ٹیگ کے محفوظات: ویسا

جیسا لکھنا چاہا ویسا لِکھا ہے

کم لِکھا ہے لیکن جتنا لِکھا ہے
جیسا لکھنا چاہا ویسا لِکھا ہے
اب پڑھنے والے بھی تھوڑا غور کریں
لکھنے والوں نے تو کیا کیا لِکھا ہے
ٹھیک ہی سمجھے میری پریشانی کو تم
اُس نے پھر کچھ ایسا ویسا لِکھا ہے
ہم لِکھ لِکھ ہلکان ہوئے اور وہ بولے
ہاں تم نے بھی اچھا خاصا لِکھا ہے
باصرِؔ تیرا حال اسی نے کیا ہے غیر
جس نے خود کو تیرا اپنا لِکھا ہے
باصر کاظمی

باصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا

چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا
باصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا
رہتی رہی ہے کوئی نہ کوئی کمی ضرور
ایسا نہیں کیا کبھی ویسا نہیں کیا
دو چار بار دیکھ لو خود جا کے اُس کے پاس
کچھ بے سبب تو ہم نے کنارا نہیں کیا
کہتے رہے ہو تم اُسے ہمدرد و غم گُسار
اور اُس نے بات کرنا گوارا نہیں کیا
گر تھیں نگاہ میں مِری کوتاہیاں تو ٹھیک
اغیار نے تو کوئی اشارہ نہیں کیا
حیراں ہوں لوگ کہتے ہیں کیوں اُس کو چارہ گر
جس نے کسی مریض کو اچھا نہیں کیا
دن رات ہم کو قرض چکانے کی فکر ہے
گو اُس نے واپسی کا تقاضا نہیں کیا
ہوتے جو آج اُن کی نگاہوں میں سرفراز
ہم نے تو کوئی کام بھی ایسا نہیں کیا
باصر کاظمی

ننّھی ننّھی خواہشیں خلقت کی، جو اغوا کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
وہ کمانڈو بھی تو ہوں ایسوں کو جو سِیدھا کریں
ننّھی ننّھی خواہشیں خلقت کی، جو اغوا کریں
ہر نگارِ شام اُن کے واسطے ہو مہ بکف
ہم ہلالِ عید بعد از سال ہی دیکھا کریں
اُن کے جتنے تیر ہیں موزوں ہوں وہ اہداف پر
اور ہمیں تلقین یہ ،ایسا کریں ویسا کریں ،
خود ہی جب اقبال سا لکھنا پڑے اس کا جواب
اے خدا تجھ سے بھی ہم شکوہ کریں تو کیا کریں
وہ ادا کرتے ہیں جانے موسموں کو کیا خراج
بدلیاں جن کے سروں پر بڑھ کے خود سایا کریں
ماجد صدیقی

میں ایسا چاہتا کب تھا پر ایسا ہو گیا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 81
مرے خواب سے اوجھل اُس کا چہرہ ہو گیا ہے
میں ایسا چاہتا کب تھا پر ایسا ہو گیا ہے
تعلق اب یہاں کم ہے ملاقاتیں زیادہ
ہجومِ شہر میں ہر شخص تنہا ہو گیا ہے
تری تکمیل کی خواہش تو پوری ہو نہ پائی
مگر اک شخص مجھ میں بھی ادھورا ہو گیا ہے
جو باغِ آرزو تھا اب وہی ہے دشتِ وحشت
یہ دل کیا ہونے والا تھا مگر کیا ہو گیا ہے
میں سمجھا تھا سیئے گی آگہی چاکِ جنوں کو
مگر یہ زخم تو پہلے سے گہرا ہو گیا ہے
میں تجھ سے ساتھ بھی تو عمر بھر کا چاہتا تھا
سو اب تجھ سے گلہ بھی عمر بھر کا ہو گیا ہے
ترے آنے سے آیا کون سا ایسا تغیر
فقط ترکِ مراسم کا مداوا ہو گیا ہے
مرا عالم اگر پوچھیں تو اُن سے عرض کرنا
کہ جیسا آپ فرماتے تھے ویسا ہو گیا ہے
میں کیا تھا اور کیا ہوں اور کیا ہونا ہے مجھ کو
مرا ہونا تو جیسے اک تماشا ہو گیا ہے
یقینا ہم نے آپس میں کوئی وعدہ کیا تھا
مگر اس گفتگو کو ایک عرصہ ہو گیا ہے
اگرچہ دسترس میں آ گئی ہے ساری دنیا
مگر دل کی طرف بھی ایک در وا ہو گیا ہے
یہ بے چینی ہمیشہ سے مری فطرت ہے لیکن
بقدرِ عمر اس میں کچھ اضافہ ہو گیا ہے
مجھے ہر صبح یاد آتی ہے بچپن کی وہ آواز
چلو عرفانؔ اٹھ جاؤ سویرا ہو گیا ہے
عرفان ستار

