ٹیگ کے محفوظات: ٹھہر

وہ درد پھر سے جگا کر گزر گیا کوئی

جو سو چکا تھا نئے موسموں کی چھاؤں میں
وہ درد پھر سے جگا کر گزر گیا کوئی
خیالِ حُسن بھی گویا کہ نشہء مے تھا
ذرا سی دیر میں دل سے اتر گیا کوئی
تجھے یہ فخر کہ تُو راز ہی رہا لیکن
مجھے یہ رنج کہ کیوں بے خبر گیا کوئی
رہِ حیات میں کتنے سکون سے باصرِؔ
پکار موت کی سن کر ٹھہر گیا کوئی
باصر کاظمی

آ ۔۔۔ اور مری تشنگیٔ جاں میں اُتر جا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
اک بار تو ایسی بھی جسارت کبھی کر جا
آ ۔۔۔ اور مری تشنگیٔ جاں میں اُتر جا
ویرانیٔ دل پر کبھی اتنا تو کرم کر
اِس راہگزر سے نمِ موسم سا گُزر جا
طُرفہ ہیں بُہت میرے دل و جاں کی پھواریں
اس بزم میں آ اور مثالِ گُلِ تر جا
دیکھوں میں طلُوعِ رُخِ انور ترا یُوں بھی
آ ۔۔۔ مثل سحر لمس کی شبنم سے نکھر جا
رہنے دے کسی پل تو یہ اندازِ شہابی
مختار ہے تو ۔۔۔ پھر بھی کوئی دم تو ٹھہر جا
پڑتا ہے رہِ شوق میں کچھ اور بھی سہنا
ماجدؔ نہ فقط خدشۂ رسوائی سے ڈر جا
ماجد صدیقی

چُپ چاپ تھے جانے کیوں شجر بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
سہمے تھے چمن کے نغمہ گر بھی
چُپ چاپ تھے جانے کیوں شجر بھی
محرومِ ہوائے گل رہے ہم
ہر چند کھُلے تھے اپنے در بھی
انجام سے جیسے باخبر تھے
ٹھِٹکے رہے گُل بہ شاخِ تر بھی
ہے جاں پہ نظر سو وہ بھی لے لے
اے درد کی رو! کہیں ٹھہر بھی
کچھ کچھ ہمیں مانتے ہیں اب کے
اِس مُلکِ سخن کے تاجور بھی
اک صبر ذرا، وہ دیکھ ماجدؔ
کھُلتا ہے دریچۂ سحر بھی
ماجد صدیقی

چاند سا بدن اُس کا اور بھی نکھر جاتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
مَیں جو اُس کے قدموں میں ریت سا بکھر جاتا
چاند سا بدن اُس کا اور بھی نکھر جاتا
کیوں نظر میں چُبھتا تھا عکس اِک گریزاں سا
تھا اگر وہ کانٹا ہی پار تو اُتر جاتا
وہ یونہی گھرا رہتا ہجر کے حصاروں میں
اور میں کہ طوفاں تھا اُلجھنوں سے ڈر جاتا
عمر بھر کو دے جاتا نشۂ شباب اپنا
اور بھی جو کچھ لمحے پاس وہ ٹھہر جاتا
دوش پر ہواؤں کے برگِ زرد سا ماجدؔ
ڈھونڈنے اُسے اِک دن میں بھی در بہ در جاتا
ماجد صدیقی

تو اس کے شہر میں‌ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 75
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
تو اس کے شہر میں‌ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت
مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی، سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں‌ ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں‌‌
احمد فراز

مسئلہ پُھول کا ہے ، پُھول کدھر جائے گا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 21
وہ تو خوشبو ہے ، ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پُھول کا ہے ، پُھول کدھر جائے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے ، بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا، گُزر جائے گا
وہ جب آئے گا تو پھر اُس کی رفاقت کے لیے
موسمِ گُل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہو گی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے ،اُتر جائے گا
مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جُرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
پروین شاکر

