ٹیگ کے محفوظات: ٹھہرائے

ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا
ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا
کون کہے بیوپاری، سودا اغوا ہونے والی کا
کن کن سنگدلوں کے آگے کس کس طور چُکائے گا
کاش اُنہیں جتلا پائے تُو، اصل بھی اپنے ناتے کی
جھنڈا جن کی کاروں پر، اے دیس! ترا لہرائے گا
اپنے جیسے ہی لگتے ہیں چَوک پہ بیٹھے راج مجھے
مول گجر دم سیٹھ کوئی جن کا آ کر ٹھہرائے گا
اِترائے گا جب بھی کبھی بیٹھے گا اپنے جیسوں میں
کون ستم گر ہے جو اپنی کرنی پر پچھتائے گا
شور زمینِ فکر ہے جس کی اور سینے میں زور بہت
کرنے کو اچّھا بھی کرے تو، کیا اچّھا کر پائے گا
چھید ہوئے جاتے ہیں جِس کشتی میں، اُس کے کھینے کو
دُور فرازِ عرش سے جانے، کون فرشتہ آئے گا
زورِ ہوا سے ٹہنیاں ٹوٹیں، پات جھڑے جن پیڑوں کے
کون سخی ایسا، جو اِن کے یہ زیور لوٹائے گا
خوشیوں پر رنجیدہ، اِک دُوجے کے رنج پہ جو خو ش ہیں
تو کیا اُن سِفلوں کو ماجدؔ دل کا حال سُنائے گا
ماجد صدیقی

شبِ فراق کے گیسو فضا میں لہرائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارہء شام
شبِ فراق کے گیسو فضا میں لہرائے
کوئی پکارو کہ اک عمر ہونے آئی ہے
فلک کو قافلہء روز و شام ٹھہرائے
یہ ضد ہے یادِ حریفانِ بادہ پیما کی
کہ شب کو چاند نہ نکلے، نہ دن کو ابر آئے
صبا نے پھر درِ زنداں پہ آکے دی دستک
سحر قریب ہے، دل سے کہو نہ گھبرائے
فیض احمد فیض

دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 191
ہم تری بزم سے بازار میں جب لائے گئے
دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے
ہائے یہ شوق کہ ہر لب پہ تھا پیغام سفر
وائے یہ وہم کہ ہر گام پہ ٹھہرائے گئے
گرچہ ہر بزم میں اک قصہ ترا چلتا تھا
پھر بھی کچھ قصّے کسی طرح نہ دہرائے گئے
روز ہم اک نئے احساس کی تصویر بنے
روز ہم اک نئی دیوار میں چنوائے گئے
جس جگہ کھوئے ہیں اپنوں کی تمنا میں ہم
وہیں غیروں کی روایات میں ہم پائے گئے
کیا وفا کرکے ہوئے سب کی نظر میں مجرم
ایک عرصہ ترے کوچے میں نہ ہم آئے گئے
ہر قدم حلقۂ صد دام چمن تھا باقیؔ
ہار زنجیر کی صورت کبھی پہنائے گئے
باقی صدیقی