ٹیگ کے محفوظات: ٹھوکر

سب سے گلی کوچوں میں ملو ہو پھرتے رہو ہو گھر گھر تم

دیوان چہارم غزل 1433
شاید ہم سے ضد رکھتے ہو آتے نہیں ٹک ایدھر تم
سب سے گلی کوچوں میں ملو ہو پھرتے رہو ہو گھر گھر تم
کیا رکھیں یہ تم سے توقع خاک سے آ کے اٹھائوگے
راہ میں دیکھو افتادہ تو اور لگائو ٹھوکر تم
اس سے زیادہ ہوتا نہ ہو گا دنیا میں بھی نچلاپن
سون کسے بیٹھے رہتے ہو حال ہمارا سن کر تم
لطف و مہر و خشم و غضب ہم ہر صورت میں راضی ہیں
حق میں ہمارے کر گذرو بھی جو کچھ جانو بہتر تم
رنگ ہمارا جیسا اب ہے کاہے کو آگے ایسا تھا
پاؤں میں مہندی اپنے لگا کر آفت لائے سر پر تم
لوگ صنم کہتے تھے تم کو ان سمجھے تھے ہم محظوظ
سختی سی سختی کھینچی گئی یعنی نکلے پتھر تم
چپکے سے کچھ آجاتے ہو آنکھیں بھر بھر لاتے ہو
میر گذرتی کیا ہے دل پر کڑھا کرو ہو اکثر تم
میر تقی میر

تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 30
اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی
تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی
روحوں میں جلتی آگ، خیالوں میں کھلتے پھول
ساری صداقتیں کسی کافر نگاہ کی
جب بھی غمِ زمانہ سے آنکھیں ہوئیں دوچار
منہ پھیر کر تبسمِ دل پر نگاہ کی
باگیں کھنچیں، مسافتیں کڑکیں، فرس رکے
ماضی کی رتھ سے کس نے پلٹ کر نگاہ کی
دونوں کا ربط ہے تری موجِ خرام سے
لغزش خیال کی ہو کہ ٹھوکر نگاہ کی
مجید امجد

یہاں ہر قدم پر ہے ٹھوکر سنبھل جا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 33
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا
یہاں ہر قدم پر ہے ٹھوکر سنبھل جا
بڑے شوق سے پی، مگر پی کے مت گر
ہتھیلی پہ ہے تیری ساغر سنبھل جا
جہاں حق کی قسمت ہے سولی کا تختہ
یہاں جھوٹ ہے زیبِ منبر سنبھل جا
قیامت کہاں کی، جزا کیا، سزا کیا
ہے ہرسانس اک تازہ محشر سنبھل جا
وہ طوفاں نے پُرخوف جبڑوں کو کھولا
وہ بدلے ہواؤں کے تیور سنبھل جا
نہیں اس خرابات میں اذنِ لغزش
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا
مجید امجد

اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 290
مسلسل چاک کے محور پہ میں ہوں
اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں
تُو مجھ کو دیکھ یا صرفِ نظر کر
مثالِ گل ترے کالر پہ میں ہوں
سبھی کردار واپس جا چکے ہیں
اکیلا وقت کے تھیٹر پہ میں ہوں
صلائے عام ہے تنہائیوں کو
محبت کے لیے منظر پہ میں ہوں
پھر اس کے بعد لمبا راستہ ہے
ابھی تو شام تک دفتر پہ میں ہوں
اٹھو بیڈ سے چلو گاڑی نکالو
فقط دو سو کلو میٹر پہ میں ہوں
مجھے بھی رنگ کر لینا کسی دن
ابھی کچھ دن اسی نمبر پہ میں ہوں
بجا تو دی ہے بیل میں نے مگر اب
کہوں کیسے کہ تیرے در پہ میں ہوں
ازل سے تیز رو بچے کے پیچھے
کسی چابی بھری موٹر پہ میں ہوں
پڑا تمثیل سے باہر ہوں لیکن
کسی کردار کی ٹھوکر پہ میں ہوں
کہے مجھ سے شبِ شہر نگاراں
ابھی تک کس لیے بستر پہ میں ہوں
یہی ہر دور میں سوچا ہے میں نے
زمیں کے آخری پتھر پہ میں ہوں
ہلا منصور مت اپنی جگہ سے
پہاڑ ایسا خود اپنے سر پہ میں ہوں
منصور آفاق

آوارگی کی شام مجھے گھر نے آ لیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 118
ٹوٹے ہوئے کواڑ کے منظر نے آ لیا
آوارگی کی شام مجھے گھر نے آ لیا
میں جا رہا تھا زخم کا تحفہ لیے بغیر
پھر یوں ہوا کہ راہ کے پتھر نے آ لیا
میں سن رہا ہوں اپنے ہی اندر کی سسکیاں
کیا پھر کسی عمل کے مجھے ڈرنے آ لیا
گزرا کہیں سے اور یہ آنکھیں چھلک پڑیں
یادش بخیر ! یادِ ستم گر نے آ لیا
وہ جس جگہ پہ اُس سے ملاقات ہونی تھی
پہنچا وہاں تو داورِ محشر نے آ لیا
منصور چل رہا تھا ابھی کہکشاں کے پاس
یہ کیا ہوا کہ پاؤں کی ٹھوکر نے آ لیا
منصور آفاق