گو تو ہے داغ
خوش زبان عشق کی جب ہم نے بھر کے کھائے گل
اس چمن میں جلوہ گر جس حسن سے خوباں ہیں میر
موسم گل میں کہیں اس خوبی سے کب آئے گل
میر تقی میر

لیکن ہزار حیف نہ ٹھہری ہواے گل

دیوان چہارم غزل 1424
بلبل نے کل کہا کہ بہت ہم نے کھائے گل
لیکن ہزار حیف نہ ٹھہری ہواے گل
رعنا جوان شہر کے رہتے ہیں گل بسر
سر پر ہمارے داغ جنوں کے ہیں جاے گل
دل لوٹنے پہ مرغ چمن کے نہ کی نظر
بے درد گل فروش سبد بھر کے لائے گل
حیف آفتاب میں پس دیوار باغ ہیں
جوں سایہ وا کشیدہ ہوئے ہم نہ پاے گل
بوے گل و نواے خوش عندلیب میر
آئی چلی گئی یہی کچھ تھی وفاے گل
میر تقی میر

پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل

دیوان سوم غزل 1163
اب کے ہزار رنگ گلستاں میں آئے گل
پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل
بلبل کو ناز کیوں نہ خیابان گل پہ ہو
کیا جانے جن نے چھاتی پہ بھر کر نہ کھائے گل
کب تک حنائی پائوں بن اس کے یہ بے کلی
لگ جائے ٹک چمن میں کہیں آنکھ پاے گل
ناچار ہو چمن میں نہ رہیے کہوں ہوں جب
بلبل کہے ہے اور کوئی دن براے گل
چلیے بغل میں لے کے گلابی کسو طرف
دامان دل کو کھینچے ہے ساقی ہواے گل
پگڑی میں پھول رکھتے ہیں رعنا جوان شہر
داغ جنوں ہی سر پہ رہا یاں بجاے گل
بلبل کو کیا سنے کوئی اڑ جاتے ہیں حواس
جب دردمند کہتی ہے دم بھر کے ہائے گل
سویا نہ وہ بدن کی نزاکت سے ساری رات
بستر پہ اس کے خواب کے کن نے بچھائے گل
مصروف یار چاہیے مرغ چمن سا ہو
دل نذر و دیدہ پیش کش و جاں فداے گل
ہم طرح آشیاں کی نہ گلشن میں ڈالتے
معلوم ہوتی آگے جو ہم کو وفاے گل
چسپاں لباس ہوتے ہیں لیکن نہ اس قدر
ہے چاک رشک جامہ سے اس کے قباے گل
کیا سمجھے لطف چہروں کے رنگ و بہار کا
بلبل نے اور کچھ نہیں دیکھا سواے گل
تھا وصف ان لبوں کا زبان قلم پہ میر
یا منھ میں عندلیب کے تھے برگ ہاے گل
میر تقی میر

سوز دل سے داغ ہے بالاے داغ

دیوان سوم غزل 1155
اب نہیں سینے میں میرے جاے داغ
سوز دل سے داغ ہے بالاے داغ
دل جلا آنکھیں جلیں جی جل گیا
عشق نے کیا کیا ہمیں دکھلائے داغ
دل جگر جل کر ہوئے ہیں دونوں ایک
درمیان آیا ہے جب سے پاے داغ
منفعل ہیں لالہ و شمع و چراغ
ہم نے بھی کیا عاشقی میں کھائے داغ
وہ نہیں اب میر جو چھاتی جلے
کھا گیا سارے جگر کو ہائے داغ
میر تقی میر

ہو خجل ایسی کہ منھ اپنا نہ پھر دکھلائے شمع

دیوان دوم غزل 831
تیرے ہوتے شام کو گر بزم میں آجائے شمع
ہو خجل ایسی کہ منھ اپنا نہ پھر دکھلائے شمع
کیا جلے جاتے ہیں تجھ سے سب دیے سے دیکھتے
گر یہی یاں کا ہے ڈھب تو حیف مجلس وائے شمع
کس کے تیں ہوتا ہے قطع زندگانی کا یہ شوق
سر کٹانے کو گلے میں جمع ہیں رگ ہاے شمع
کچھ نہیں مجھ میں درونے کی جلن سے اس طرح
کھا چلا ہے جیسے اک ہی داغ سر تا پاے شمع
داغ ہوکر جان دی ان نے تمھارے واسطے
مشت خاک میر پر سو تم نہ لے کر آئے شمع
میر تقی میر

یک مشت پر پڑے ہیں گلشن میں جاے بلبل

دیوان اول غزل 265
گل کی جفا بھی جانی دیکھی وفاے بلبل
یک مشت پر پڑے ہیں گلشن میں جاے بلبل
کر سیر جذب الفت گل چیں نے کل چمن میں
توڑا تھا شاخ گل کو نکلی صداے بلبل
کھٹکے ہیں خار ہوکر ہر شب دل چمن میں
اتنے لب و دہن پر یہ نالہاے بلبل
یک رنگیوں کی راہیں طے کرکے مر گیا ہے
گل میں رگیں نہیں یہ ہیں نقش پاے بلبل
آئی بہار و گلشن گل سے بھرا ہے لیکن
ہر گوشۂ چمن میں خالی ہے جاے بلبل
پیغام بے غرض بھی سنتے نہیں ہیں خوباں
پہنچی نہ گوش گل تک آخر دعاے بلبل
یہ دل خراش نالے ہر شب کے میر تیرے
کر دیں گے بے نمک ہی شور نواے بلبل
میر تقی میر

چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پاے گل

دیوان اول غزل 264
فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جاے گل
چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پاے گل
اللہ رے عندلیب کی آواز دل خراش
جی ہی نکل گیا جو کہا ان نے ہائے گل
مقدور تک شراب سے رکھ انکھڑیوں میں رنگ
یہ چشمک پیالہ ہے ساقی ہواے گل
یہ دیکھ سینہ داغ سے رشک چمن ہے یاں
بلبل ستم ہوا نہ جو تونے بھی کھائے گل
بلبل ہزار جی سے خریدار اس کی ہے
اے گل فروش کریو سمجھ کر بہاے گل
نکلا ہے ایسی خاک سے کس سادہ رو کی یہ
قابل درود بھیجنے کے ہے صفاے گل
بارے سرشک سرخ کے داغوں سے رات کو
بستر پر اپنے سوتے تھے ہم بھی بچھائے گل
آ عندلیب صلح کریں جنگ ہوچکی
لے اے زباں دراز تو سب کچھ سواے گل
گل چیں سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میر کے
لخت جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہاے گل
میر تقی میر