ٹیگ کے محفوظات: پائے

آندھی کب آداب اپنائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
آئے اور کہرام مچائے
آندھی کب آداب اپنائے
ہم پہ نگاہ پڑی ہے رُت کی
اُڑتی ریت ہمیں سہلائے
دکھلائیں ہر قد کو بڑھا کے
پچھلے پہر کے بڑھتے سائے
راہی ہمیشہ راہ نکالے
سانپ ہمیشہ پھن پھیلائے
بندہ خوشی خوشی کو پا کر
بچوں ایسی پینگ جُھلائے
وقت کی اَن جانی چالوں سے
کوہ بدن کا کُھرتا جائے
ماجد پائے رواں کیوں ٹھہرے
جب تک سانس نہ رُکنے پائے
ماجد صدیقی

وہی تنکے ہیں جن سے آشیاں ترتیب پائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
یہ ہم بے خانماں زورِ ہوا جن کو اڑا لے گا
وہی تنکے ہیں جن سے آشیاں ترتیب پائے گا
یہاں سرخاب کا پر جس کسی کو بھی لگے گا وہ
کسی ہم جنس سے کیونکر بھلا آنکھیں ملائے گا
کِیا خم ٹھونک کر جس ناتواں پر جبر جابر نے
پئے انصاف اب اُس کو عدالت تک بھی لائے گا
سرِ ابدان موزوں ہو چلی موجوں کی موسیقی
چٹخ کر ٹُوٹنے کی دُھن بھی اب پانی بنائے گا
رعونت کی ہَوا پھنکارتے ہونٹوں سے کہتی تھی
دِیا مشکل سے ہی کُٹیا میں اب کوئی جلائے گا
یہ ہم جو پٹّیاں آنکھوں پہ باندھے گھر سے نکلے ہیں
ہم ایسوں کو کوئی اندھا کنواں ہی لینے آئے گا
اُسے بھیجیں بھی گر ہم کارزارِ مکر میں ماجدؔ
پلٹ کر ایلچی پہلی سی بِپتا ہی سنائے گا
ماجد صدیقی

ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا
ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا
کون کہے بیوپاری، سودا اغوا ہونے والی کا
کن کن سنگدلوں کے آگے کس کس طور چُکائے گا
کاش اُنہیں جتلا پائے تُو، اصل بھی اپنے ناتے کی
جھنڈا جن کی کاروں پر، اے دیس! ترا لہرائے گا
اپنے جیسے ہی لگتے ہیں چَوک پہ بیٹھے راج مجھے
مول گجر دم سیٹھ کوئی جن کا آ کر ٹھہرائے گا
اِترائے گا جب بھی کبھی بیٹھے گا اپنے جیسوں میں
کون ستم گر ہے جو اپنی کرنی پر پچھتائے گا
شور زمینِ فکر ہے جس کی اور سینے میں زور بہت
کرنے کو اچّھا بھی کرے تو، کیا اچّھا کر پائے گا
چھید ہوئے جاتے ہیں جِس کشتی میں، اُس کے کھینے کو
دُور فرازِ عرش سے جانے، کون فرشتہ آئے گا
زورِ ہوا سے ٹہنیاں ٹوٹیں، پات جھڑے جن پیڑوں کے
کون سخی ایسا، جو اِن کے یہ زیور لوٹائے گا
خوشیوں پر رنجیدہ، اِک دُوجے کے رنج پہ جو خو ش ہیں
تو کیا اُن سِفلوں کو ماجدؔ دل کا حال سُنائے گا
ماجد صدیقی

ہم اتنا بھی سوچنے نہ پائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
تم بھُول گئے کہ یاد آئے
ہم اتنا بھی سوچنے نہ پائے
مرتے ہیں ہمیں ترے نہ ہوتے
روتے ہیں ہمیں ترے بِن آئے
گزرے ہیں تری گلی سے لیکن
دل تھامے ہوئے نظر چُرائے
ہم بھی ترے مُدّعی ہوئے تھے
ہم بھی غمِ ہجر ساتھ لائے
ظُلمت سے نظر چُرانے والو
شب، خونِ جگر نہ چاٹ جائے
سہلا نہ سکے اگر تو ماجدؔ
موسم، کوئی تِیر ہی چلائے
ماجد صدیقی

کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 97
یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے،نہ گئے
کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے
اب وہ نیندوں کا اُجڑتا تو نہیں دیکھیں گے
وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے
رات بھر میں نے کُھلی آنکھوں سے سپنا دیکھا
رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چرائے نہ گئے
بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی
عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے
پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آکر
ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے
تیز بارش ہو، گھنا پیڑ ہو، اِک لڑکی ہو
ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے
روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال
چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے
پروین شاکر

تجھ سے میں شرماؤں یا تو مجھ سے شرمائے ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 134
دیکھو محشر میں کس کی بات رکھی جائے ہے
تجھ سے میں شرماؤں یا تو مجھ سے شرمائے ہے
ہجر سے تنگ آنے والے ایسا کیوں گھبرائے ہے
موت سے پہلے کیا تجھے موت آئی جائے ہے
تو نے تڑپایا مجھے دشمن تجھے تڑپائے ہے
میں تو یہ جانوں ہوں جو جیسے کرے ہے پائے ہے
میں کسی سے بولوں چالوں بھی تو ہے میری خطا
کیا بگاڑوں ہوں تری محفل کا کیوں اٹھوائے ہے
ناصحا مجھ سے نہ کہیو یار کے گھر کو نہ جا
میں تری سمجھوں ہوں باتیں کیوں مجھے سمجھائے ہے
غیر کے کہنے پہ مت آ، ٹک مری حالت تو دیکھ
کیا تری محفل سے اٹھوں دل تو بیٹھا جائے ہے
اور بھرنی ہیں تصور میں ابھی رنگینیاں
دردِ دل تھم جا کہ اب تصویر بگڑی جائے ہے
کِن خیالوں سے یہ کاٹے ہے قمر فرقت کی رات
روتا بھی جائے ہے اور تارے بھی گنتا جائے ہے
قمر جلالوی

یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 114
لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتے
یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے
کسی محفل میں بھی ایسے چلن پائے نہیں جاتے
کہ بلوائے ہوئے مہماں اٹھوائے نہیں جاتے
زمیں پر پاؤں رکھنے دے انھیں اے نازِ یکتائی
کہ اب نقشِ قدم ان کے کہیں پائے نہیں جاتے
تجھے اے دیدہ فکر کیوں ہے دل کے زخموں کی
کہ بے شبنم کے بھی یہ پھول مرجھائے نہیں جاتے
جنوں والوں کو کیا سمجھاؤ گے یہ وہ زمانہ ہے
خِرد والے خِرد والوں سے سمجھائے نہیں جاتے
وقارِ عشق یوں بھی شمع کی نظروں میں کچھ کم ہے
پتنگے خود چلے آتے ہیں بلوائے نہیں جاتے
فضیلت ہے یہ انساں کی وہاں تک پہنچاتا ہے
فرشتے کیا فرشتوں کے جہاں سائے نہیں جاتے
بس اتنی بات پر چھینی گئی ہے رہبری ہم سے
کہ ہم سے کارواں منزل پہ لٹوائے نہیں جاتے
قمر کی صبح پوچھئے سورج کی کرنوں سے
ستارے تو گوآ ہی کے لیے آئے نہیں جاتے
قمر جلالوی

بگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گل

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 63
بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گل
بگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گل
ہنگامِ غش جو غیر کو اس نے سنگھائے گل
جنت میں لے چلی مری جاں کو ہوائے گل
ایما ہے بعدِ مرگ بھی ہم بے وفا رہے
اس واسطے مزار پہ میرے چڑھائے گل
مرتی ہیں گل کے نام پہ ہی بلبلیں کہ اب
پھرتی ہیں ساتھ ساتھ مرے جب سے کھائے گل
کھٹکوں عدو کی آنکھ میں تا بعدِ مرگ بھی
کانٹے مرے مزار پہ رکھنا بجائے گل
کس کس طرح سے کھوئے گئے غیر کیا کہوں
روزِ جزا بھی سینے پہ میرے جو پائے گل
جلتی ہے تیرے حسنِ جہاں سوز سے بہار
نکلیں گے شعلے خاکِ چمن سے بجائے گل
آخر دو رنگی اس گلِ رعنا پہ کھل گئ
لوگوں کو دیکھ کر جو عدو نے چھپائے گل
عاشق سے پہلے راہِ محبت میں جان دے
کیوں کر نہ عندلیب کرے جاں فدائے گل
خاموش عندلیب، کہ طاقت نہیں رہی
ہیں چاک پردے کان کے مثلِ قبائے گل
شاید دکھانے لائے گا اس کو کہ غیر نے
بستر پہ میرے کانٹوں کے بدلے بچھائے گل
جس گل میں ہے ادا وہ چمن میں بھلا کہاں
اے بلبلو، تمہیں کو مبارک ادائے گل
میرا انہیں کو غم ہے کہ بلبل کی آہ پر
کرتا ہے کون چاک گریباں، سوائے گل
جنت میں پہنچیں بلبلیں، پروانے جل گئے
اب کون شمع گور پر اور کون لائے گل
اک گل کا شوق تھا سبب اپنی وفات کا
پھولوں کے دن مرے رفقا نے منگائے گل
لکھی یہ ہم نے وہ غزلِ تازہ شیفتہ
ہر شعر جس میں داغ دہِ دستہ ہائے گل
مصطفٰی خان شیفتہ

پروانے کو پسند نہیں پر سوائے شمع

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 57
خورشید کو اگرچہ نہ پہنچے ضیائے شمع
پروانے کو پسند نہیں پر سوائے شمع
اس تیرہ روزگار میں مجھ سا جگر گداز
مشعل جلا کے ڈھونڈے اگر تو نہ پائے شمع
پروانے کیا خجل ہوئے دیکھا جو صبح کو
تھا شب کو اس کی بزم میں خورشید جائے شمع
اُس رشکِ شمع و گُل کی ہے کچھ آب و تاب اور
دیکھے ہیں جلوہ ہائے گل و شعلہ ہائے شمع
دیتی ہے اور گرمئ پروانہ داغِ اشک
شب ہائے ہجر میں کوئی کیونکر جلائے شمع
کیا حاجت آفتاب کے گھر میں چراغ کی
ہے حکم شب کو بزم میں کوئی نہ لائے شمع
اُس لعلِ بے بہا سے کہاں تابِ ہمسری
روشن ہے سب پہ قیمتِ گُل اور بہائے شمع
خورشید جس کے جلوہ سے ہو شمعِ صبح دم
کیا ٹھہرے اس کے سامنے نور و ضیائے شمع
اس تیرہ شب میں جائیں گے کیونکر عدو کے گھر
میرا رقیب وہ ہے جو ان کو دکھائے شمع
آتے ہیں وہ جو گور پہ میری تو بہرِ زیب
کوئی نہ پھول لائے نہ کوئی منگائے شمع
گُل پر لگا کے آپ سے پہنچیں گے بے طلب
آئے گی اپنے پاؤں سے یاں بن بلائے شمع
ڈر ہے اُٹھا نہ دے کہیں وہ بزمِ عیش سے
کیا تاب ہے کہ شیفتہ آنسو بہائے شمع
مصطفٰی خان شیفتہ

رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 46
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
سادگی، بانکپن، اغماز، شرارت، شوخی
تُو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
مسکراتے ہوئے وہ مجمعِ اغیار کے ساتھ
آج یوں بزم میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
انہی قدموں نے تمھارے انہی قدموں کی قسم
خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے
تم نہیں جانتے اب تک یہ تمھارے انداز
وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے
داغِ وارفتہ کو ہم آج ترے کوچے سے
اس طرح کھینچ کہ لائے ہیں کہ جی جانتا ہے
داغ دہلوی

میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 22
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت
میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت
کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کرا گرا ہی نہیں
اس آسماں نے ہوا میں قدم جمائے بہت
نہ جانے رت کا تصرف تھا یا نظر کا فریب
کلی وہی تھی مگر رنگ جھلملائے بہت
ہوا کا رخ ہی اچانک بدل گیا ورنہ
مہک کے قافلے صحرا کی سمت آئے بہت
یہ کائنات ہے میری ہی خاک کا ذرہ
میں اپنے دشت سے گزارا تو بھید پائے بہت
جو موتیوں کی طلب نے کبھی اداس کیا
تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بہت
بس ایک رات ٹھہرنا ہے کیا گلہ کیجے
مسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت
جمی رہے گی نگاہوں پہ تیرگی دن بھر
کہ رات خواب میں تارے اتر کے آئے بہت
شکیبؔ کیسی اڑان، اب وہ پر ہی ٹوٹ گئے
کہ زیرِ دام جب آئے تھے ، پھڑپھڑائے بہت
شکیب جلالی

روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 165
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں؟
دَیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر @ ہمیں اُٹھائے کیوں؟
جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز
آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں؟
دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہ
تیرا ہی عکس رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں؟
قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟
حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرم
اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں؟
واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضع
راہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟
ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی
جس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟
غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہائے ہائے کیوں؟
@ کوئی۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 132
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل
بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل
آزادئ نسـیم مبارک کہ ہـر طـرف
ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دامِ ہوائے گُل
جو تھا ، سو موجِ رنگ کے دھوکے میں مر گیا
اے وائے ، نالۂ لبِ خونیں نوائے گُل !
خوش حال اُس حریفِ سیہ مست کا، کہ جو
رکھتا ہو مثلِ سایۂ گُل ، سر بہ پائے گُل
ایجاد کرتی ہے اُسے تیرے لیے بہار
میرا رقیب ہے نَفَسِ عطر سائے گُل
شرمندہ رکھتے ہیں مجھے بادِ بہار سے
مینائے بے شراب و دلِ بے ہوائے گُل
سطوت سے تیرے جلوۂ حُسنِ غیور کی
خوں ہے مری نگاہ میں رنگِ ادائے گُل
تیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
بے اختیار دوڑے ہے گُل در قفائے گُل
غالب ! مجھے ہے اُس سے ہم آغوشی آرزو
جس کا خیال ہے گُلِ جیبِ قبائے گُل
مرزا اسد اللہ خان غالب

پر خود گم ایسا میں نہیں جو سہل مجھ کو پائے وہ

دیوان ششم غزل 1868
ہر چند جذب عشق سے تشریف یاں بھی لائے وہ
پر خود گم ایسا میں نہیں جو سہل مجھ کو پائے وہ
خوبی و رعنائی ادھر بدحالی و خواری ادھر
اے وائے ہم اے وائے ہم اے ہائے وہ اے ہائے وہ
مارا ہوا چاہت کا جو آوارہ گھر سے اپنے ہو
حیراں پریشاں پھر کے پھر کیا جانے کیدھر جائے وہ
جی کتنا محو و رفتہ کا جو ہو طرف دیکھے تجھے
تو کج کرے ابرو اگر پل مارتے مرجائے وہ
الفت نہیں مجھ سے اسے کلفت کا میری غم نہیں
پاے غرض ہو درمیاں تو چل کے یاں بھی آئے وہ
عاشق کا کتنا حوصلہ یہ معجزہ ہے عشق کا
جو خستہ جاں پارہ جگر سو داغ دل پر کھائے وہ
مشکل عجائب میر ہے دیدار جوئی یار کی
دیکھے کوئی کیا اس کو جو آنکھیں لڑے شرمائے وہ
میر تقی میر

ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل

دیوان پنجم غزل 1671
صد ہزار افسوس آکر خالی پائی جاے گل
ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل
بے نصیبی سے ہوئے ہم موسم گل میں اسیر
تھے نہ پیشانی میں اپنے سجدہ ہاے پاے گل
دعوی حسن سراپا تھا پہ نازاں تجھ کو دیکھ
شاخیں پر گل جھک گئیں یعنی بہت شرمائے گل
کیا گل مہتاب و شبو کیا سمن کیا نسترن
اس حدیقے میں نہ نقش پا سے اس کے پائے گل
جیتے جی تو داغ ہی رکھا موئے پر کیا حصول
گور پر دلسوزی سے جوں شمع سر رکھ لائے گل
بے دلی بلبل نہ کر تاثیر میں گو تو ہے داغ
خوش زبان عشق کی جب ہم نے بھر کے کھائے گل
اس چمن میں جلوہ گر جس حسن سے خوباں ہیں میر
موسم گل میں کہیں اس خوبی سے کب آئے گل
میر تقی میر

