ٹیگ کے محفوظات: پاس

بہت ملول تھا میں بھی، اداس تھا وہ بھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 98
عجیب رت تھی کہ ہر چند پاس تھا وہ بھی
بہت ملول تھا میں بھی، اداس تھا وہ بھی
کسی کے شہر میں کی گفتگو ہواؤں سے
یہ سوچ کر کہ کہیں آس پاس تھا وہ بھی
ہم اپنے زعم میں خوش تھے کہ اس کو بھول چکے
مگر گمان تھا یہ بھی، قیاس تھا وہ بھی
کہاں ہے اب غم دنیا، کہاں ہے اب غم جاں
وہ دن بھی تھے کہ ہمیں یہ بھی راس تھا وہ بھی
فراز تیرے گریباں پہ کل جو ہنستا تھا
اسے ملے تو دریدہ لباس تھا وہ بھی
احمد فراز

چاہنے والے ایک دفعہ بن باس تو لیتے ہیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 64
پانی پر بھی زادِ سفر میں پیاس تو لیتے ہیں
چاہنے والے ایک دفعہ بن باس تو لیتے ہیں
ایک ہی شہر میں رہ کر جن کو اذنِ دید نہ ہو
یہی بہت ہے ، ایک ہوا میں سانس تو لیتے ہیں
رستہ کِتنا دیکھا ہُوا ہو ، پھر بھی شاہ سوار
ایڑ لگا کر اپنے ہاتھ میں راس تو لیتے ہیں
پھر آنگن دیواروں کی اُونچائی میں گُم ہوں گے
پہلے پہلے گھر اپنوں کے پاس تو لیتے ہیں
یہی غنیمت ہے کہ بچّے خالی ہاتھ نہیں ہیں
اپنے پُرکھوں سے دُکھ کی میراث تو لیتے ہیں
پروین شاکر

کسی کے ہاتھ نہ آئی مگر گلاب کی باس

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 2
اتر گیا تن نازک سے پتیوں کا لباس
کسی کے ہاتھ نہ آئی مگر گلاب کی باس
اب اپنے جسم کے سائے میں تھک کے بیٹھ رہو
کہیں درخت نہیں راستے میں دور نہ پاس
ہزار رنگ کی ظلمت میں لے گئی مجھ کو
بس اک چراغ کی خواہش بس اک شرار کی آس
تمہارے کام نہ آئے گا جو بھی دانا ہے
ہر ایک شخص پہ کیوں کر رہے ہو اپنا قیاس
کسی کی آس تو ٹوٹی کوئی تو ہار گیا
کہ نیم باز دریچوں میں روشنی ہے اداس
وہ کالے کوہ کی دوری اب ایک خواب سی ہے
تم آ گئے ہو مگر کب نہ تھے ہمارے پاس
یہ کیا طلسم ہے ، جب سے کنارِ دریا ہوں
شکیبؔ اور بھی کچھ بڑھ گئی ہے روح کی پیاس
شکیب جلالی

شام سے ہے بہت اداس مشین

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 60
ہار آئی ہے کوئی آس مشین
شام سے ہے بہت اداس مشین
دل وہی کس مشین سے چاہے
ہے مشینوں سے بدحواس مشین
یہی رشتوں کا کارخانہ ہے
اک مشیں اور اس کے پاس مشین
کام سے تجھ کو مَس نہیں شاید
چاہتی ہے ذرا مساس مشین
یہ سمجھ لو کہ جو بھی جنگلی ہے
نہیں آئے گی اس کو راس مشین
شہر اپنے، بسائیں گے جنگل
تجھ میں اگنے کو اب ہے گھاس مشین
ہے خفا سارے کارخانے سے
ایک اسباب ناشناس مشین
ایک پرزا تھا وہ بھی ٹوٹ گیا
اب رکھا کیا ہے تیرے پاس مشین
جون ایلیا

تسکیں کو دے نوید@ کہ مرنے کی آس ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 248
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے
تسکیں کو دے نوید@ کہ مرنے کی آس ہے
لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبر
اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلک
ہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے
ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفا
ہرچند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے
پی جس قدر ملے شبِ مہتاب میں شراب
اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
@ نسخۂ عرشی میں یوں ہے: ’تسکین کو نوید‘۔ اصل نظامی اور دوسرے نسخوں میں اسی طرح ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

