ٹیگ کے محفوظات: ٹھکانا

دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 62
طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصل
دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل
ان کو منظور نہیں نیند کا آنا شبِ وصل
اس لئے کہتے ہیں غیروں کا فسانہ شبِ وصل
صبر پروانے کا مجھ پر نہ پڑے ڈرتا ہوں
ماہ رو شمع کو ہرگز نہ جلانا شبِ وصل
خواہشِ کامِ دل اتنی نہ کر اے شوق کہ وہ
ڈھونڈتے ہیں چلے جانے کو بہانا شبِ وصل
آپ منت سے بلانے تجھے کیوں کر آؤں
غیر کے گھر میں ہے تیرا تو ٹھکانا شبِ وصل
شان میں صحبتِ ناکس سے خلل آتا ہے
صبحِ ہجراں کو بس اب منہ نہ لگانا شبِ وصل
تیرگی بختِ سیہ سے مرے لا جا کہ ضرور
جلوہ اس مہر لقا کا ہے چھپانا شبِ وصل
روزِ ہجراں میں اٹھے جاتے ہو کیوں دنیا سے
شیفتہ اور بھی تم لطف اٹھانا شبِ وصل
مصطفٰی خان شیفتہ

سمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 18
ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا
سمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا
ہے ترا سلسلۂ زلف بھی کتنا دل بند
پھنسنے سے پہلے بھی مشکل تھا چھٹانا دل کا
دیکھتے ہم بھی کہ آرام سے سوتے کیوں کر
نہ سنا تم نے کبھی ہائے فسانہ دل کا
ہم سے پوچھیں کہ اسی کھیل میں کھوئی ہے عمر
کھیل جو لوگ سمجھتے ہیں لگانا دل کا
عاقبت چاہِ ذقن میں خبر اس کی پائی
مدتوں سے نہیں لگتا تھا ٹھکانا دل کا
کس طرح دردِ محبت میں جتاؤں اس کو
بھید لڑکوں سے نہیں کہتے ہیں دانا دل کا
ہم یہ سمجھے تھے کہ آرام سے تم رکھو گے
لائیے تم کو ہے منظور ستانا دل کا
ہم بھی کیا سادے ہیں کیا کیا ہے توقع اس سے
آج تک جس نے ذرا حال نہ جانا دل کا
جلوہ گاہِ غم و شادی، دل و شادی کم یاب
کیوں نہ ہو شکوہ سرا ایک زمانہ دل کا
شکل مانندِ پری اور یہ افسونِ وفا
آدمی کا نہیں مقدور بچانا دل کا
شیفتہ ضبط کرو ایسی ہے کیا بے تابی
جو کوئی ہو تمہیں احوال سنانا دل کا
مصطفٰی خان شیفتہ

ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 6
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہے
کس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا
اپنی آنکھوں میں کوند گئی بجلی سی
ہم نہ سمجھے کہ یہ آنا ہے کہ جانا تیرا
داغ دہلوی

مرنا عاشق کا بہانہ ہو گیا

دیوان پنجم غزل 1559
بات کہتے جی کا جانا ہو گیا
مرنا عاشق کا بہانہ ہو گیا
جاے بودن تو نہ تھی دنیاے دوں
اتفاقاً اپنا آنا ہو گیا
ماہ اس کو کہہ کے سارے شہر میں
مجھ کو مشکل منھ دکھانا ہو گیا
کر رکھا تعویذ طفلی میں جسے
اب سو وہ لڑکا سیانا ہو گیا
اس بلا سے آہ میں غافل رہا
یک بہ یک دل کا لگانا ہو گیا
کنج لب سے یار کے اچٹا نہ ٹک
الغرض دل کا ٹھکانا ہو گیا
رفتہ رفتہ اس پری کے عشق میں
میر سا دانا دوانہ ہو گیا
میر تقی میر

ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا

دیوان سوم غزل 1071
سہل ایسا نہ تھا آخر جی سے مرا جانا تھا
ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا
کیا مو کی پریشانی کیا پردے میں پنہانی
منھ یار کو ہر صورت عاشق سے چھپانا تھا
لذت سے نہ تھا خالی جانا تہ تیغ اس کی
اے صید حرم تجھ کو اک زخم تو کھانا تھا
کیا صورتیں بگڑی ہیں مشتاقوں کی ہجراں میں
اس چہرے کو اے خالق ایسا نہ بنانا تھا
مت سہل ہمیں سمجھو پہنچے تھے بہم تب ہم
برسوں تئیں گردوں نے جب خاک کو چھانا تھا
کیا ظلم کیا بے جا مارا جیوں سے ان نے
کچھ ٹھور بھی تھی اس کی کچھ اس کا ٹھکانا تھا
اے شور قیامت اب وعدے سے قیامت ہے
خوابیدہ مرے خوں کو ظالم نہ جگانا تھا
ہو باغ و بہار آیا گل پھول کہیں پایا
جلوہ اسے یاں اپنا صدرنگ دکھانا تھا
کہتے نہ تھے ہم واں سے پھر آچکے جیتے تم
میر اس گلی میں تم کو زنہار نہ جانا تھا
میر تقی میر