رات تو کٹ گئی درد کی سیج پر

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 1
اب یہ ویران دن کیسے ہو گا بسر
رات تو کٹ گئی درد کی سیج پر
بس یہیں ختم ہے پیار کی رہگزر
دوست اگلا قدم کچھ سمجھ سوچ کر
اس کی آوازِ پا تو بڑی بات ہے
ایک پتّہ بھی کھڑکا نہیں رات بھر
گھر میں طوفان آئے زمانہ ہوا
اب بھی کانوں میں بجتی ہے زنجیرِ در
اپنا دامن بھی اب تو میسّر نہیں
کتنے ارزاں ہوئے آنسوؤں کے گہر
یہ شکستہ قدم بھی ترے ساتھ تھے
اے زمانے ٹھہر، اے زمانے ٹھہر
اپنے غم پر تبسم کا پردہ نہ ڈال
دوست، ہم ہیں سوار ایک ہی ناؤ پر
شکیب جلالی

بھیچک کوئی رہ جائے کوئی جی سے گذر جائے

دیوان سوم غزل 1303
کیا چال نکالی ہے کہ جو دیکھے سو مر جائے
بھیچک کوئی رہ جائے کوئی جی سے گذر جائے
تاچند یہ خمیازہ کشی تنگ ہوں یارب
آغوش مری ایک شب اس شوخ سے بھر جائے
بے طاقتی دل سے مری جان ہے لب پر
تم ٹھہرو کوئی دم تو مرا جی بھی ٹھہر جائے
پڑتے نگہ یار مرا حال ہے ویسا
بجلی کے تڑپنے سے کوئی جیسے کہ ڈر جائے
اس آئینہ رو شوخ مفتن سے کہیں کیا
عاشق کو برا کہہ کے منھ ہی منھ میں مکر جائے
ناکس کی تلافی ستم کون کرے ہے
ڈرتا ہوں کہ وہ اور بھی آزردہ نہ کر جائے
جاتا ہے جدھر منزل مقصود نہیں وہ
آوارہ جو ہو عشق کا بے چارہ کدھر جائے
رونے میں مرے سر نہ چڑھو صبر کرو ٹک
یہ سیل جو اک زور سے آتا ہے اتر جائے
کیا ذکر مرا میں تو کہیں اس سے ملوں ہوں
ان خانہ خرابوں کی کہو جن کے وہ گھر جائے
اس زلف کا ہر بال رگ جان ہے اپنی
یاں جی ہی بکھرتا ہے صبا وہ جو بکھر جائے
گردش میں جو وے آنکھ نشے کی بھری دیکھیں
ہشیار سروں کے تئیں سدھ اپنی بسر جائے
آنکھیں ہی لگی جاتی ہیں اس جاذبہ کو میر
آتی ہے بہت دیر جو اس منھ پہ نظر جائے
میر تقی میر

یہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گذر جائے

دیوان اول غزل 552
غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مرجائے
یہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گذر جائے
ہے طرفہ مفتن نگہ اس آئینہ رو کی
اک پل میں کرے سینکڑوں خوں اور مکر جائے
نے بتکدہ ہے منزل مقصود نہ کعبہ
جو کوئی تلاشی ہو ترا آہ کدھر جائے
ہر صبح تو خورشید ترے منھ پہ چڑھے ہے
ایسا نہ ہو یہ سادہ کہیں جی سے اتر جائے
یاقوت کوئی ان کو کہے ہے کوئی گل برگ
ٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اک بات ٹھہر جائے
ہم تازہ شہیدوں کو نہ آ دیکھنے نازاں
دامن کی تری زہ کہیں لوہو میں نہ بھر جائے
گریے کو مرے دیکھ ٹک اک شہر کے باہر
اک سطح ہے پانی کا جہاں تک کہ نظر جائے
مت بیٹھ بہت عشق کے آزردہ دلوں میں
نالہ کسو مظلوم کا تاثیر نہ کر جائے
اس ورطے سے تختہ جو کوئی پہنچے کنارے
تو میر وطن میرے بھی شاید یہ خبر جائے
میر تقی میر

