ٹیگ کے محفوظات: پائی

نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 39
تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب
نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب
شکوہ مجھے نہ ہو جو مکافات حد سے ہو
واں صلح ایک دم ہے لڑائی تمام شب
یہ ڈر رہا کہ سوتے نہ پائیں کہیں مجھے
وعدے کی رات نیند نہ آئی تمام شب
سچ تو یہ ہے کہ بول گئے اکثر اہلِ شوق
بلبل نے کی جو نالہ سرائی تمام شب
دم بھر بھی عمر کھوئی جو ذکرِ رقیب میں
کیفیتِ وصال نہ پائی تمام شب
تھوڑا سا میرے حال پہ فرما کر التفات
کرتے رہے وہ اپنی بڑائی تمام شب
وہ آہ، تار و پود ہو جس کا ہوائے زلف
کرتی ہے عنبری و صبائی تمام شب
وہ صبح جلوہ، جلوہ گرِ باغ تھا جو رات
مرغِ سحر نے دھوم مچائی تمام شب
افسانے سے بگاڑ ہے، ان بن ہے خواب سے
ہے فکرِ وصل و ذکرِ جدائی تمام شب
جس کی شمیمِ زلف پہ میں غش ہوں شیفتہ
اس نے شمیمِ زلف سنگھائی تمام شب
مصطفٰی خان شیفتہ

گر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 31
تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر
گر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر
نہ کہوں گا نہ کہوں گا نہ کہوں گا ہر گز
جا کے اُس بزم میں شامت میری آئی کیوں ‌کر
کھُل گئی بات جب اُن کی تو وہ یہ پوچھتے ہیں
منہ سے نکلی ہوئی ہوتی ہےَپرائی کیوں کر
داد خواہوں سے وہ کہتے ہیں‌کہو ہم بھی تو سنیں
دو گے تم حشر میں سب مل کے دُہائی کیوں کر
وہ یہاں آئیں وہاں‌غیر کا گھر ہو برباد
اس طرح سے ہو صفائی میں‌صفائی کیوں کر
آئینہ دیکھ کے وہ کہنے لگے آپ ہی آپ
ایسے اچھے کی کرے کوئی بُرائی کیوں کر
اُس نے صدقے میں‌کیئے آج ہزاروں آزاد
دیکھئے ہوتی ہے عاشق کی رہائی کیوں کر
داغ کو مہر کہا اشک کو دریا تم نے
اور پھر کرتے ہیں چھوٹوں‌ کی برائی کیوں کر
داغ کل تک تو دعا آپ کی مقبول نہ تھی
آج منہ مانگی مراد آپ نے پائی کیوں‌ کر
داغ دہلوی

مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 232
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے
یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے
وہ شے جو صرف ہندوستان کی تھی
وہ پاکستان لائی جا رہی ہے
کہاں کا دین۔۔کیسا دین۔۔کیا دین
یہ کیا گڑ بڑ مچائی جا رہی ہے
شعورِ آدمی کی سر زمیں تک
خدا کی اب دُہائی جا رہی ہے
بہت سی صورتیں منظر میں لا کر
تمنا آزمائی جا رہی ہے
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
نہیں معلوم کیا سازش ہے دل کی
کہ خود ہی مات کھائی جا رہی ہے
***
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے
ہے ویرانی کی دھوپ اور ایک آنگن
اور اس پر لُو چلائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
سُن اے سورج جدائی موسموں کے
میری کیاری جلائی جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی، تیرے لوگ
تو پھر تُو کیوں سجائی جا رہی ہے
خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
جون ایلیا

زندگی حالتِ جدائی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 208
لمحے لمحے کی نارسائی ہے
زندگی حالتِ جدائی ہے
مردِ میدان ہوں اپنی ذات کا میں
میں نے سب سے شکست کھائی ہے
اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے
اب یہ صورت ہے جانِ جاں کہ تجھے
بھولنے میں مری بھلائی ہے
خود کو بھولا ہوں، اُس کو بھولا ہوں
عمر بھر کی یہی کمائی ہے
میں ہنر مندِ رنگ ہوں میں نے
خون تھوکا ہے داد پائی ہے
جانے یہ تیرے وصل کے ہنگام
تیری فرقت کہاں سے آئی ہے
جون ایلیا

بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 83
نہ ہو حسنِ تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
ہوس گستاخئیِ آئینہ تکلیفِ نظر بازی
بہ جیبِ آرزو پنہاں ہے حاصل دلربائی کا
نظر بازی طلسمِ وحشت آبادِ پرستاں ہے
رہا بیگانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
نہ پایا درد مندِ دورئیِ یارانِ یک دل نے
سوادِ خطِ پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
اسدؔ! یہ عجز و بے سامانئِ فرعون توَام ہے
جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 81
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے ‘شرمِ نا رسائی’ کا
بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا
نہ ہو’ حسنِ تماشا دوست’ رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آسا
چراغِ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
نہ مارا جان کر بے جرم، غافل!@ تیری گردن پر
رہا مانند خونِ بے گنہ حق آشنائی کا
تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
وہی اک بات ہے جو یاں نفَس واں نکہتِ گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
دہانِ ہر” بتِ پیغارہ جُو”، زنجیرِ رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
نہ دے نامے کو اتنا طول غالب، مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا
@نسخۂ حمیدیہ، نظامی، حسرت اور مہر کے نسخوں میں لفظ ’قاتل‘ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 42
پھر اس انداز سے بہار آئی
کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
دیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاک
اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
رو کشِ سطحِ چرخِ مینائی
سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی
بن گیا روئے آب پر کائی
سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے
چشمِ نرگس کو دی ہے بینائی
ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
بادہ نوشی ہے باد پیمائی
کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالب
شاہِ دیں دار@ نے شفا پائی
@اصل نسخے میں املا ہے ’دیندار‘ جب کہ تقطیع میں نون غنہ آتا ہے اس لئے تلفّظ کی وضاحت کے لئے یہاں ’دیں دار‘ لکھا گیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بو کہ پھر کر بہار آئی ہے

دیوان پنجم غزل 1780
گل قفس تک نسیم لائی ہے
بو کہ پھر کر بہار آئی ہے
عشق دریا ہے ایک لنگردار
تہ کسو نے بھی اس کی پائی ہے
وہ نہ شرماوے کب تلک آخر
دوستی یاری آشنائی ہے
وے نہیں تو انھوں کا بھائی اور
عشق کرنے کی کیا منائی ہے
بے ستوں کوہکن نے کیا توڑا
عشق کی زور آزمائی ہے
بھیڑیں ٹلتی ہیں اس کے ابرو ہلے
چلی تلوار تو صفائی ہے
لڑکا عطار کا ہے کیا معجون
ہم کو ترکیب اس کی بھائی ہے
کج روی یار کی نہیں جاتی
یہی بے طور بے ادائی ہے
آنے کہتا ہے پھر نہیں آتا
یہی بدعہدی بے وفائی ہے
کر چلو نیکی اب تو جس تس سے
شاید اس ہی میں کچھ بھلائی ہے
برسوں میں میر سے ملے تو کہا
اس سے پوچھو کہ یہ کجائی ہے
میر تقی میر

خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک

دیوان پنجم غزل 1662
دل کی تڑپ نے ہلاک کیا ہے دھڑکے نے اس کے اڑائی خاک
خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک
صورت کے ہم آئینے کے سے ظاہر فقر نہیں کرتے
ہوتے ساتے روتے پاتے ان نے منھ کو لگائی خاک
پیچ و تاب سے خاک بھی میری جیسے بگولا پھرنے لگی
سر میں ہوا ہی اس کے بہت تھی تب تو ہوئی ہے ہوائی خاک
اور غبار کسو کے دل کا کس انداز سے نکلے آہ
روے فلک پر بدلی سی تو ساری ہماری چھائی خاک
نعمت رنگارنگ حق سے بہرہ بخت سیہ کو نہیں
سانپ رہا گو گنج کے اوپر کھانے کو تو کھائی خاک
اپنے تئیں گم جیسا کیا تھا یاں سر کھینچ کے لوگوں نے
عالم خاک میں ویسی ہی اب ڈھونڈی ان کی نہ پائی خاک
انس نہیں انسان سے اچھا عشق و جنوں اک آفت ہے
فرق ہوئے کیا چھوڑے ہے آدم میں اس کی جدائی خاک
ہوکے فقیر گلی میں اس کی چین بہت سا پایا ہم
لے کے سرہانے پتھر رکھا جاے فرش بچھائی خاک
قلب گداز ہیں جن کے وے بھی مٹی سونا کرتے ہیں
میر اکسیر بنائی انھوں نے جن کی جہاں سے اٹھائی خاک
میر تقی میر