جائیں یاں سے جو ہم اداس کہیں

دیوان سوم غزل 1178
جمع ہوتے نہیں حواس کہیں
جائیں یاں سے جو ہم اداس کہیں
دل کی دو اشک سے نہ نکلی بھڑاس
اوسوں بجھتی نہیں ہے پیاس کہیں
بائو خوشبو ہے آئی ہے واں سے
کوئی چھپتی ہے گل کی باس کہیں
اس جنوں میں کہیں ہے سر پر خاک
ٹکڑے ہو کر گرا لباس کہیں
گرد سر یار کے پھریں پہروں
ہم جو ہوں اس کے آس پاس کہیں
سب جگہ لوگ حق و ناحق پر
نہ ملا حیف حق شناس کہیں
ہر طرف ہیں امیدوار یار
اس سے کوئی نہیں نراس کہیں
عشق کا محو دشت شیریں ہوں
جان کا بھی نہیں ہراس کہیں
عرش تک تو خیال پہنچے میر
وہم پھر ہے کہیں قیاس کہیں
میر تقی میر

فرق نکلا بہت جو باس کیا

دیوان اول غزل 31
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے
قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے
ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی
کیا پتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں
سو ترے ظلم نے نراس کیا
دیکھا ڈھہتا ہے جن نے خانہ بنا
زیر افلاک سست اساس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں
میر کو تم عبث اداس کیا
میر تقی میر

کہنا اُسے، دنیا مجھے راس آئی نہیں ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 74
تخلیق سے فن کار کی باس آئی نہیں ہے
کہنا اُسے، دنیا مجھے راس آئی نہیں ہے
شاید کہ ہو اُمّید کے تاروں کا خزانہ
پاس آ کے یہ دولت میرے پاس آئی نہیں ہے
سورج کو نکلنا ہی نہ ہو مطلعِٔ شب سے
پھر کس لئے یہ شام اُداس آئی نہیں ہے
یا ذائقہ ہے تلخ کسی شے کی کمی سے
یا بھول میں موسم کی مٹھاس آئی نہیں ہے
کھوئے گئے حالات کے آشوب میں ایسے
کچھ اپنی خبر تا بہ حواس آئی نہیں ہے
آفتاب اقبال شمیم

یا آئینے سے چھین ہنر انعکاس کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 49
یا پھونک سے چراغ، بجھا دے حواس کا
یا آئینے سے چھین ہنر انعکاس کا
دم گھُٹ گیا ہے لمسِ لطافت سے اے خدا
اعلان کر ہواؤں میں مٹی کی باس کا
ہر آب جُو پہ ریت کا پہرہ لگا ہوا
یہ زندگی ہے یا کوئی صحرا ہے پیاس کا
جب دے سکا نہ کوئی گواہی سرِ صلیب
جرمانہ شہر پر ہوا خوف و ہراس کا
گھر کے سکوت نے تو ڈرایا بہت مگر
وجہِ سکوں تھا شور میرے آس پاس کا
ہر دستِ پُر فسوں ، یدِ بیضا دکھائی دے
اے روشنی پرست! یہ منظر ہے یاس کا
دستک ہر اک مکان پہ دنیا پڑی مجھے
مقصود تھا سراغ مرے غم شناس کا
آفتاب اقبال شمیم

مجھے اتنا تو نہ اُداس کرو، کبھی آؤ نا!

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 31
کبھی خود کو درد شناس کرو، کبھی آؤ نا!
مجھے اتنا تو نہ اُداس کرو، کبھی آؤ نا!
مری عمر سرائے مہکے ہے، گُل ہجراں سے
کبھی آؤ آ کر باس کرو، کبھی آؤ نا!
مجھے چاند میں شکل دکھائی دے، جو دہائی دے
کوئی چارۂ ہوش و حواس کرو، کبھی آؤ نا!
اُسی گوشۂ یاد میں بیٹھا ہوں ، کئی برسوں سے
کسی رفت گزشت کا پاس کرو، کبھی آؤ نا!
کہیں آب و ہوائے تشنہ لبی، مجھے مار نہ دے
اسے برکھا بن کر راس کرو کبھی آؤ نا!
سدا آتے جاتے موسم کی، یہ گلاب رتیں
کوئی دیر ہیں ، یہ احساس کرو، کبھی آؤ نا!
آفتاب اقبال شمیم

فیض احمد فیض ۔ قطعات

فیض احمد فیض ۔ قطعات
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
**
دل رہین غم جہاں ہے آج
ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج
سخت ویراں ہے محفل ہستی
اے غم دوست! تو کہاں ہے آج

**

وقف حرمان و یاس رہتا ہے
دل ہے اکثر اداس رہتا ہے
تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
**
فضائے دل پر اداسی بکھرتی جاتی ہے
فسردگی ہے کہ جاں تک اترتی جاتی ہے
فریب زیست سے قدرت کا مدعا معلوم
یہ ہوش ہے کہ جوانی گزرتی جاتی ہے
متفرق اشعار
فیض احمد فیض

