ٹیگ کے محفوظات: ٹھکانہ

وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے

طَور جب عاشقانہ ہوتا ہے
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
کچھ نہیں جن کے پاس اُن کے پاس
خواہشوں کا خزانہ ہوتا ہے
دل کسی کا کسی کے کہنے سے
کبھی پہلے ہوا نہ ہوتا ہے
بجلیوں کا ہدف نجانے کیوں
ایک ہی آشیانہ ہوتا ہے
غم نہیں اب جو ہم ہیں غیر فعال
اپنا اپنا زمانہ ہوتا ہے
دیکھتے ہیں تمہاری بستی میں
کب تلک آب و دانہ ہوتا ہے
دوستو کر لیا بہت آرام
کارواں اب روانہ ہوتا ہے
ڈھونڈتے ہیں جو آپ باصرِؔ کو
اُس کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 82
دکھ فسانہ نہیں ‌کہ تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
آج تک اپنی بے کلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے
دوستانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
ایک تو حرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
قاصدا! ہم فقیر لوگوں کا
اک ٹھکانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
اے خدا درد دل ہے بخشش دوست
آب و دانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
اب تو اپنا بھی اس گلی میں‌فراز
آنا جانا نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
احمد فراز

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 15
اُس کو جُدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا
ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق
اے مرگِ ناگہاں! تیرا آنا بہت ہوا
ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا
اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا
اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی
اُس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا
اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں
اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا
اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا
مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا
کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل
اے یادِ یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا
کہتا تھا ناصحوں سے میرے منہ نہ آئیو
پھر کیا تھا ایک ہُو کا بہانہ بہت ہوا
لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر
احمد فراز! تجھ سے کہا نا، بہت ہوا
احمد فراز

نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 1
یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ
نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ
مجھے یاد ہے ابھی تک ترے جور کا فسانہ
جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ
نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ
فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ
یہ رقیب اور تم سے رہ و رسمِ دوستانہ
ابھی جس ہوا میں تم ہو وہ بدل گیا زمانہ
مرے سامنے چمن کا نہ فسانہ چھیڑ ہمدم
مجھے یاد آ نہ جائے کہیں اپنا آشیانہ
سرِ راہ کیسے سوجھی تجھے ہجوِ مئے کی واعظ
نہ یہاں ہے تیری نہ مرا شراب خانہ
کسی سر نگوں سی ڈالی پہ رکھیں گے چار تنکے
نہ بلند شاخ ہو گی نہ جلے گا آشیانہ
نہ سنا سکے مسلسل غمِ دوریِ وطن کو
کبھی رو لئے گھڑی بھر کبھی کہہ دیا فسانہ
مرے روٹھ جانے والے تجھے یوں منا رہا ہوں
کہ قضا کے واسطے بھی کوئی چاہئیے بہانہ
کہیں میکشوں سے ساقی نہ نگاہ پھیر لینا
کہ انھیں کے دم سے قائم ہے ترا شراب خانہ
قمر اپنے داغِ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑی
کہ سنا کیے ستارے مرا رات بھر فسانہ
قمر جلالوی

کچھ ٹھکانہ نظر نہیں آتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 1
وہ زمانہ نظر نہیں آتا
کچھ ٹھکانہ نظر نہیں آتا
دل نے اس بزم میں بٹھا تو دیا
اٹھ کے جانا نظر نہیں آتا
رہئے مشتاق جلوہ دیدار
ہم نے مانا نظر نہیں آتا
لے چلو مجھکو رہروان عدم
یہاں ٹھکانہ نظر نہیں آتا
دل پر آرزو لٹا اے داغ
وہ خزانہ نظر نہیں آتا
داغ دہلوی

تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 3
تہی اپنا یہ بے بخشش خزانہ کیوں نہیں کرتا
تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا
تجھے اے گوشہ گیرِ ذات! جو تجھ سے رہائی دے
کوئی اقدام ایسا باغیانہ کیوں نہیں کرتا
ہمیں کیا ہوتا، ہم آئے یہاں تیرے بُلانے پر
تو پھر ہم سے سلوکِ دوستانہ کیوں نہیں کرتا
سلگتے جسم سے شاید پرِ شعلہ نکل آئے
ہوا کے راستے میں تو ٹھکانہ کیوں نہیں کرتا
رہیں گے کب تلک ہونے نہ ہونے کے تذبذب میں
ہمارا فیصلہ وُہ منصفانہ کیوں نہیں کرتا
نظر آتا ہے لیکن دیکھنے میں ہے زیاں اپنا
تو ایسے میں تغافل کا بہانہ کیوں نہیں کرتا
آفتاب اقبال شمیم

پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چال ایسی غم زمانہ چلا
پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا
منزل زیست بے سراغ رہی
کوئی جب تک برہنہ پا نہ چلا
دل ملیں تو قدم بھی ملتے ہیں
ساتھ ورنہ کوئی چلا نہ چلا
کس طرف سے تری صدا آئی
چھوڑ کر دل ہر اک ٹھکانہ چلا
کیوں گریزاں ہیں منزلیں ہم سے
نہ چلے ہم کہ رہنما نہ چلا
آج کیسی ہوا چلی باقیؔ
ایک جھونکے میں آشیانہ چلا
باقی صدیقی