اور مجلس میں جو رہیے دیکھ تو شرمائے وہ

دیوان سوم غزل 1251
کیا کریں نیچی نظر کرنے سے غصہ کھائے وہ
اور مجلس میں جو رہیے دیکھ تو شرمائے وہ
کس طرح تڑپے ہے کیا کیا جی گھٹا جاتا ہے ہائے
ساتھ اس کے دل لگا ہو جس کسو کا وائے وہ
کیا سلوک اس بے وفا کے نقل کریے ہم نشیں
منتیں کریے تو یاں تک گھر سے چل کر آئے وہ
لطف سے لبریز ہے اس کام جاں کا سب بدن
مختلط ہوجائے ہم سے جو کبھو تو ہائے وہ
بے خودی ہے جی چلا جاتا ہے ہوں صاحب فراش
بے خبر اے کاش بالیں پر مری آجائے وہ
ہم نہیں ملتے وگرنہ یار ہے تا قتل ساتھ
لوہو پی جاوے ہمارا ہم کو اب جو پائے وہ
میر کو واشد نہیں ہے مقصد اس کا اور ہے
عشق سے لڑکوں کے دل کو کب تلک بہلائے وہ
میر تقی میر

یا لوہو اشک خونی سے منھ پر بہائے گا

دیوان سوم غزل 1062
وہ دل نہیں رہا ہے تعب جو اٹھائے گا
یا لوہو اشک خونی سے منھ پر بہائے گا
اب یہ نظر پڑے ہے کہ برگشتہ وہ مژہ
کاوش کرے گی ٹک بھی تو سنبھلا نہ جائے گا
کھینچا جو میں وہ ساعد سیمیں تو کہہ اٹھا
بس بس کہیں ہمیں ابھی صاحب غش آئے گا
ریجھے تو اس کے طور پہ مجلس میں شیخ جی
پھر بھی ملا تو خوب سا ان کو رجھائے گا
جلوے سے اس کے جل کے ہوئے خاک سنگ و خشت
بیتاب دل بہت ہے یہ کیا تاب لائے گا
ہم رہ چکے جو ایسے ہی غم میں کھپا کیے
معلوم جی کی چال سے ہوتا ہے جائے گا
اڑ کر لگے ہے پائوں میں زلف اس کی پیچ دار
بازی نہیں یہ سانپ جو کوئی کھلائے گا
اڑتی رہے گی خاک جنوں کرتی دشت دشت
کچھ دست اگر یہ بے سر و ساماں بھی پائے گا
درپے ہے اب وہ سادہ قراول پسر بہت
دیکھیں تو میر کے تئیں کوئی بچائے گا
میر تقی میر

چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے ووہیں آئے گئے

دیوان اول غزل 615
کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے
چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے ووہیں آئے گئے
اٹھے نقاب جہان سے یارب جس سے تکلف بیچ میں ہے
جب نکلے اس راہ سے ہوکر منھ تم ہم سے چھپائے گئے
کب کب تم نے سچ نہیں مانیں جھوٹی باتیں غیروں کی
تم ہم کو یوں ہی جلائے گئے وے تم کو ووہیں لگائے گئے
صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس
کیا کیا فتنے سرجوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے
اللہ رے یہ دیدہ درائی ہوں نہ مکدر کیونکے ہم
آنکھیں ہم سے ملائے گئے پھر خاک میں ہم کو ملائے گئے
آگ میں غم کی ہو کے گدازاں جسم ہوا سب پانی سا
یعنی بن ان شعلہ رخوں کے خوب ہی ہم بھی تائے گئے
ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی حد ایک آخر ہوتی ہے
کشتے اس کی تیغ ستم کے گورتئیں کب لائے گئے
خضر جو مل جاتا ہے گاہے آپ کو بھولا خوب نہیں
کھوئے گئے اس راہ کے ورنہ کاہے کو پھر پائے گئے
مرنے سے کیا میر جی صاحب ہم کو ہوش تھے کیا کریے
جی سے ہاتھ اٹھائے گئے پر اس سے دل نہ اٹھائے گئے
میر تقی میر