کسی آس پر، کسی یاس میں کبھی جی اُٹھا کبھی مر گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 28
میں بھی کتنا سادہ مزاج تھا کہ یقیں گمان پہ کر گیا
کسی آس پر، کسی یاس میں کبھی جی اُٹھا کبھی مر گیا
چلو یارِ وعدہ نواز سے کسی روز جا کے پتہ کریں
وہ جو اُس کے در کا اسیر تھا، اُسے کیا ہوا، وہ کدھر گیا
وہ شبِ عجیب گزر گئی، سو گزر گئی مگر اِس طرح
کہ سحر کا آئینہ دیکھ کر میں تو اپنے آپ سے ڈر گیا
تری آس کیا، کہ ہے ابر کا تو ہوا کے رُخ سے معاملہ
جو سنور گیا تو سنور گیا، جو بکھر گیا تو بکھر گیا
میری رہگزار میں رہ گئی یہی باز گشت صداؤں کی
کوئی بے نمود سا شخص تھا وُہ گزر گیا، وُہ گزر گیا
ہوئے منکشف مری آنکھ پر کئی اور زاویے دید کے
کوئی اشکِ ضبط اگر کبھی پسِ چشم آ کے ٹھہر گیا
آفتاب اقبال شمیم

پھر اپنی نظر شاید تا حدِّ نظر جائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 20
پھر آئنہِ عالم شاید کہ نکھر جائے
پھر اپنی نظر شاید تا حدِّ نظر جائے
صحرا پہ لگے پہرے اور قفل پڑے بن پر
اب شہر بدر ہو کر دیوانہ کدھر جائے
خاکِ رہِ جاناں پر کچھ خوں تھا گِرو اپنا
اس فصل میں ممکن ہے یہ قرض اتر جائے
دیکھ آئیں چلو ہم بھی جس بزم میں سنتے ہیں
جو خندہ بلب آئے وہ خاک بسر جائے
یا خوف سے در گزریں یا جاں سے گزر جائیں
مرنا ہے کہ جینا ہے اِک بات ٹھہر جائے
فیض احمد فیض

تجھے میں آنکھ کے دربند کر کے دیکھوں گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 74
کرشمے تیری گرفتِ نظر کے دیکھوں گا
تجھے میں آنکھ کے دربند کر کے دیکھوں گا
پتہ کروں گا نہ ہونے میں کیسا ہونا ہے
مقامِ صفر پہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھوں گا
نکل کے کمرے سے جاؤں گا صحن میں اپنے
مناظر اپنے شکستہ سے گھر کے دیکھوں گا
رکھا درخت کے بالکل ہے سامنے سورج
ابھی میں پھیلتے سائے اُدھر کے دیکھوں گا
جہاں جہاں ترے پہلو میں کھل اٹھا تھا بدن
میں بار بار وہیں سے گزر کے دیکھوں گا
سہار د ستِ دعانے تو لی ہے چھت لیکن
مگر فلک کی طرف روز ڈر کے دیکھوں گا
ہے ہمکلام بھی مائل بھی اور اکیلا بھی
سوہاتھ زانوئے جاناں پہ دھر کے دیکھوں گا
سناہے اسکے لبوں سے جھڑے مسیحائی
سومیں بھی یار کی چوکھٹ پہ مر کے دیکھوں گا
اے چشمِ یار کی تیرہ سواد کاجلی شب
تجھے میں آنکھ میں مہتاب بھر کے دیکھوں گا
بنا ہوا ہوں ازل سے زمین کا قیدی
میں سارے دائرے دا مِ سفر کے دیکھوں گا
ذرا سی اور ٹھہر جائے رات پہلو میں
سبھی چراغ بجھا کر سحر کے دیکھوں گا
ہوا وصال میں مہکے توچاندنی !تجھ سے
میں کھول کھول کے سائے شجر کے دیکھوں گا
مجھے یقیں ہے کہ تیرا سروپ ہے اسمیں
اب آئینہ بھی ہمیشہ سنور کے دیکھوں گا
تم اپنے خول سے باہر نکل کے آ ؤ تو
فرازِ عرش سے میں بھی اتر کے دیکھوں گا
مرے لبوں کو بھی تتلی کی نرمیاں چھو لیں
گلاب کی طرح میں بھی نکھر کے دیکھوں گا
خود اپنی آنکھ سے اپنی سویر کی کرنیں
کسی کے بامِ افق پر ابھر کے دیکھوں گا
یہ اور بات کہ موسم بدل نہیں سکتا
میں برگ برگ ہوا میں بکھر کے دیکھوں گا
ابھی لکھوں گا قصیدہ کسی کے چہرے کا
تماشا اپنے ہی حسنِ نظر کے دیکھوں گا
وہ گنگنائے گی اک دن مری غزل منصور
عجب وصال میں اپنے ہنر کے دیکھوں گا
منصور آفاق