جو گیا ہو جان سے اس کو بھی جانا کیجیے

دیوان اول غزل 550
قبر عاشق پر مقرر روز آنا کیجیے
جو گیا ہو جان سے اس کو بھی جانا کیجیے
رات دارو پیجیے غیروں میں بے لیت و لعل
یاں سحر سر دکھنے کا ہم سے بہانہ کیجیے
ٹک تمھارے ہونٹ کے ہلنے سے یاں ہوتا ہے کام
اتنی اتنی بات جو ہووے تو مانا کیجیے
گوشۂ چشم بتاں یا کنج لب اس وقت میں
جا کہیں ہو تو دل اپنے کا ٹھکانا کیجیے
سیکھیے غیروں کے ہاں چھپ چھپ کے علم تیر پھر
سارے عالم میں ہمارے تیں نشانہ کیجیے
رفتہ رفتہ قاصدوں کو رفتگی اس سے ہوئی
جی میں ہے اب کے مقرر اپنا جانا کیجیے
نکلے ہے آنکھوں سے تو گرد کدورت جاے اشک
تا کجا تیری گلی میں خاک چھانا کیجیے
آبشار آنے لگے آنسو کے پلکوں سے تو میر
کب تلک یہ آب چادر منھ پہ تانا کیجیے
میر تقی میر

ہمیں بنامِ وفا اُس نے آزمانا بہت ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 82
اُسے تو وعدۂِ فردا کا ہی بہانہ بہت ہے
ہمیں بنامِ وفا اُس نے آزمانا بہت ہے
نئے سفر پہ چلے ہو، اسے اتارتے جاؤ
تمہارا پیرہنِ زندگی پرانا بہت ہے
دیارِ غیر میں کیوں خفتیں سمیٹنے جاؤں
مرے لئے مری مٹی کا یہ ٹھکانا بہت ہے
میں اپنی ارضِ حسیں سے سلوک جیسا کروں
مجھے ہے اس سے محبت، یہی بہانہ بہت ہے
عدو سے دوستی کر لی تو کیا برائی ہے اس میں
مگر یہ کارِ سیاست منافقانہ بہت ہے
مجھے بھی عرش کے آدرش سے اترنا پڑے گا
کہ میری وقت کا معیار درمیانہ بہت ہے
میں اس سے صلح بھی کر لیتا، کچھ بعید نہیں
مگر وہ اپنے رویّے میں درمیانہ بہت ہے
آفتاب اقبال شمیم

کچھ کم سماعتوں کو سنانا بھی ہوتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 312
کچھ تو فغاں کا خیر بہانا بھی ہوتا ہے
کچھ کم سماعتوں کو سنانا بھی ہوتا ہے
دیکھو ہمارے چاک گریباں پہ خوش نہ ہو
یہ ہے جنوں اور اس کا نشانا بھی ہوتا ہے
آزادگاں کو خانہ خرابی کا کیا ملال
کیا موج گل کا کوئی ٹھکانا بھی ہوتا ہے
ہم اس جگہ میں خوش ہیں کہ ایسے خرابوں میں
سانپوں کے ساتھ ساتھ خزانا بھی ہوتا ہے
میں کیوں ڈروں کہ جان سے جاتا ہوں ایک بار
دشمن کو میرے لوٹ کے آنا بھی ہوتا ہے
اب آپ لوگ سود و زیاں سوچتے رہیں
بندہ تو چوتھی سمت روانہ بھی ہوتا ہے
عرفان صدیقی

اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 72
کہیں تو لٹنا ہے پھر نقدِ جاں بچانا کیا
اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا
اِن آندھیوں میں بھلا کون اِدھر سے گزرے گا
دریچے کھولنا کیسا، دیئے جلانا کیا
جو تِیر بوڑھوں کی فریاد تک نہیں سنتے
تو اُن کے سامنے بچوں کا مسکرانا کیا
میں گر گیا ہوں تو اب سینے سے اُتر آؤ
دلیر دشمنو، ٹوٹے مکاں کو ڈھانا کیا
نئی زمیں کی ہوائیں بھی جان لیوا ہیں
نہ لوٹنے کے لیے کشتیاں جلانا کیا
کنارِ آب کھڑی کھیتیاں یہ سوچتی ہیں
وہ نرم رو ہے ندی کا مگر ٹھکانا کیا
عرفان صدیقی

گویا نہ رہا اب کہیں دنیا میں ٹھکانا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 10
دلّی سے نکلتے ہی ہوا جینے سے دل سیر
گویا نہ رہا اب کہیں دنیا میں ٹھکانا
افسوس کہ غفلت میں کٹا عہد جوانی
تھا اب بقا گھر میں مگر، ہم نے نہ جلنا
یاروں کو ہمیں دیکھ کے عبرت نہیں ہوتی
اب واقعہ سب اپنا پڑا ہم کو سنانا
لی ہوش میں آنے کی جو ساقی سے اجازت
فرمایا خبردار کہ نازک ہے زمانہ
ڈھاریں سی کچھ اے ہمقدمو تم سے بندھی ہے
حالیؔ کو کہیں راہ میں تم چھوڑ نہ جانا
الطاف حسین حالی

مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 4
جب تلک ہست تھے، دشوار تھا پانا تیرا
مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا
نہ جہت تیرے لیئے ہے نہ کوئی جسم ہے تو
چشم ظاہر کو ہے مشکل نظر آنا تیرا
شش جہت چھان چُکے ہم تو کھُلا ہم پہ حال
رگِ گردن سے ہے نزدیک ٹھکانا تیرا
اب تو پیری میں نہیں پوچھنے والا کوئی
کبھی اے حسن جوانی! تھا زمانہ تیرا
اے صدف چاک کرے گا یہی سینہ اک دن
تو یہ سمجھی ہے کہ گوہر ہے یگانا تیرا
دور اگلے شعراء کا تھا کبھی، اور امیرؔ
اب تو ہے ملک معانی میں زمانہ تیرا
امیر مینائی