ٹیگ کے محفوظات: ٹکر

دل اپنا تو بجھا سا دیا ہے جان چراغ مضطر ہے

دیوان سوم غزل 1262
دیکھیے کیا ہو سانجھ تلک احوال ہمارا ابتر ہے
دل اپنا تو بجھا سا دیا ہے جان چراغ مضطر ہے
خاطر اپنی اتنی پریشاں آنکھیں پھریں ہیں اس بن حیراں
تم نے کہا دل چاہے تو بیٹھو دل کیا جانے کیدھر ہے
تاب و تواں کا حال وہی ہے آج تنک ہم چیتے ہیں
تم پوچھو تو اور کہیں کیا نسبت کل کی بہتر ہے
اس بے مہر صنم کی خاطر سختی سی سختی کھینچی ہم
جی پگھلے کیا اس کا ہم پر رحم کہاں وہ پتھر ہے
سر نہ بڑے کے چڑھیے اس میں ہرگز زیاں ہے سر ہی کا
سمجھے نہ سمجھے کوئی اسے یہ پہاڑ کی آخر ٹکر ہے
جب سے ملا اس آئینہ رو سے خوش کی ان نے نمد پوشی
پانی بھی دے ہے پھینک شبوں کو میر فقیر قلندر ہے
میر تقی میر