ہونٹوں پہ جان آئی پر آہ وے نہ آئے

دیوان اول غزل 549
کل وعدہ گاہ میں سے جوں توں کے ہم کو لائے
ہونٹوں پہ جان آئی پر آہ وے نہ آئے
زخموں پہ زخم جھیلے داغوں پہ داغ کھائے
یک قطرہ خون دل نے کیا کیا ستم اٹھائے
اس کی طرف کو ہم نے جب نامہ بر چلائے
ان کا نشاں نہ پایا خط راہ میں سے پائے
خوں بستہ جب تلک تھیں در یا رکے کھڑے تھے
آنسو گرے کروڑوں پلکوں کے ٹک ہلائے
اس جنگ جو کے زخمی اچھے نہ ہوتے دیکھے
گل جب چمن میں آئے وے زخم سب دکھائے
بڑھتیں نہیں پلک سے تا ہم تلک بھی پہنچیں
پھرتی ہیں وے نگاہیں پلکوں کے سائے سائے
پر کی بہار میں جو محبوب جلوہ گر تھے
سو گردش فلک نے سب خاک میں ملائے
ہر قطعۂ چمن پر ٹک گاڑ کر نظر کر
بگڑیں ہزار شکلیں تب پھول یہ بنائے
یک حرف کی بھی مہلت ہم کو نہ دی اجل نے
تھا جی میں آہ کیا کیا پر کچھ نہ کہنے پائے
چھاتی سراہ ان کی پائیز میں جنھوں نے
خار و خس چمن سے ناچار دل لگائے
آگے بھی تجھ سے تھا یاں تصویر کا سا عالم
بے دردی فلک نے وے نقش سب مٹائے
مدت ہوئی تھی بیٹھے جوش و خروش دل کو
ٹھوکر نے اس نگہ کی آشوب پھر اٹھائے
اعجاز عشق ہی سے جیتے رہے وگرنہ
کیا حوصلہ کہ جس میں آزار یہ سمائے
دل گر میاں انھوں کی غیروں سے جب نہ تب تھیں
مجلس میں جب گئے ہم غیرت نے جی جلائے
جیتے تو میر ہر شب اس طرز عمر گذری
پھر گور پر ہماری لے شمع گو کہ آئے
میر تقی میر

دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے

دیوان اول غزل 500
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
وہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے تو
زخم چھاتی کے سب دکھائے تھے
اب جہاں آفتاب میں ہم ہیں
یاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے
کچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نے
کس توقع پہ دل لگائے تھے
فرصت زندگی سے مت پوچھو
سانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے
میر صاحب رلا گئے سب کو
کل وے تشریف یاں بھی لائے تھے
میر تقی میر

پھر اک کرن اسی کوچے میں لے کے جائے مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 292
پھر ایک جھونکا وہاں سے لگا کے لائے مجھے
پھر اک کرن اسی کوچے میں لے کے جائے مجھے
صدا کی لہر کسی اور شہر تک لے جائے
کچھ اور بات ہو کچھ اور یاد آئے مجھے
اسی کا خانۂ ویراں، اسی کا طاقِ ابد
میں اک چراغ ہوں چاہے جہاں جلائے مجھے
یہ اس کا دل ہے کہ گم گشتگاں کی بستی ہے
کہاں چھپا ہوں کہ وہ بھی نہ ڈھونڈ پائے مجھے
اب اس کے آگے تو گرداب ہے خموشی کا
میں لفظ بھول رہا ہوں کوئی بچائے مجھے
عرفان صدیقی

دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 191
ہم تری بزم سے بازار میں جب لائے گئے
دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے
ہائے یہ شوق کہ ہر لب پہ تھا پیغام سفر
وائے یہ وہم کہ ہر گام پہ ٹھہرائے گئے
گرچہ ہر بزم میں اک قصہ ترا چلتا تھا
پھر بھی کچھ قصّے کسی طرح نہ دہرائے گئے
روز ہم اک نئے احساس کی تصویر بنے
روز ہم اک نئی دیوار میں چنوائے گئے
جس جگہ کھوئے ہیں اپنوں کی تمنا میں ہم
وہیں غیروں کی روایات میں ہم پائے گئے
کیا وفا کرکے ہوئے سب کی نظر میں مجرم
ایک عرصہ ترے کوچے میں نہ ہم آئے گئے
ہر قدم حلقۂ صد دام چمن تھا باقیؔ
ہار زنجیر کی صورت کبھی پہنائے گئے
باقی صدیقی