ٹیگ کے محفوظات: پارے

ظلمتِ شب سے آج ہارے ہیں

جس قدر بھی فلک پہ تارے ہیں
ظلمتِ شب سے آج ہارے ہیں
رات کے ساتھ شہر پر بادل
کتنے گہرے ہیں کتنے کارے ہیں
چاند کا عکس جھیل میں دیکھوں
اس کے سب زاوئیے ہی پیارے ہیں
گھر ہیں پتھر کے لوگ پتھر کے
شہر کے شہر سنگ پارے ہیں
ہجرتوں کا سفر ہے پھر درپیش
پھر پرندے نے پر پسارے ہیں
یاور ماجد

نوازیں گے بڑھ کر اسے خود کنارے

بڑھے گا جو طوفان میں بے سہارے
نوازیں گے بڑھ کر اسے خود کنارے
جوانی سے ٹکرا رہی ہے جوانی
تمنا میں حل ہو رہے ہیں شرارے
نگاہیں اٹھا کر کسی نے جو دیکھا
وہیں دم بخود ہو گئے ماہ پارے
سنا جب کسی نے مرا قصہِ غم
گرے آنکھ سے ٹوٹ کر دو ستارے
حوادث میں ملتی ہے مجھ کو مسّرت
میں طوفاں میں پیدآ کروں گا کنارے
وہ دن حاصلِ عشق و اُلفت ہیں ہمدم
کہ جو میں نے فُرقت میں ان کی گزارے
ہوا جن پہ نفرت کا دھوکا جہاں کو
محبت نے ایسے بھی کچھ روپ دھارے
ذرا کوئی سازِ محبت تو چھیڑے
عجب کیا جو گانے لگیں یہ نظارے
کہیں محورِ غم، کہیں روحِ نغمہ
شکیبؔ! ان کی نظروں کے رنگیں اشارے
شکیب جلالی

سبزی بہت لگی ہے منھ سے پیارے تیرے

دیوان سوم غزل 1277
اے نوخط ایک دن ہے جھگڑا ہمارے تیرے
سبزی بہت لگی ہے منھ سے پیارے تیرے
حیران حال عاشق ہو گی اجل پہنچ کر
کیا حال یاں رہا ہے ظلموں کے مارے تیرے
ہر بار دیکھے ہے تو ایدھر ہی آہ شب نے
کچھ تو اثر کیا ہے جی میں بھی بارے تیرے
باغ و بہار و نکہت گل پھول سب ہی تو ہے
یاروں کی ہیں نظر میں یہ رنگ سارے تیرے
الماس میر تجھ کو کیا عشق نے دیا ہے
لخت جگر گرے ہیں جوں لعل پارے تیرے
میر تقی میر

موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے

دیوان اول غزل 479
زندگی ہوتی ہے اپنی غم کے مارے دیکھیے
موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے
لخت دل کب تک الٰہی چشم سے ٹپکا کریں
خاک میں تا چند ایسے لعل پارے دیکھیے
ہو چکا روز جزا اب اے شہیدان وفا
چونکتے ہیں خون خفتہ کب تمھارے دیکھیے
راہ دور عشق میں اب تو رکھا ہم نے قدم
رفتہ رفتہ پیش کیا آتا ہے بارے دیکھیے
سینۂ مجروح بھی قابل ہوا ہے سیر کے
ایک دن تو آن کر یہ زخم سارے دیکھیے
خنجر بیداد کو کیا دیکھتے ہو دمبدم
چشم سے انصاف کی سینے ہمارے دیکھیے
ایک خوں ہو بہ گیا دو روتے ہی روتے گئے
دیدہ و دل ہو گئے ہیں سب کنارے دیکھیے
شست و شو کا اس کی پانی جمع ہوکر مہ بنا
اور منھ دھونے کے چھینٹوں سے ستارے دیکھیے
رہ گئے سوتے کے سوتے کارواں جاتا رہا
ہم تو میر اس رہ کے خوابیدہ ہیں ہارے دیکھیے
میر تقی میر