ٹیگ کے محفوظات: پالے

گلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے

دیوان اول غزل 488
قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے
گلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے
وہ کالا چور ہے خال رخ یار
کہ سو آنکھوں میں دل ہو تو چرالے
نہیں اٹھتا دل محزوں کا ماتم
خدا ہی اس مصیبت سے نکالے
کہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیے
کبھو تو پاس ہم کو بھی بلالے
دلا بازی نہ کر ان گیسوئوں سے
نہیں آساں کھلانے سانپ کالے
طپش نے دل جگر کی مار ڈالا
بغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے
نہ مہکے بوے گل اے کاش یک چند
ابھی زخم جگر سارے ہیں آلے
کسے قید قفس میں یاد گل کی
پڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے
ستایا میر غم کش کو کنھوں نے
کہ پھر اب عرش تک جاتے ہیں نالے
میر تقی میر

یادوں کا تعویذ ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 97
وقت کی ہر آفت کو اپنے سر سے ٹالے رکھتا ہوں
یادوں کا تعویذ ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھتا ہوں
خواب کے روزن سے در آئی روشنیوں کا کیا کہنا
گھور اندھیرے میں بھی اپنے پاس اُجالے رکھتا ہوں
ہر مایوسی سہہ لیتا ہوں شاید اس کی برکت سے
یہ جو انہونی کا سپنا دل میں پالے رکھتا ہوں
کیا معلوم کہ جانے والا سمت شناس فردا ہو
تھوڑی دُور تو ہر مرکب کی باگ سنبھالے رکھتا ہوں
اپنے اس انکار کے باعث دین کا ہوں نہ ہی دنیا کا
ہر خواہش کو پاؤں کی ٹھوکر پہ اچھالے رکھتا ہوں
زہر کا پیالہ، سوکھا دریا اور صلیب و دار و رسن
میں بھی اپنے ہونے کے دو چار حوالے رکھتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 178
ہم تو زنجیر سفر شوق میں ڈالے ہوئے ہیں
ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں
جان و تن عشق میں جل جائیں گے‘ جل جانے دو
ہم اسی آگ سے گھر اپنا اجالے ہوئے ہیں
کب سے مژگاں نہیں کھولے مرے ہشیاروں نے
کتنی آسانی سے طوفان کو ٹالے ہوئے ہیں
اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو
بھائی‘ ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوئے ہیں
ہم نے کیا کیا تجھے چاہا ہے انہیں کیا معلوم
لوگ ابھی کل سے ترے چاہنے والے ہوئے ہیں
کہیں وحشت نہیں دیکھی تری آنکھوں جیسی
یہ ہرن کون سے صحراؤں کے پالے ہوئے ہیں
دل کا کیا ٹھیک ہے آنا ہے تو آجا کہ ابھی
ہم یہ گرتی ہوئی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں
عرفان صدیقی

دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 641
موجوں کو اٹھتی بھاپ کے لالے پڑے رہے
دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے
منہ کو کلیجہ آئے جب آئے کسی کی یاد
کیا کیا حسیں چڑیلوں سے پالے پڑے رہے
پھر چاند نے بھی چھوڑ دیا رات کادیار
جب بستروں میں دیکھنے والے پڑے رہے
چیزیں تو جھاڑتا رہا جاروب کش مگر
ذہنوں پہ عنکبوت کے جالے پڑے رہے
تاریخ جھوٹ کا ہی اثاثہ بنی رہی
تحقیق کے مکانوں پہ تالے پڑے رہے
حلقے پڑے رہے مری آنکھوں کے ارد گرد
مہتاب کے نواح میں ہالے پڑے رہے
تسخیرِاسم ذات مکمل ہوئی مگر
منصوراپنے کان میں بالے پڑے رہے
منصور آفاق

اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 372
ہم واں نہیں وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں
اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں
آنسو تمام شہر نے افلاک کی طرف
دستِ دعا پہ رکھ کے اچھالے ہوئے تو ہیں
اس میں کوئی مکان جلا ہے تو کیا ہوا
دوچار دن گلی میں اجالے ہوئے تو ہیں
یادیں بھی یادگاریں بھی لوٹانے کا ہے حکم
تصویریں اور خطوط سنبھالے ہوئے تو ہیں
سچ کہہ رہی ہے صبح کی زر خیزروشنی
ہم لوگ آسمان کے پالے ہوئے تو ہیں
آخر کبھی تو شامِ ملاقات آئے گی
ڈیرے کسی کے شہر میں ڈالے ہوئے تو ہیں
منصور کب وہاں پہ پہنچتے ہیں کیاکہیں
کچھ برگِ گل ہواکے حوالے ہوئے تو ہیں
منصور آفاق

ہوٹھاں اُتے، ڈوہنگی چپ دے تالے نیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 26
اکھیاں اوہلے، سدھراں بھانبڑ بالے نیں
ہوٹھاں اُتے، ڈوہنگی چپ دے تالے نیں
منّیاں، ساڈیاں انگلاں، اگ دیاں پوراں نیں
قلماں دی ہوٹھیں، پر کَکر پالے نیں
گل نکھیڑے دی، کوئی پلے پیندی نئیں
ویلے کی کی وعدے، کل تے ٹالے نیں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)