ٹیگ کے محفوظات: پاک

دھوئے گئےہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 212
رونے سے اور عشق میں بےباک ہو گئے
دھوئے گئےہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے
صرفِ بہائے مے ہوئے آلاتِ میکشی
تھے یہ ہی دو حساب، سو یوں پاک ہو گئے
رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تم
بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثر
پردے میں گُل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہلِ شوق کا
آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
کرنے گئے تھے اس سے تغافُل کا ہم گِلہ
کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش
دشمن بھی جس کو دیکھ کے غمناک ہو گئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دشت دشت اب کے ہے گل تریاک

دیوان پنجم غزل 1664
شاد افیونیوں کا دل غمناک
دشت دشت اب کے ہے گل تریاک
تین دن گور میں بھی بھاری ہیں
یعنی آسودگی نہیں تہ خاک
ہاتھ پہنچا نہ اس کے دامن تک
میں گریباں کروں نہ کیوں کر چاک
تیز جاتا ہوں میں تو جوں سیلاب
میرے مانع ہو کیا خس و خاشاک
عشق سے ہاتھ کیا ملاوے کوئی
یاں زبردستوں کی ہے کشتی پاک
بندگی کیشوں پر ستم مت کر
ڈر خدا سے تو اے بت بیباک
عشق مرد آزما نے آخرکار
کیے فرہاد و قیس میر ہلاک
میر تقی میر

کیا کیا چرخ نے چکر مارے پیس کے مجھ کو خاک کیا

دیوان پنجم غزل 1550
کیسی سعی حوادث نے کی آخرکار ہلاک کیا
کیا کیا چرخ نے چکر مارے پیس کے مجھ کو خاک کیا
ایسا پلید آلودئہ دنیا خلق نہ آگے ہوا ہو گا
شیخ شہر موا کہتے ہیں شہر خدا نے پاک کیا
قدرت حق میں کیا قدرت جو دخل کسو کی فضولی کرے
اس کو کیا پرکالۂ آتش مجھ کو خس و خاشاک کیا
آہ سے تھے رخنے چھاتی میں پھیلنا ان کا یہ سہل نہ تھا
دو دو ہاتھ تڑپ کر دل نے سینۂ عاشق چاک کیا
خوگر ہونا حزن و بکا سے میر ہمارا یوں ہی نہیں
برسوں روتے کڑھتے رہے ہم تب دل کو غمناک کیا
میر تقی میر

پھول غیرت سے جل کے خاک ہوا

دیوان سوم غزل 1063
وہ جو گلشن میں جلوہ ناک ہوا
پھول غیرت سے جل کے خاک ہوا
اس کے دامن تلک نہ پہنچا ہاتھ
تھا سر دست جیب چاک ہوا
کس قدر تھا خبیث شیخ شہر
اس کے مرنے سے شہر پاک ہوا
ڈریے اس رشک خور کی گرمی سے
کچھ تو ہے ہم سے جو تپاک ہوا
میر ہلکان ہو گیا تھا بہت
سو طلب ہی میں پھر ہلاک ہوا
میر تقی میر

یارب یہ آسمان بھی مل جائے خاک میں

دیوان دوم غزل 885
کرتا نہیں قصور ہمارے ہلاک میں
یارب یہ آسمان بھی مل جائے خاک میں
گرمی نہیں ہے ہم سے وہ اے رشک آفتاب
اب آگیا ہے فرق بہت اس تپاک میں
اس ڈھنگ سے ہلا کہ بجا دل نہیں رہے
اس گوش کے گہر سے دم آئے ہیں ناک میں
اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے
دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
کہیے لطافت اس تن نازک کی میر کیا
شاید یہ لطف ہو گا کسو جان پاک میں
میر تقی میر

ملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے

دیوان اول غزل 603
خنجر بہ کف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے
ملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے
جس سے اسے لگائوں روکھا ہی ہو ملے ہے
سینے میں جل کر ازبس دل خاک ہو گیا ہے
کیا جانوں لذت درد اس کی جراحتوں کی
یہ جانوں ہوں کہ سینہ سب چاک ہو گیا ہے
صحبت سے اس جہاں کی کوئی خلاص ہو گا
اس فاحشہ پہ سب کو امساک ہو گیا ہے
دیوار کہنہ ہے یہ مت بیٹھ اس کے سائے
اٹھ چل کہ آسماں تو کا واک ہو گیا ہے
شرم و حیا کہاں کی ہر بات پر ہے شمشیر
اب تو بہت وہ ہم سے بے باک ہو گیا ہے
ہر حرف بسکہ رویا ہے حال پر ہمارے
قاصد کے ہاتھ میں خط نمناک ہو گیا ہے
زیر فلک بھلا تو رووے ہے آپ کو میر
کس کس طرح کا عالم یاں خاک ہو گیا ہے
میر تقی میر

سو گریبان مرے ہاتھ سے یاں چاک ہوئے

دیوان اول غزل 567
بسکہ دیوانگی حال میں چالاک ہوئے
سو گریبان مرے ہاتھ سے یاں چاک ہوئے
سر رگڑ پائوں پہ قاتل کے کٹائی گردن
اپنے ذمے سے تو صد شکر کہ ہم پاک ہوئے
پائمالی سے فراغت ہی نہیں میر ہمیں
کوے دلبر میں عبث آن کے ہم خاک ہوئے
میر تقی میر

