ٹیگ کے محفوظات: ٹھہری

جانتے بھی ہو مزاج اِس کا بہت قہری ہے

یہ جو شیریں دہن و نرم نگہ شہری ہے
جانتے بھی ہو مزاج اِس کا بہت قہری ہے
دل میں خوں جب سے ہوا کم نہیں رو سکتے ہم
یہ زمیں آنکھوں کی بارانی نہیں نہری ہے
اِن دنوں ہے مرا صیاد عجب مشکل میں
باغ کی تازہ ہوا میری دوا ٹھہری ہے
موج میں آئے تو میٹھا بھی بہت ہے لیکن
طیش میں ہو تو مِرا یار بہت زہری ہے
کیا خبر ٹھیک نہ ہو زندگی بھر یہ باصرِؔ
تم کو اندازہ نہیں چوٹ بہت گہری ہے
باصر کاظمی

شام کوئی اُس کی آنکھوں میں کاجل جیسی شام

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
وقت دکھا دے شاید کوئی بھولی بسری شام
شام کوئی اُس کی آنکھوں میں کاجل جیسی شام
چہرہ چہرہ سہم سے یوں بیدم ہے جیسے آج
جسم چچوڑنے آئی ہو نگری میں اُتری شام
سُکھ سپنوں کے پیڑ پہ ہے پھر چڑیوں جیسا شور
پھر پھنکار اُٹھی جیسے ناگن سی بپھری شام
کرب و الم کا نحس گہن یوں دن پر پھیل گیا
آج کی شام سے آن ملی محشر سی گزری شام
کیا کیا حدّت کس کس ذرّے نے ہتھیائی ہے
پوچھ کے آئی سورج کے پہلو سے نکلی شام
مٹتی ہے کب ہاتھوں سے لیکھوں کی یہ تحریر
ڈھلتی ہے کب جانے انگناں انگناں ٹھہری شام
لطف و کرم سے بیگانہ اور زہرِحسد سے چُور
سوتیلی ماؤں سی ماجدؔ یہ کیا آئی شام
ماجد صدیقی