ٹیگ کے محفوظات: پارا

یہیں ملے گا مجھے میرا انجمن آرا

یہ کہہ رہا ہے دیارِ طرب کا نظارا
یہیں ملے گا مجھے میرا انجمن آرا
خیالِ حسن میں کتنا بہار پرور ہے
شبِ خزاں کی خنک چاندنی کا نظارا
چلے تو ہیں جرسِ گل کا آسرا لے کر
نہ جانے اب کہاں نکلے گا صبح کا تارا
چلو کہ برف پگھلنے کی صبح آ پہنچی
خبر بہار کی لایا ہے کوئی گل پارا
چلے چلو اِنھی گمنام برف زاروں میں
عجب نہیں یہیں مل جائے درد کا چارا
کسے مجال کہ رُک جائے سانس لینے کو
رواں دواں لیے جاتا ہے وقت کا دھارا
بگولے یوں اُڑے پھرتے ہیں خشک جنگل میں
تلاشِ آب میں جیسے غزالِ آوارہ
ہمیں وہ برگِ خزاں دیدہ ہیں جنھیں ناصر
چمن میں ڈھونڈتی پھرتی ہے بوئے آوارہ
ناصر کاظمی

اگر ستارہ نہیں کوئی اشک پارا دے

ترس گئی مری بینائی کچھ اجالا دے
اگر ستارہ نہیں کوئی اشک پارا دے
شبِ سیاہ مجھے انتظارِ صبح نہیں
جو ہو سکے تو مرا چاند مجھ کو لوٹا دے
جو درد حاصلِ ہستی تھا وہ تو چھین لیا
اب اُس کے بدلے میں تو چاہے ساری دنیا دے
بلا رہا ہے وہ خوابوں کے چاند سے مجھ کو
ردائے تیرگی ہٹ سامنے سے رستا دے
کیا ہے تلخی دوراں نے اِس قدر بے حس
کوئی خبر نہیں ایسی جو مجھ کو چونکا دے
باصر کاظمی