میل دلی اس خودسر سے ہے جو پایہ ہے خدائی کا

دیوان پنجم غزل 1536
عشق تو بن رسوائی عالم باعث ہے رسوائی کا
میل دلی اس خودسر سے ہے جو پایہ ہے خدائی کا
ہے جو سیاہی جرم قمر میں اس کے سوا کچھ اور نہیں
داغ ہے مہ کا آئینہ اس سطح رخ کی صفائی کا
نزع میں میری حاضر تھا پر آنکھ نہ ایدھر اس کی پڑی
داغ چلا ہوں اس سے جہاں میں یار کی بے پروائی کا
کوشش میں سر مارا لیکن در پہ کسی کے جا نہ سکا
تن پہ زبان شکر ہے ہر مو اپنی شکستہ پائی کا
رنگ سراپا اس کا ہوا لے آگے دل خوں کرتی رہی
اب ہے جگر یک لخت افسردہ اس کے رنگ حنائی کا
آنا سن ناداری سے ہم نے جی دینا ٹھہرایا ہے
کیا کہیے اندیشہ بڑا تھا اس کی منھ دکھلائی کا
کوفت میں ہے ہر عضو اس کا جوں عضو از جا رفتہ میر
جو کشتہ ہے ظلم رسیدہ اس کے درد جدائی کا
میر تقی میر

یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے

دیوان چہارم غزل 1495
حال نہیں ہے دل میں مطلق شور و فغاں رسوائی ہے
یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے
آنکھیں مل کر کھولیں ان نے عالم میں آشوب اٹھا
بال کھلے دکھلائی دیا سو ہر کوئی سودائی ہے
ڈول بیاں کیا کوئی کرے اس وعدہ خلاف کی دیہی کا
ڈھال کے سانچے میں صانع نے وہ ترکیب بنائی ہے
نسبت کیا ان لوگوں سے ہم کو شہری ہیں دیوانے ہم
ہے فرہاد اک آدم کوہی مجنوں اک صحرائی ہے
ہے پتھر سا چھاتی میں میری کثرت غم کی حیرت سے
کیا کہیے پہلو سے دل کے سخت اذیت پائی ہے
باغ میں جاکر ہم جور ہے سو اور دماغ آشفتہ ہوا
کیا کیا سر پہ ہمارے آ کر بلبل شب چلائی ہے
کیسا کیسا عجز ہے اپنا کیسے خاک میں ملتے ہیں
کیا کیا ناز و غرور اس کو ہے کیا کیا بے پروائی ہے
قصہ ہم غربت زدگاں کا کہنے کے شائستہ نہیں
بے صبری کم پائی ہے پھر دور اس سے تنہائی ہے
چشمک چتون نیچی نگاہیں چاہ کی تیری مشعر ہیں
میر عبث مکرے ہے ہم سے آنکھ کہیں تو لگائی ہے
میر تقی میر

آسماں سے زمین نپوائی

دیوان سوم غزل 1310
بات کیا آدمی کی بن آئی
آسماں سے زمین نپوائی
چرخ زن اس کے واسطے ہے مدام
ہو گیا دن تمام رات آئی
ماہ و خورشید و ابر و باد سبھی
اس کی خاطر ہوئے ہیں سودائی
کیسے کیسے کیے تردد جب
رنگ رنگ اس کو چیز پہنچائی
اس کو ترجیح سب کے اوپر دی
لطف حق نے کی عزت افزائی
حیرت آتی ہے اس کی باتیں دیکھ
خودسری خودستائی خودرائی
شکر کے سجدوں میں یہ واجب تھا
یہ بھی کرتا سدا جبیں سائی
سو تو اس کی طبیعت سرکش
سر نہ لائی فرو کہ ٹک لائی
میر ناچیز مشت خاک اللہ
ان نے یہ کبریا کہاں پائی
میر تقی میر

یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی

دیوان سوم غزل 1272
کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی
یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی
تعارف کیا رہا اہل چمن سے
ہوئی اک عمر میں اپنی رہائی
کہاں کا بے ستوں فرہاد کیسا
یہ سب تھی عشق کی زورآزمائی
جفا اٹھتی وفا جو عمر کرتی
سو کی اس رفتنی نے بے وفائی
کہیں سو کیا کہیں سر پر ہمارے
قیامت شامت اعمال لائی
گیا اس ترک کی آمد کو سن جی
تھمی ہم سے نہ اک دم بھی اوائی
موافق ٹک ہو تو تو پھر جہاں میں
مثل ہو میری تیری آشنائی
بغیر از چہرئہ مہتابی یار
ہمارے منھ پہ چھوٹے ہے ہوائی
گئی ٹکڑے ہو دل کی آرسی تو
ہوئی صدچند اس کی خودنمائی
فراق یار کو آساں نہ سمجھو
کہ جان و تن کی مشکل ہے جدائی
پھر آنا کعبے سے اپنا نہ ہو گا
اب اس کے گھر کی ہم نے راہ پائی
ہوئے ہیں درد دل سے میر کے تنگ
پھر اس جوگی نے یاں دھونی لگائی
میر تقی میر

جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی

دیوان سوم غزل 1252
تدبیر غم دل کی بستی میں نہ ٹھہرائی
جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی
خواہش ہو جسے دل کی دل دوں اسے اور سر بھی
میں نے تو اسی دل سے تصدیع بہت پائی
بے پردہ نہ ہونا تھا اسرار محبت کو
عاشق کشی ہے جب سے ہے عشق کی رسوائی
گھر دل کا بہت چھوٹا پر جاے تعجب ہے
عالم کو تمام اس میں کس طرح ہے گنجائی
گھر بار لٹایا جب تب وہ سہی قد آیا
مفلوک ہوئے اب ہم کر خرچ یہ بالائی
خوبی سے ندان اس کی سب صورتیں یاں بگڑیں
وہ زلف بنی دیکھی سب بن گئے سودائی
کیا عہدہ برآئی ہو اس گل کی دورنگی سے
ہر لحظہ ہے خودرائی ہر آن ہے رعنائی
عاشق کی جسے ہووے کچھ قدر نہیں پیدا
جیتا نہ رہا اب تک مجنوں ہی کو موت آئی
آزار بہت کھینچے اب میر توکل ہے
کھینچی نہ گئی ہم سے ہر ایک کی مرزائی
میر تقی میر

ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے

دیوان دوم غزل 1047
کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے
لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر
شوق نے بات کیا بڑھائی ہے
آرزو اس بلند و بالا کی
کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے
دیدنی ہے شکستگی دل کی
کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
ہے تصنع کہ لعل ہیں وے لب
یعنی اک بات سی بنائی ہے
دل سے نزدیک اور اتنا دور
کس سے اس کو کچھ آشنائی ہے
بے ستوں کیا ہے کوہکن کیسا
عشق کی زور آزمائی ہے
جس مرض میں کہ جان جاتی ہے
دلبروں ہی کی وہ جدائی ہے
یاں ہوئے خاک سے برابر ہم
واں وہی ناز و خودنمائی ہے
ایسا موتیٰ ہے زندئہ جاوید
رفتۂ یار تھا جب آئی ہے
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میر
کیا دوانے نے موت پائی ہے
میر تقی میر

اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی

دیوان دوم غزل 961
مطرب سے غزل میر کی کل میں نے پڑھائی
اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی
اس مطلع جاں سوز نے آ اس کے لبوں پر
کیا کہیے کہ کیا صوفیوں کی چھاتی جلائی
خاطر کے علاقے کے سبب جان کھپائی
اس دل کے دھڑکنے سے عجب کوفت اٹھائی
گو اس رخ مہتابی سے واں چاندنی چھٹکی
یاں رنگ شکستہ سے بھی چھٹتی ہے ہوائی
ہر بحر میں اشعار کہے عمر کو کھویا
اس گوہر نایاب کی کچھ بات نہ پائی
بھیڑیں ٹلیں اس ابروے خم دار کے ہلتے
لاکھوں میں اس اوباش نے تلوار چلائی
دل اور جگر جل کے مرے دونوں ہوئے خاک
کیا پوچھتے ہو عشق نے کیا آگ لگائی
قاصد کے تصنع نے کیا دل کے تئیں داغ
بیتاب مجھے دیکھ کے کچھ بات بنائی
چپکی ہے مری آنکھ لب لعل بتاں سے
اس بات کے تیں جانتی ہے ساری خدائی
میں دیر پہنچ کر نہ کیا قصد حرم پھر
اپنی سی جرس نے کی بہت ہرزہ درائی
فریاد انھیں رنگوں ہے گلزار میں ہر صبح
بلبل نے مری طرز سخن صاف اڑائی
مجلس میں مرے ہوتے رہا کرتے ہو چپکے
یہ بات مری ضد سے تمھیں کن نے بتائی
گردش میں جو ہیں میر مہ و مہر و ستارے
دن رات ہمیں رہتی ہے یہ چشم نمائی
میر تقی میر

پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات

دیوان دوم غزل 784
ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات
پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات
جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کر
تس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات
لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سے
رفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات
کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیک
وہ آگیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات
اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشنا
واں تونے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات
بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرے
پوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات
بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھے
کچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات
عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شب
یہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات
اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقار
سو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات
اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو
جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات
خط لکھتے لکھتے میر نے دفتر کیے رواں
افراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات
میر تقی میر

نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا

دیوان دوم غزل 721
طریق خوب ہے آپس میں آشنائی کا
نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا
ہوا ہے کنج قفس ہی کی بے پری میں خوب
کہ پر کے سال تلک لطف تھا رہائی کا
یہیں ہیں دیر و حرم اب تو یہ حقیقت ہے
دماغ کس کو ہے ہر در کی جبہہ سائی کا
نہ پوچھ مہندی لگانے کی خوبیاں اپنی
جگر ہے خستہ ترے پنجۂ حنائی کا
نہیں جہان میں کس طرف گفتگو دل سے
یہ ایک قطرئہ خوں ہے طرف خدائی کا
کسو پہاڑ میں جوں کوہکن سر اب ماریں
خیال ہم کو بھی ہے بخت آزمائی کا
بجا رہا نہ دل شیخ شور محشر سے
جگر بھی چاہے ہے کچھ تھامنا اوائی کا
رکھا ہے باز ہمیں در بدر کے پھرنے سے
سروں پہ اپنے ہے احساں شکستہ پائی کا
ملا کہیں تو دکھا دیں گے عشق کا جنگل
بہت ہی خضر کو غرہ ہے رہنمائی کا
نہ انس مجھ سے ہوا اس کو میں ہزار کہا
جگر میں داغ ہے اس گل کی بیوفائی کا
جہاں سے میر ہی کے ساتھ جانا تھا لیکن
کوئی شریک نہیں ہے کسو کی آئی کا
میر تقی میر

اے مری موت تو بھلی آئی

دیوان اول غزل 452
ہو گئی شہر شہر رسوائی
اے مری موت تو بھلی آئی
یک بیاباں برنگ صوت جرس
مجھ پہ ہے بیکسی و تنہائی
نہ کھنچے تجھ سے ایک جا نقاش
اس کی تصویر وہ ہے ہرجائی
سر رکھوں اس کے پائوں پر لیکن
دست قدرت یہ میں کہاں پائی
میر جب سے گیا ہے دل تب سے
میں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی
میر تقی میر

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

دیوان اول غزل 435
ہے غزل میر یہ شفائیؔ کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی
اس کے ایفاے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی
دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر
آہ نے آہ نارسائی کی
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میر
کس بھروسے پر آشنائی کی
میر تقی میر

پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو

دیوان اول غزل 382
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو
مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے
لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو
لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد
قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو
خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی
کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو
مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی
کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو
اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے
یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو
کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک
بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو
دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے
دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے
اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں
غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو
مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ
ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو
کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو
خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو
میر تقی میر

کیا جلتی ہوئی آگ دکھائی نہیں دیتی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 161
زنجیر ہوس دل کو رہائی نہیں دیتی
کیا جلتی ہوئی آگ دکھائی نہیں دیتی
دنیا کے لئے بھول گئے اپنے خدا کو
کیا قبر کی آواز سنائی نہیں دیتی
کیا اپنے سوا کوئی نظر آئے نہ ہم کو
کیوں دل کو سکوں بات پرائی نہیں دیتی
جو مانگنا ہے مانگئے اﷲ سے اپنے
تسکیں کبھی دنیا کی گدائی نہیں دیتی
احساس سفر سے یہ گرہ کھلتی ہے باقیؔ
منزل کی خبر آبلہ پائی نہیں دیتی
باقی صدیقی