ٹیگ کے محفوظات: ٹھان

تیور بدل چلے ہیں بہت ، آسمان کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کیا کیا خم اور ہوں ابھی بازو کمان کے
تیور بدل چلے ہیں بہت ، آسمان کے
جیسے کوئی اُڑائے کبوتر ، بہ روزِ جشن
پُرزے ہوا کے ہاتھ تھے یوں بادبان کے
بہروپ ہی بھرے گا ، کرم بھی وہ گر کرے
نکلا جو گھر سے ، راہزنی ہی کی ٹھان کے
ماجد ہمیں بھی ، دیکھیے جھانسہ دیا ہے کیا
آنچل سا آسمان پہ ،بدلی نے تان کے
ماجد صدیقی

بے بسی اپنا مقدُور ہی جان لیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
بن پڑے گر تو یہ ہار بھی مان لیں
بے بسی اپنا مقدُور ہی جان لیں
ہاں نمونے کی مخلوق ہیں اِک ہمیں
ہر کسی کا جو، سر اپنے بُہتان لیں
ہم کہ تشنہ تھل ایسے ہیں، بہرِ سکوں
اوس تک کا بھی کیونکر نہ احساں لیں
اے جفا جُو! ہم انساں ہیں پُتلے نہیں
کیا پتہ، کس گھڑی؟ دل میں کیا ٹھان لیں
عیش پر جو لگا اُن کے، ضِد ہے اُنہیں
اپنے ذمّے ہمِیں وُہ بھی تاوان لیں
ناز ماجدؔ ہمیں کیا ہو پرواز پر
وُہ جو شاہین ہیں جانے کب آن لیں
ماجد صدیقی

آئو بھلا کبھو تو سو جائو زبان کر

دیوان دوم غزل 815
رہ جائوں چپ نہ کیونکے برا جی میں مان کر
آئو بھلا کبھو تو سو جائو زبان کر
کہتے ہیں چلتے وقت ملاقات ہے ضرور
جاتے ہیں ہم بھی جان سے ٹک دیکھو آن کر
کیا لطف تھا کہ میکدے کی پشت بام پر
سوتے تھے مست چادر مہتاب تان کر
آیا نہ چل کے یاں تئیں وہ باعث حیات
مارا ہے ان نے جان سے ہم کو تو جان کر
ایسے ہی تیز دست ہو خونریزی میں تو پھر
رکھوگے تیغ جور کی یک چند میان کر
یہ بے مروتی کہ نگہ کا مضائقہ
اتنا تو میری جان نہ مجھ سے سیان کر
رنگین گور کرنی شہیدوں کی رسم ہے
تو بھی ہماری خاک پہ خوں کے نشان کر
رکھنا تھا وقت قتل مرا امتیاز ہائے
سو خاک میں ملایا مجھے سب میں سان کر
تم تیغ جور کھینچ کے کیا سوچ میں گئے
مرنا ہی اپنا جی میں ہم آئے ہیں ٹھان کر
وے دن گئے کہ طاقت دل کا تھا اعتماد
اب یوں کھڑے کھڑے نہ مرا امتحان کر
اس گوہر مراد کو پایا نہ ہم نے میر
پایان کار مر گئے یوں خاک چھان کر
میر تقی میر

آنکھ کے جسم پہ خوابوں کی رِدا تان سکوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 138
کاش میں بھی کبھی یاروں کا کہا مان سکوں
آنکھ کے جسم پہ خوابوں کی رِدا تان سکوں
میں سمندر ہوں، نہ توُ میرا شناور، پیارے
توُ بیاباں ہے نہ میں خاک تری چھان سکوں
رُوئے دِلبر بھی وہی، چہرۂ قاتل بھی وہی
توُ کبھی آنکھ ملائے تو میں پہچان سکوں
وقت یہ اور ہے، مجھ میں یہ کہاں تاب کہ میں
یاریاں جھیل سکوں، دُشمنیاں ٹھان سکوں
جب ستم ہے یہ تعارف ہی تو کیسا ہو، اگر
میں اُسے جاننے والوں کی طرح جان سکوں
عرفان صدیقی