میری حالت تو کوئی دیکھنے والا سمجھے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 74
جو ہو خود ایک تماشا وہ بھلا کیا سمجھے
میری حالت تو کوئی دیکھنے والا سمجھے
مجھ میں آباد ہے اک شہر، ترے حُسن کا شہر
وہ جو باہر سے مجھے دیکھے وہ تنہا سمجھے
مجھ سے ممکن یہ نہیں ہے کہ میں کھل کر کہہ دوں
اس کے بس میں یہ نہیں ہے کہ اشارہ سمجھے
آہ ایسی، کہ سنے کوئی تو سمجھے نغمہ
اشک ایسا، کوئی دیکھے تو ستارا سمجھے
ٹھیک ہے دشت بھی ہوں، باغ بھی ہوں، دریا بھی
جس کو جیسا نظر آؤں مجھے ویسا سمجھے
لفظ پردہ ہیں، اسے کاش بتا دے کوئی
اس کو سمجھائے کہ سمجھے، مرا لہجہ سمجھے
بس یہی ہے جو میّسر ہے مرے قرب کے ساتھ
جو مرے دل میں بسے وہ اِسے دنیا سمجھے
سانحہ کرکے سنایا تھا اُسے رنجِ فراق
سُن کے بس اتنا کہا اُس نے کہ ’’اچھا۔ ۔ ۔ سمجھے‘‘
دل کسی حرفِ ملائم سے سنبھل بھی جاتا
میرے سینے میں اچھلتا ہے بگولا، سمجھے؟
وصل سے اِن کے نمو پاتی ہے اک کیفیۤت
کوئی الفاظ و معانی کا یہ رشتہ سمجھے
اتنا دشوار ہوں کیا میں جو کسی پر نہ کھلوں؟
کوئی تو ہو مجھے میرے علاوہ سمجھے
ابھی سمجھو تو میں کیا خوب سخن تم سے کروں
بعد میرے مجھے سمجھے بھی تو پھر کیا سمجھے
تُو سمجھتا ہے اُسے، شکر بجا لا عرفان
وہ جسے دیر نہ کعبہ، نہ کلیسا سمجھے
عرفان ستار

کچھ بھی تمہارے غم کے علاوہ نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 12
اب دردِ دل کا کوئی مداوا نہیں رہا
کچھ بھی تمہارے غم کے علاوہ نہیں رہا
وہ دن بھی تھے کہ میں بھی بہت خوش لباس تھا
اب کیا کہ جب وہ دیکھنے والا نہیں رہا
میری دعا ہے تجھ سے یہ دنیا وفا کرے
میرا تو تجربہ کوئی اچھا نہیں رہا
ماحول میرے گھر کا بدلتا رہا، سو اب
میرے مزاج کا تو ذرا سا نہیں رہا
کہتے نہ تھے ہمیشہ رہے گا نہ اتنا رنج
گزرے ہیں چند سال ہی، دیکھا، نہیں رہا
کیا سانحہ ہوا ہے یہ آنکھوں کو کیا خبر
منظر نہیں رہا، کہ اجالا نہیں رہا
کیوں دل جلائیں کرکے کسی سے بھی اب سخن
جب گفتگو کا کوئی سلیقہ نہیں رہا
میں چاہتا ہوں دل بھی حقیقت پسند ہو
سو کچھ دنوں سے میں اسے بہلا نہیں رہا
دھندلا سا ایک نقش ہے، جیسے کہ کچھ نہ ہو
موہوم سا خیال ہے، گویا نہیں رہا
ویسے تو اب بھی خوبیاں اُس میں ہیں ان گنت
جیسا مجھے پسند تھا، ویسا نہیں رہا
عرفان، دن پھریں گے ترے، یوں نہ رنج کر
کیا، میری بات کا بھی بھروسہ نہیں رہا؟
عرفان ستار

جیسا وہ کہتے ہیں ویسا کہیے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 261
دل کے ہر داغ کو غنچہ کہیے
جیسا وہ کہتے ہیں ویسا کہیے
جذب دل کے کوئی معنی نہ رہے
کس سے عجز لب گویا کہیے
کوئی آواز بھی آواز نہیں
دل کو اب دل کی تمنا کہیے
اتنا آباد کہ ہم شور میں گم
اتنا سنسان کہ صحرا کہیے
ہے حقیقت کی حقیقت دنیا
اور تماشے کا تماشا کہیے
لوگ چلتی ہوئی تصویریں ہیں
شہر کو شہر کا نقشہ کہیے
خون دل حاصل نظارہ ہے
نگہ شوق کو پردا کہیے
شاخ جب کوئی چمن میں ٹوٹے
اسے انداز صبا کا کہیے
دیدہ ور کون ہے ایسا باقیؔ
چشم نرگس کو بھی بینا کہیے
باقی صدیقی