مگر یوں زندگی ہو گی بسر بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 172
کرم ہے ہم پہ تیری اک نظر بھی
مگر یوں زندگی ہو گی بسر بھی
جو لے جاتی ہیں ہاتھوں پر سفینہ
انہی موجوں سے بنتے ہیں بھنور بھی
عنایت ایک تہمت بن نہ جائے
نظر کے ساتھ جھک جائے نہ سر بھی
ترے نغموں میں بھی کھویا ہوا ہوں
لگے ہیں کان دل کے شور پر بھی
چلا ہاتھوں سے دامان تمنا
ذرا اے سیل رنگ و بو ٹھہر بھی
لہو میں تر ہیں کا نٹوں کی زبانیں
کسی کو ہے گلستاں کی خبر بھی
لو اب تو دل کے سناٹے میں باقیؔ
ہوا شامل سکوت بام و در بھی
باقی صدیقی

ان تک تو ساتھ گردش شام و سحر گئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 157
آئی نہ پھر نظر کہیں جانے کدھر گئی
ان تک تو ساتھ گردش شام و سحر گئی
کچھ اتنا بے ثبات تھا ہر جلوہ حیات
لوٹ آئی زخم کھا کے جدھر بھی نظر گئی
آ دیکھ مجھ سے روٹھنے والے ترے بغیر
دن بھی گزر گیا، شب غم بھی گزر گئی
باقیؔ بس ایک دل کے سنبھلنے کی دیر تھی
ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ٹھہر گئی
تیرے بغیر رنگ نہ آیا بہار میں
اک اک کلی کے پاس نسیم سحر گئی
نادم ہے اپنے اپنے قرینے پہ ہر نظر
دنیا لہو اچھال کے کتنی نکھر گئی
شبنم ہو، کہکشاں ہو ستارے ہوں پھول ہوں
جو شے تمہارے سامنے آئی نکھر گئی
باقی صدیقی

وہ سیر رنگ و بو کی تمنا کدھر گئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 155
اٹھ کر مری نظر ترے رُخ پہ ٹھہر گئی
وہ سیر رنگ و بو کی تمنا کدھر گئی
کچھ اتنا بے ثبات تھا ہر منظر حیات
اک زخم کھا کے آئی جدھر بھی نظر گئی
تیرے بغیر رنگ نہ آیا بہار میں
اک اک کلی کے پاس نسیم سحر گئی
شبنم ہو، کہکشاں ہو، ستارے ہوں، پھول ہوں
جو شے تمہارے سامنے آئی نکھر گئی
ہر چند میرے غم کا مداوا نہ ہو سکا
پھر بھی تری نگاہ بڑا کام کر گئی
وارفتگان شوق کا باقیؔ نہ حال پوچھ
دل سے اٹھی وہ موج کہ سر سے گزر گئی
باقی صدیقی