نزدیک اپنے کب کے ہوئے ہیں ہلاک ہم

دیوان اول غزل 279
کرتے نہیں ہیں دوری سے اب اس کی باک ہم
نزدیک اپنے کب کے ہوئے ہیں ہلاک ہم
بیٹھے ہم اپنے طور پہ مستوں میں جب اٹھے
جوں ابرتر لیے اٹھے دامن کو پاک ہم
آہستہ اے نسیم کہ اطراف باغ کے
مشتاق پر فشانی ہیں اک مشت خاک ہم
شمع و چراغ و شعلہ و آتش شرار و برق
رکھتے ہیں دل جلے یہ بہم سب تپاک ہم
مستی میں ہم کو ہوش نہیں نشأتین کا
گلشن میں اینڈتے ہیں پڑے زیر تاک ہم
جوں برق تیرے کوچے سے ہنستے نہیں گئے
مانند ابر جب اٹھے تب گریہ ناک ہم
مدت ہوئی کہ چاک قفس ہی سے اب تو میر
دکھلا رہے ہیں گل کو دل چاک چاک ہم
میر تقی میر

ہوچکے حشر میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز

دیوان اول غزل 234
مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز
ہوچکے حشر میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز
اشک کی لغزش مستانہ پہ مت کیجو نظر
دامن دیدئہ گریاں ہے مرا پاک ہنوز
ایک بھی تار گریبان کفن بیچ نہیں
جم ہوئی بیٹھی ہے چھاتی پہ مری خاک ہنوز
بھر نظر دیکھنے پاتا نہیں میں نزع میں بھی
منھ کے تیں پھیرے ہی لیتا ہے وہ بیباک ہنوز
بعد مرنے کے بھی آرام نہیں میر مجھے
اس کے کوچے میں ہے پامال مری خاک ہنوز
میر تقی میر

قریۂ خوں ریزہے ادراک کی جلتی زمیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 350
زندگی ہے دیدۂ سفاک کی جلتی زمیں
قریۂ خوں ریزہے ادراک کی جلتی زمیں
ٹوٹتے جاتے ہیں قسمت کے ستارے ان دنوں
گر رہی ہے خاک پر افلاک کی جلتی زمیں
ہر طرف خودکُش دھماکے ہر طرف ظالم فساد
مانگتی ہے رحم ارضِ پاک کی جلتی زمیں
بند کمرے میں در آئی ہے کسی دیوار سے
ہجر میں دشتِ گریباں چاک کی جلتی زمیں
دیکھتا ہوں خواب میں منصور بمباری کے بعد
سوختہ شہروں سے اڑتی خاک کی جلتی زمیں
منصور آفاق

محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 151
فلک سے بھی پرانی خاک کی تاریخ
محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ
مکمل ہو گئی ہے آخرش مجھ پر
جنوں کے دامن صد چاک کی تاریخ
ابھی معلوم کرتا پھر رہا ہوں میں
تری دستار کے پیچاک کی تاریخ
مری آنکھوں میں اڑتی راکھ کی صورت
پڑی ہے سوختہ املاک کی تاریخ
رگِ جاں میں اتر کر عمر بھر میں نے
پڑھی ہے خیمہء افلاک کی تاریخ
سرِ صحرا ہوا نے نرم ریشوں سے
پھٹا کویا تو لکھ دی آک کی تاریخ
مسلسل ہے یہ کیلنڈر پہ میرے
جدائی کی شبِ سفاک کی تاریخ
پہن کر پھرتی ہے جس کو محبت
مرتب کر تُو اُس پوشاک کی تاریخ
ہوائے گل سناتی ہے بچشمِ کُن
جہاں کو صاحبِ لولاک کی تاریخ
کھجوروں کے سروں کو کاٹنے والو
دکھائی دی تمہیں ادراک کی تاریخ
ہے ماضی کے مزاروں میں لکھی منصور
بگولوں نے خس و خاشاک کی تاریخ
منصور آفاق

سوحریر سرخ اتار دی ،ہے لباسِ خاک پہن لیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 117
کہ جو فقر نے ہے عطاکیا وہی چاک چاک پہن لیا
سوحریر سرخ اتار دی ،ہے لباسِ خاک پہن لیا
لیا ڈھانپ ننگ نصیب کا اسی جامہ ء شبِ تار سے
جو جلادیا تھا فقیر نے وہی راکھ راکھ پہن لیا
کبھی سردمہر ہوئے کہیں تو سیاہ چین زمین تھی
گریں دوپہر میں بھی بجلیاں جو کبھی تپاک پہن لیا
کبھی شہر کے کسی موڑپریونہی خالی ہاتھ بڑھا دئیے
کبھی ذکر و فکر کی غار میں ترا انہماک پہن لیا
جو مٹھائیوں کی طلب اٹھی توزمیں کی خاک ہی پھانک لی
جو سفید سوٹ کو جی کیا تو سیہ فراک پہن لیا
جہاں یاد آئیں حکومتیں وہیں ہم برہنہ ہو گئے
جہاں حرف زاد کوئی ملا وہیں ملکِ پاک پہن لیا
منصور آفاق