ٹیگ کے محفوظات: ٹوٹ

آنکھ کا نیند سے دل چُھوٹ رہا ہو جیسے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 103
نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
آنکھ کا نیند سے دل چُھوٹ رہا ہو جیسے
رنگ پھیلا تھا لُہو میں نہ ستارہ چمکا
اب کے ہر لمس ترا جُھوٹ رہا ہو جیسے
پھر شفق ہُوئی کوچہ جاناں کی زمیں
آبلہ پاؤں کا پھر پُھوٹ رہا ہو جیسے
روشنی پائی نہیں ، رات بھی باقی ہے ابھی
چاند سے رابطہ مگر ٹوٹ رہا ہو جیسے
سُرخ بیلیں تو ستونوں میں چڑھی ہیں لیکن
کوئی آنگن کا سکوں ، لُوٹ رہا ہو جیسے
پروین شاکر

خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1021
کبھو میر اس طرف آکر جو چھاتی کوٹ جاتا ہے
خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے
خرابی دل کی کیا انبوہ درد و غم سے پوچھو ہو
وہی حالت ہے جیسے شہر لشکر لوٹ جاتا ہے
شکست اس رنگ آئی بے خودی عشق میں دل پر
نشے میں مست سے جیسے کہ شیشہ پھوٹ جاتا ہے
نہ یوں ہووے کہ اٹھ جائوں کہ ہے افسوس کی جاگہ
جب ایسا طائر خوش لہجہ پھنس کر چھوٹ جاتا ہے
نہیں کچھ عقل میں آتا کہ دیوانہ سا میر ایدھر
کبھو آتا جو ہے کیدھر کو مارے زوٹ جاتا ہے
میر تقی میر