ٹیگ کے محفوظات: ٹھکرایا

ہزار پھول کھلیں گے جو ایک مرجھایا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 5
مجھے خراب جنوں کر کے تو نے کیا پایا
ہزار پھول کھلیں گے جو ایک مرجھایا
ترے غرور نے محفل میں جو نہ بات سنی
ترے شعور نے خلوت میں اس کو دہرایا
تمہارے ذکر سے دل کو سکوں ملے نہ ملے
چلو کوئی نہ کوئی مشغلہ تو ہاتھ آیا
بہت غرور تھا اپنی وفاؤں پر جس کو
اسی کو تیری نگاہ کرم نے ٹھکرایا
کچھ اس طرح بھی ملے ہیں فریب غم باقیؔ
قریب پہنچے تو آگے سرک گیا سایا
باقی صدیقی