کچھ گھوم پھر رہے ہیں سٹیچو لباس کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 571
کچھ ہڈیاں پڑی ہوئی، کچھ ڈھیر ماس کے
کچھ گھوم پھر رہے ہیں سٹیچو لباس کے
فٹ پاتھ بھی درست نہیں مال روڈ کا
ٹوٹے ہوئے ہیں بلب بھی چیرنگ کراس کے
پھر ہینگ اوور ایک تجھے رات سے ملا
پھر پاؤں میں سفر وہی صحرا کی پیاس کے
ہنگامہء شراب کی صبحِ خراب سے
اچھے تعلقات ہیں ٹوٹے گلاس کے
کیوں شور ہو رہا ہے مرے گرد و پیش میں
کیا لوگ کہہ رہے ہیں مرے آس پاس کے
صحراکا حسن لے گئے مجنون کے نقشِ پا
پیوند لگ چکے ہیں وہاں سبز گھاس کے
منصوربس یقین کی گلیاں ہیں اور میں
دروازے بند ہوچلے وہم و قیاس کے
منصور آفاق

کچھ بدن پر کپاس اگ آئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 516
ننگ کا بھی لباس اگ آئے
کچھ بدن پر کپاس اگ آئے
ہم نفس کیا ہوا سوئمنگ پول
پانیوں میں حواس اگ آئے
آتے جاتے رہو کہ رستے میں
یوں نہ ہو پھر سے گھاس اگ آئے
سوچ کر کیا شجر قطاروں میں
پارک کے آس پاس اگ آئے
گاؤں بوئے نہیں اگر آنسو
شہر میں بھوک پیاس اگ آئے
کوئی ایسی بہار ہو منصور
استخوانوں پہ ماس اگ آئے
منصور آفاق

ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 267
دوبارہ کاٹنے آؤ گے… آس ہے سائیاں
ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں
مری دعاؤں پہ چیلیں جھپٹنے والی ہیں
یہ ایک چیخ بھری التماس ہے سائیاں
عجیب شہد سا بھرنے لگا ہے لہجے میں
یہ حرفِ میم میں کیسی مٹھاس ہے سائیاں
تمہارے قرب کی مانگی تو ہے دعا میں نے
مگر یہ ہجر جو برسوں سے پاس ہے سائیاں
جسے ملو وہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
بھرا ہوا بھی کسی کا گلاس ہے سائیاں
ترے بغیر کسی کا بھی دل نہیں لگتا
مرے مکان کی ہر شے اداس ہے سائیاں
ٹھہر نہ جائے خزاں کی ہوا اسے کہنا
ابھی شجر کے بدن پر لباس ہے سائیاں
کوئی دیا کہیں مصلوب ہونے والا ہے
بلا کا رات پہ خوف و ہراس ہے سائیاں
نجانے کون سی کھائی میں گر پڑے منصور
یہ میرا وقت بہت بد حواس ہے سائیاں
منصور آفاق

کہ آپ چل کے کنواں آئے پاس ایسا ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 232
یہ لب سمیٹ لیں صحرا کی پیاس ایسا ہو
کہ آپ چل کے کنواں آئے پاس ایسا ہو
کری گلاس میں ڈالے پلیٹ میں پانی
میں چاہتا ہوں کہ وہ بدحواس ایسا ہو
تمام رات رہے مال روڈ پر بجلی
تمام رات یہ چیرنگ کراس ایسا ہو
مری گلی میں شعاعوں کی بھیڑ لگ جائے
اُس آئینے سے کوئی انعکاس ایسا ہو
وہ خوش خرام بدن نرم گرم جیسا ہے
مرے بدن کا بھی کوئی لباس ایسا ہو
ملال سسکیاں گلیوں میں بھرتے پھرتے ہوں
یہ شہر ہجر میں تیرے اداس ایسا ہو
کوئی بھی راستہ پاؤں کی دسترس میں نہ ہو
ہرایک راہ میں اگ آئے گھاس ایسا ہو
جو دیکھ سکتا ہومنظر نہیں پسِ منظر
کوئی تو شہر میں چہرہ شناس ایسا ہو
وہ بار بار پڑھے رات دن جسے منصور
کتابِ دل کا کوئی اقتباس ایسا ہو
منصور آفاق

ہجر کو وصل پر قیاس کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 121
یوں خیالوں نے بد حواس کیا
ہجر کو وصل پر قیاس کیا
اپنی پہچان کے عمل نے مجھے
روئے جاناں سے روشناس کیا
کچھ فسردہ زمیں سے تھے لیکن
آسماں نے بہت اداس کیا
ہم نے ہر اک نماز سے پہلے
زیبِ تن خاک کا لباس کیا
بھول آئے ہیں ہم وہاں منصور
کیا بسیرا کسی کے پاس کیا
منصور آفاق

