ٹیگ کے محفوظات: پامال

ہر شے گزشتنی ہے مہ و سال کی طرح

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 23
تیز آندھیوں میں اڑتے پر وبال کی طرح
ہر شے گزشتنی ہے مہ و سال کی طرح
کیوں کر کہوں کہ درپئے آزار ہے وہی
جو آسماں ہے سر پہ مرے ڈھال کی طرح
یوں بے سبب تو کوئی انہیں پوجتا نہیں
کچھ تو ہے پتھروں میں خدوخال کی طرح
کیا کچھ کیا نہ خود کو چھپانے کے واسطے
عریانیوں کو اوڑھ لیا شال کی طرح
اب تک مرا زمین سے رشتہ ہے استوار
رہنِ ستم ہوں سبزۂِ پامال کی طرح
میں خود ہی جلوہ ریز ہوں، خود ہی نگاہِ شوق
شفاف پانیوں پہ جھکی ڈال کی طرح
ہر موڑ پر ملیں گے کئی راہ زن شکیبؔ
چلیے چھپا کے غم بھی زر و مال کی طرح
شکیب جلالی

آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 50
شہر کا کیا حال ہے پوچھو خبر
آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر
اب کے سینہ اس بدن افگار کا
کس بدن کی ڈھال ہے پوچھو خبر
کیوں ہے آخر اس گلی میں اژدہام
کون پُر احوال ہے پوچھو خبر
راہ میں اس شہسوار ناز کی
کس کا دل پامال ہے پوچھو خبر
یہ جو سناٹا ہے سارے شہر میں
کیا نیا جنجال ہے پوچھو خبر
جون ایلیا

ہم جو فقیر ہوئے تو ہم نے پہلے ترک سوال کیا

دیوان چہارم غزل 1337
خوب کیا جو اہل کرم کے جود کا کچھ نہ خیال کیا
ہم جو فقیر ہوئے تو ہم نے پہلے ترک سوال کیا
روند کے جور سے ان نے ہم کو پائوں حنائی اپنے کیے
خون ہمارا بسمل گہ میں کن رنگوں پامال کیا
نکلے ہے گر گھاس جلی بھی خاک سے الفت کشتوں کی
یہ بالیدہ سپہر پھرے ہے گویا ان نے نہال کیا
دل جو ہمارا خون ہوا تھا رنج و الم میں گذری ہمیں
یعنی ماتم اس رفتہ کا ہم نے ماہ و سال کیا
میر سدا بے حال رہو ہو مہر و وفا سب کرتے ہیں
تم نے عشق کیا سو صاحب کیا یہ اپنا حال کیا
میر تقی میر

ہیں پریشاں چمن میں کچھ پر و بال

دیوان اول غزل 267
سیر کر عندلیب کا احوال
ہیں پریشاں چمن میں کچھ پر و بال
تب غم تو گئی طبیب ولے
پھر نہ آیا کبھو مزاج بحال
سبزہ نورستہ رہگذار کا ہوں
سر اٹھایا کہ ہو گیا پامال
کیوں نہ دیکھوں چمن کو حسرت سے
آشیاں تھا مرا بھی یاں پرسال
سرد مہری کی بسکہ گل رو نے
اوڑھی ابر بہار نے بھی شال
ہجر کی شب کو یاں تئیں تڑپا
کہ ہوا صبح ہوتے میرا وصال
ہم تو سہ گذرے کج روی تیری
نہ نبھے گی پر اے فلک یہ چال
دیدئہ تر پہ شب رکھا تھا میر
لکۂ ابر ہے مرا رومال
میر تقی میر

خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا

دیوان اول غزل 41
دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا
خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا
آنکھیں کفک سے اس کی لگاکر خاک برابر ہم بھی ہوئے
مہندی کے رنگ ان پائوں نے تو بہتوں کو پامال کیا
یوں نکلے ہے فلک ایدھر سے نازکناں جو جاتے تو
خاک سے سبزہ میری اگاکر ان نے مجھ کو نہال کیا
آگے جواب سے ان لوگوں کے بارے معافی اپنی ہوئی
ہم بھی فقیر ہوئے تھے لیکن ہم نے ترک سوال کیا
حال نہیں ہے عشق سے مجھ میں کس سے میر ؔاب حال کہوں
آپھی چاہ کر اس ظالم کو یہ اپنا میں حال کیا
میر تقی میر

سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا

دیوان اول غزل 13
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھائو پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں
دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں
ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعویٰ کیا تھا گل نے ترے رخ سے باغ میں
سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار
تیرا تو میر غم میں عجب حال ہو گیا
میر تقی میر

آپ اپنا سا منا اے آفتاب اقبال کر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 28
ایک دن سر سے بلائے مصلحت کو ٹال کر
آپ اپنا سا منا اے آفتاب اقبال کر
بستیاں نقدِ روا داری سے خالی ہو گئیں
اے خدا سیم و زرِ غم سے انہیں خوشحال کر
تیری آنکھوں کی تپش میں جی کے مرنا ہے مجھے
دھوپ سبزے کو جلا دیتی ہے جیسے پال کر
زرد سناٹے میں آویزاں ہے برگِ گہنگی
اے زمستاں کی ہوا آ کر اِسے پامال کر
دھونڈنے نکلے تو پا کر بھی نہ تجھ کو پا سکے
گُم شدہ رہ کر اُسے اپنا پتا ارسال کر
آفتاب اقبال شمیم

پامال

سورج نکلا، رنگ رچے

کرنوں کے قدموں کے تلے

سوکھی گھاس پہ کھلتے ہوئے

پیلے پیلے پھول ہنسے!

کرنوں کے چرنوں پر جب

اس مٹی نے رکھ دیے لب

مسلی گھاس پہ بچھ گئی، سب

ہنستی زندگیوں کی چھب!

اس مٹی کے ذرّے ہم

کیا کہیں اپنا قصۂ غم!

کیا کہیں ہم پر کیا بیتی

اندھے کھوٹے قدموں کی

ٹھوکر اپنی قسمت تھی

ٹھوکر کھائی، آنکھ کھلی

آنکھ کھلی تو بھید کھلا

وہ سب جن کے قدموں کا

ریلا ہم کو روند گیا

ان میں سورج کوئی نہ تھا

میری طرح اور تیری طرح

سب مٹی کے ذرّے تھے

مجید امجد