کیوں تجھ سے گریز کر گئے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 85
کیا دور جہاں سے ڈر گئے ہم
کیوں تجھ سے گریز کر گئے ہم
حیرت ہے کہ سامنے سے تیرے
غیروں کی طرح گزر گئے ہم
وہ دور بھی زندگی میں آیا
محسوس ہوا کہ مر گئے ہم
اے دشت حیات کے بگولو
ڈھونڈو تو سہی کدھر گئے ہم
آئی یہ کدھر سے تیری آواز
چلتے چلتے ٹھہر گئے ہم
گزری ہے صبا قفس سے ہو کے
لینا غم بال و پر گئے ہم
ساحل کا مرحلہ ہے باقیؔ
طوفاں سے تو پار اتر گئے ہم
باقی صدیقی

دور کا غم قریب تر جانا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 35
دل کو جب تیری رہگزر جانا
دور کا غم قریب تر جانا
بے نیازی سی بے نیازی تھی
اپنے گھر کو نہ اپنا گھر جانا
لے نہ ڈوبے کہیں یہ بے خبری
ہر خبر کو تری خبر جانا
اک نئے غم کا پیش خیمہ ہے
بے سبب زخم دل کا بھر جانا
تجھ سے آتی ہے بوئے ہمدردی
جانے والے ذرا ٹھہر جانا
ابتدائے سفر کا شوق نہ پوچھ
ہر مسافر کو ہم سفر جانا
زندگی غم کا نام ہے باقیؔ
ہم نے اب قصہ مختصر جانا
باقی صدیقی

یا فر اوہدے قد تے، دھوکا سی کجھ لہر دا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 117
ہے سی ٹھاٹھاں مار دا، جوبن چڑھیا قہر دا
یا فر اوہدے قد تے، دھوکا سی کجھ لہر دا
ایہہ کی میں پیا ویکھناں، گُجھے درد حبیب توں
بازی لے لے جاوندا، دُکھڑا اک اک دہر دا
لگدا سی کر دئے گا، تھالی جنج دریاں نوں
پانی کنڈھیاں نال سی، مڑ مڑ کے اِنج کھیہر دا
اکھیاں وچ برسات جیہی، سرتے کالی رات جیہی
دل وچ اوہدی جھات جیہی، نقشہ بھری دوپہر دا
اکو سوہجھ خیال سی، چلدا نالوں نال سی
فکراں وچ ابال سی، قدم نئیں سی ٹھہر دا
سینے دے وچ چھیک سی‘ ڈاہڈا مِٹھڑا سیک سی
دل نوں اوہدی ٹیک سی، رنگ ائی ہورسی شہر دا
آئی تے اوہدے نال سی، پھُٹڈی پوہ وساکھ دی
گئی تے ماجدُ مکھ تے، سماں سی پچھلے پہر دا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سِر ساڈے وختاں دی، شُوکدی دوپہر سی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 19
بَنّے بَنّے مہکدی، گلاباں والی لہر سی
سِر ساڈے وختاں دی، شُوکدی دوپہر سی
لبھ کے وی اوہنوں، اوہنوں لبھنے دا دُکھ سی
سماں سی وصال دا تے، اوہ وی قہر و قہر سی
خورے کس اگّی اساں، دونواں نوں سی پھُوکیا
میں وی رَتو رَت ساں، تے اوہ وی زہر و زہر سی
سماں ساڈی ٹور دا وی، نقشہ سی گور دا
ہار گئے ساں جتھے، اُتھوں قدماں تے شہر سی
اکھاں وچوں اتھرو تے، مُک گئے نیں ماجداُ
عمراں توں لمی، تیری ہِیک کدوں ٹھہر سی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)