ٹیگ کے محفوظات: ٹلی

دل کی افسردگی کچھ کم تو ہوئی ہم نفسو شکر کرو

چہرہ افروز ہوئی پہلی جھڑی ہم نفسو شکر کرو
دل کی افسردگی کچھ کم تو ہوئی ہم نفسو شکر کرو
آؤ پھر یادِ عزیزاں ہی سے میخانہِ جاں گرم کریں
دیر کے بعد یہ محفل تو جمی ہم نفسو شکر کرو
آج پھر دیر کی سوئی ہوئی ندی میں نئی لہر آئی
دیر کے بعد کوئی ناؤ چلی ہم نفسو شکر کرو
رات بھر شہر میں بجلی سی چمکتی رہی ہم سوئے رہے
وہ تو کہیے کہ بلا سر سے ٹلی ہم نفسو شکر کرو
درد کی شاخِ تہی کا سہ میں اشکوں کے نئے پھول کھلے
دل جلی شام نے پھر مانگ بھری ہم نفسو شکر کرو
آسماں لالہِ خونیں کی نواؤں سے جگر چاک ہوا
قصرِ بیداد کی دیوار گری ہم نفسو شکر کرو
ناصر کاظمی

سوتے سوتے آنکھ ملی پھر

ہوا چلی اور خوب چلی پھر
سوتے سوتے آنکھ ملی پھر
ایسی بھی کیا وحشت گھر سے
پھرا کرو گے گلی گلی پھر
پروانوں کو جلانے والی
اپنی آگ میں آپ جلی پھر
کتنی بلائیں ٹل گئیں لیکن
جان پہ آئی کہاں ٹلی پھر
بات بات پر یوں مت اُلجھو
سنو گے مجھ سے بری بھلی پھر
سائے گہرے ہو گئے باصرؔ
دنیا میں اک شام ڈھلی پھر
باصر کاظمی