ٹیگ کے محفوظات: ٹوٹی

نیند نے آنکھ پہ دستک دی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 84
جانے پھر اگلی صدا کِس کی تھی
نیند نے آنکھ پہ دستک دی تھی
موج در موج ستارے نکلے
جھیل میں چاند کرن اُتری تھی
پریاں آئی تھیں کہانی کہنے
چاندنی رات نے لوری دی تھی
بات خوشبو کی طرح پھیل گئی
پیرہن میرا ، شِکن تیری تھی
آنکھ کو یاد ہے وہ پَل اب بھی
نیند جب پہلے پہلے ٹوٹی تھی
عشق تو خیر تھا اندھا لڑکا
حسن کو کون سی مجبوری تھی
کیوں وہ بے سمت ہُوا جب میں نے
اُس کے بازو پہ دُعا باندھی تھی
پروین شاکر

ہجراں کا غم تھا تہ میں سختی سے جان ٹوٹی

دیوان پنجم غزل 1763
دو چار روز آگے چھاتی گئی تھی کوٹی
ہجراں کا غم تھا تہ میں سختی سے جان ٹوٹی
کلیاں جھڑی ہیں کچی بکھرے ہیں پھول سارے
پائیز نے چمن میں کیا کیا بہار لوٹی
سیر چمن میں کچھ تو جی سے ہوس نکلتی
موسم میں گل کے بلبل افسوس ہے نہ چھوٹی
میر تقی میر

صحن میں اک چنبلی کی بوٹی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 440
جاگ اٹھی جو قسمت تھی پھوٹی ہوئی
صحن میں اک چنبلی کی بوٹی ہوئی
صحنِ باغِ ارم کی ہیں رہداریاں
ہاتھیوں کے پڑاؤ سے ٹوٹی ہوئی
ہر طرف ہیں کھجوروں کے زخمی درخت
بستیاں ہیں مدینے کی لوٹی ہوئی
آسماں ہو گیا مہرباں خاک پر
لوٹ آئی ہے رُت کوئی روٹھی ہوئی
دل میں منصور خودکُش دھماکہ ہوا
اور پھر اپنی بن اطلاع جھوٹی ہوئی
منصور آفاق