ٹیگ کے محفوظات: پاتال

عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 32
ہونے کا اظہار نہیں ہے، صرف خیال میں زندہ ہوں
عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں
ٹھیک ہے میرا ہونا تیرے ہونے سے مشروط نہیں
لیکن اتنا یاد رہے میں ایک ملال میں زندہ ہوں
اپنا دل برباد کیا تو پھر یہ گھر آباد ہوا
پہلے میں اک عرش نشیں تھا اب پاتال میں زندہ ہوں
اک امکان کی بے چینی سے ایک محال کی وحشت تک
میں کس حال میں زندہ تھا اور میں کس حال میں زندہ ہوں
دنیا میری ذات کو چاہے رد کر دے، تسلیم کرے
میں تو یوں بھی تیرے غم کے استدلال میں زندہ ہوں
کتنی جلدی سمٹا ہوں میں وسعت کی اس ہیبت سے
کل تک عشق میں زندہ تھا میں آج وصال میں زندہ ہوں
ایک فنا کی گردش ہے یہ ایک بقا کا محور ہے
ایک دلیل نے مار دیا ہے ایک سوال میں زندہ ہوں
عرفان ستار

کورٹ سمٹا جا رہا تھا اک ذرا سی بال میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 306
کون ٹینس کھیلتی جاتی تھی وجد و حال میں
کورٹ سمٹا جا رہا تھا اک ذرا سی بال میں
جانے کس نے رات کا خاکہ اڑایا اس طرح
چاند کا پیوند ٹانکا اس کی کالی شال میں
ایک کوا پھڑ پھڑا کر جھاڑتا تھا اپنے پر
تھان لٹھے کے بچھے تھے دور تک چترال میں
لوگ مرتے جا رہے تھے ساحلوں کی آس پر
ناؤ آتی جا رہی تھی پانیوں کے جال میں
کوئی پتھر کوئی ٹہنی ہاتھ آتی ہی نہیں
گر رہا ہوں اپنے اندر کے کسی پاتال میں
جن گناہوں کی تمنا تنگ کرتی تھی مجھے
وہ بھی ہیں تحریر میرے نامہء اعمال میں
میں نے یہ منصور دیکھا اس سے مل لینے کے بعد
اپنی آنکھیں بچھ رہی تھیں اپنے استقبال میں
منصور آفاق