ٹیگ کے محفوظات: ویران کشید گاہیں

ویران کشید گاہیں

مَری کی ویراں کشید گاہوں میں

جو شیشہ و جام ودستِ ساقی کی منزلوں سے

گزر کے جب بھی بڑھا ہے آگے

تو اُس کے اکثر غموں سے اُجڑے ہوئے دماغوں

کے تیرہ گوشے

اَنا کی شمعوں کی روشنی سے جھلک اٹھے ہیں!

میں اس فتیلے کے اس سرے پر،

کھڑا ہوں، مجذوب کی نظر سے

مَری کی ویراں کشید گاہوں میں جھانکتا ہوں!

میں کامگاری کے انتہائی سرور سے کانپنے لگا ہوں

جہان بھر کے عظیم سیاح دیر تک یہ خبر نہ لائے

کہ نیل،

جو بے شمار صدیوں سے،

مصر کے خشک ریگزاروں کو،

رنگ و نغمہ سے بھر رہا تھا

کہاں سے ہوتی تھی اس کی تقدیر کی روپہلی سحر ہویدا؟

میں آج ایسے ہی نیل کی وسعتوں

کی دہلیز پر کھڑا ہوں!

کھنڈر جو صبحِ ازل کی مانند

ایستادہ ہیں،

اِس یقیں سے،

کہ ابتدا ہی اگر ہیولائے انتہا ہے

تو انتہا بھی کبھی وہی نقطہ بن گئی ہے،

جہاں سے سالک، اوّلیں بار جادہ پیما!

کھنڈر جو صبحِ ازل کی مانند دیکھتے ہیں،

یہ دیکھ کر مضمحل نہیں ہیں،

کہ اُن کے آغوش کے فتیلے کی روشنی

سرد پڑ چکی ہے

وہ اس فتیلے کی

سرکشی کو بھی جانتے ہیں!

ن م راشد