ڈوب گیا ہے تھل مارو میں میری آس کا دریا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 115
پیر فرید کی روہی میں ہوں ، مجھ میں پیاس کا دریا
ڈوب گیا ہے تھل مارو میں میری آس کا دریا
عمرِ رواں کے ساحل پر اوقات یہی ہیں دل کے
صبح ، طلب کی بہتی کشتی، شب ،وسواس کا دریا
سورج ڈھالے جا سکتے تھے ہر قطرے سے لیکن
یوں ہی بہایا میں نے اشکوں کے الماس کا دریا
جس کے اک اک لمحے میں ہے صدیوں کی خاموشی
میرے اندر بہتا جائے اس بن باس کا دریا
ہم ہیں آبِ چاہ شباں کے ہم حمام سگاں کے
شہر میں پانی ڈھونڈ رہے ہو چھوڑ کے پاس کا دریا
تیری طلب میں رفتہ رفتہ میرے رخساروں پر
سوکھ رہا ہے قطرہ قطرہ تیز حواس کا دریا
سورج اک امید بھرا منصور نگر ہے لیکن
رات کو بہتا دیکھوں اکثر خود میں یاس کا دریا
منصور آفاق

تیرا فیضان بے قیاس ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 38
جب مجھے حسنِ التماس ملا
تیرا فیضان بے قیاس ملا
گھر میں صحرا دکھائی دیتا ہے
شیلف سے کیا ابو نواس ملا
جب بھی کعبہ کو ڈھونڈنا چاہا
تیرے قدموں کے آس پاس ملا
تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی
جب کہیں کوئی بھی اداس ملا
تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے
بس وہی مرتبہ شناس ملا
یوں بدن میں سلام لہرایا
جیسے کوثر کا اک گلاس ملا
تیری کملی کی روشنائی سے
زندگی کو حسیں لباس ملا
ابنِ عربی کی بزم میں منصور
کیوں مجھے احترامِ خاص ملا
منصور آفاق

آسماں کے مگر ہے پاس ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 36
خاک کا ایک اقتباس ملا
آسماں کے مگر ہے پاس ملا
اپنی تاریخ کے وہ ہیرو ہیں
جن کو وکٹوریہ کراس ملا
دیکھتے کیا ہو زر کہ یہ مجھ کو
اپنے ہی قتل کا قصاص ملا
جلوہ بس آئینے نے دیکھا ہے
ہم کو تو حسنِ انعکاس ملا
میز پر اہلِ علم و دانش کی
اپنے بھائی کا صرف ماس ملا
کتنے جلدی پلٹ کے آئے ہو
کیا نگر کا نگر خلاص ملا
اس میں خود میں سما نہیں سکتا
کیسا یہ دامنِ حواس ملا
چاند پر رات بھی بسر کی ہے
ہر طرف آسمانِ یاس ملا
زخم چنگاریوں بھرا منصور
وہ جو چنتے ہوئے کپاس ملا
منصور آفاق

خواب میں بھی ہراس سے گزرا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 26
کیسے وہم و قیاس سے گزرا
خواب میں بھی ہراس سے گزرا
ہر عمارت بہار بستہ ہے
کون چیرنگ کراس سے گزرا
رات اک کم سخن بدن کے میں
لہجہ ء پُر سپاس سے گزرا
پھر بھی صرفِ نظر کیا اس نے
میں کئی بار پاس سے گزرا
رو پڑی داستاں گلے لگ کر
جب میں دیوانِ خاص سے گزرا
عمر بھر عشق ،حسن والوں کی
صبحتِ ناشناس سے گزرا
کیا کتابِ وفا تھی میں جس کے
ایک ہی اقتباس سے گزرا
مثلِ دریا ہزاروں بار بدن
اک سمندر کی پیاس سے گزرا
ہجر کے خارزار میں منصور
وصل کی التماس سے گزرا
منصور آفاق

سنبھل سنبھل کے ٹھکانے مرے حواس آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 182
کچھ اس طرح وہ مری زندگی کے پاس آئے
سنبھل سنبھل کے ٹھکانے مرے حواس آئے
تو ہی بتا کہ اسے کس طرح میں سمجھاؤں
تری شکایتیں لے کر جو میرے پاس آئے
حیات راس نہ آئی اگرچہ دل میں مرے
بدل بدل کے امیدوں کا وہ لباس آئے
کل ان کی بزم میں گزری ہے تم پہ کیا باقیؔ
کہ شاد شاد گئے اور اداس اداس آئے
باقی صدیقی