ٹیگ کے محفوظات: پادشاہ

ہو تخت کچھ دماغ تو ہم پادشاہ ہیں

دیوان سوم غزل 1212
افیوں ہی کے تو دل شدہ ہم رو سیاہ ہیں
ہو تخت کچھ دماغ تو ہم پادشاہ ہیں
یاں جیسے شمع بزم اقامت نہ کر خیال
ہم دل کباب پردے میں سرگرم راہ ہیں
کہنا نہ کچھ کبھو کھڑے حسرت سے دیکھنا
ہم کشتنی ہیں واقعی گر بے گناہ ہیں
گہ مہرباں ہوں دور سے گہ آنکھیں پھیر لیں
معشوق آفتاب ہیں عشاق ماہ ہیں
آنکھیں ہماری پائوں تلے کیوں نہ وہ ملے
ہم بھی تو میر کشتۂ طرز نگاہ ہیں
میر تقی میر