ٹیگ کے محفوظات: پائندہ

قیامت ہے مسلسل زندہ رہنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 49
خود اپنے آپ سے شرمندہ رہنا
قیامت ہے مسلسل زندہ رہنا
یہاں روبوٹ کم ہیں آسماں سے
یہ دنیا ہے یہاں آئندہ رہنا
مجھے دکھ کی قیامت خیز رت میں
محبت نے کہا ’’پائندہ رہنا‘‘
سمٹ آئی ہے جب مٹھی میں دنیا
کسی بستی کا کیا باشندہ رہنا
سکھاتا ہے مجھے ہر شام سورج
لہو میں ڈوب کر تابندہ رہنا
یہی منصور حاصل زندگی کا
خود اپنا آپ ہی کارندہ رہنا
منصور آفاق