ٹیگ کے محفوظات: ویرانہ

بڑا مہنگا پڑا یارانۂ دل

خوب تھا رہتے جو بیگانۂ دل
بڑا مہنگا پڑا یارانۂ دل
ایک وہ جس کا ہے دل دیوانہ
ایک میں ہوں کہ ہوں دیوانۂ دل
خاک تو پہلے بھی اُڑتی تھی مگر
تجھ سے آباد تھا ویرانۂ دل
آج وہ گھر ہے کھنڈر سا ویراں
جس پہ تحریر تھا کاشانۂ دل
اک ذرا لہر اٹھی اور چھلکا
کیا بھرا رہتا تھا پیمانۂ دل
ابھی باقی ہے طلب آنکھوں میں
ہے ادھورا ابھی افسانۂ دل
جس قدر پی سکو پی لو باصرِؔ
بند ہونے کو ہے میخانۂ دل
باصر کاظمی

گھونٹ گھونٹ بھرتے ہیں آپ جس کا ہرجانہ

نینا عادل ۔ غزل نمبر 3
زندگی چھلکتا اک آرزو کا پیمانہ
گھونٹ گھونٹ بھرتے ہیں آپ جس کا ہرجانہ
پوچھتا نہیں ہرگز حالِ دل کسی صورت
آئینے میں رہتا ہے کوئی ہم سے بیگانہ
رات کی ہتھیلی پر رینگتے ہیں اندیشے
رقص لو پہ کرتا ہے جس طرح سے پروانہ
خال خال بھاتا ہے کوئی پوجنے والا
شاذ شاذ کھلتا ہے رشکِ دل یہ بت خانہ
پیاس جھیل جاتی ہے دور تک سرابوں کو
دشت اوڑھ لیتے ہیں خامشی سے ویرانہ
نینا عادل

کوئی تو سمجھادیا رِ غیر میں اپنا ہمیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 62
یہ غنیمت ہے کہ اُن آنکھوں نے پہچانا ہمیں
کوئی تو سمجھادیا رِ غیر میں اپنا ہمیں
وہ کہ جن کے ہاتھ میں تقدیرِ فصل گُل رہی
دے گئے سُوکھے ہُوئے پتوں کا نذرانہ ہمیں
وصل میں تیرے خرابے بھی لگیں گھر کی طرح
اور تیرے ہجر میں بستی بھی ویرانہ ہمیں
سچ تمھارے سارے کڑوے تھے،مگر اچھے لگے
پھانس بن کر رہ گیا بس ایک افسانہ ہمیں
اجنبی لوگوں میں ہو تم اور اِتنی دُور ہو
ایک اُلجھن سی رہا کرتی ہے روزانہ ہمیں
سُنتے ہیں قیمت تمھاری لگ رہی ہے آج کل
سب سے اچھے دام کس کے ہیں ،یہ بتلانا ہمیں
تاکہ اُس خوش بخت تاجر کو مبارکباد دیں
اور اُس کے بعد دل کو بھی ہے سمجھانا ہمیں
پروین شاکر

وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 92
دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا
غالب ایسے کنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

جی میں ہے کہوں حال غریبانہ کہیں گے

دیوان ششم غزل 1895
ہم رو رو کے درد دل دیوانہ کہیں گے
جی میں ہے کہوں حال غریبانہ کہیں گے
سودائی و رسوا و شکستہ دل و خستہ
اب لوگ ہمیں عشق میں کیا کیا نہ کہیں گے
دیکھے سو کہے کوئی نہیں جرم کسو کا
کہتے ہیں بجا لوگ بھی بیجا نہ کہیں گے
ہوں دربدر و خاک بسر چاک گریباں
اس طور سے کیونکر مجھے رسوا نہ کہیں گے
ویرانے کو مدت کے کوئی کیا کرے تعمیر
اجڑی ہوئی آبادی کو ویرانہ کہیں گے
میں رویا کڑھا کرتا ہوں دن رات جو درویش
من بعد مرے تکیے کو غم خانہ کہیں گے
موقوف غم میر کہ شب ہوچکی ہمدم
کل رات کو پھر باقی یہ افسانہ کہیں گے
میر تقی میر

میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو

دیوان پنجم غزل 1704
دل کھلتا ہے واں صحبت رندانہ جہاں ہو
میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو
ان بکھرے ہوئے بالوں سے خاطر ہے پریشاں
وے جمع ہوئے پر ہیں بلا شانہ جہاں ہو
رہنے سے مرے پاس کے بدنام ہوئے تم
اب جاکے رہو واں کہیں رسوا نہ جہاں ہو
کچھ حال کہیں اپنا نہیں بے خودی تجھ کو
غش آتا ہے لوگوں کو یہ افسانہ جہاں ہو
کیوں جلتا ہے ہر جمع میں مانند دیے کے
اس بزم میں جا شمع سا پروانہ جہاں ہو
ان اجڑی ہوئی بستیوں میں دل نہیں لگتا
ہے جی میں وہیں جا بسیں ویرانہ جہاں ہو
وحشت ہے خردمندوں کی صحبت سے مجھے میر
اب جا رہوں گا واں کوئی دیوانہ جہاں ہو
میر تقی میر

مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 348
زمانہ… تجھ کو کیا حاصل ہوا قصہ بنانے میں
مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں
غزل کہنا پڑی ایسے سخن آباد میں مجھ کو
خدا مصلوب ہوتے ہیں جہاں مصرعہ بنانے میں
نجانے کون سے دکھ کی اداسی کا تعلق ہے
مری اس سائیکی کو اتنا رنجیدہ بنانے میں
تجھے دل نے کسی بہتر توقع پر بلایا تھا
لگے ہو تم مسائل اور پیچیدہ بنانے میں
اگر آ ہی گئے ہو تو چلو آؤ یہاں بیٹھو
ذرا سی دیر لگنی ہے مجھے قہوہ بنانے میں
کسے معلوم کیا کیا کر دیا قربان آنکھوں نے
یہ تنہائی کی آبادی، یہ ویرانہ بنانے میں
مری صبح منور کی جسے تمہید بننا تھا
کئی صدیاں لگا دی ہیں وہ اک لمحہ بنانے میں
کہاں سے آ گئی اتنی لطافت جسم میں میرے
شبیں ناکام پھرتی ہیں مرا سایہ بنانے میں
کھڑا ہے لاش پر میری وہ کیسی تمکنت کے ساتھ
جسے تکلیف ہوتی تھی مجھے زینہ بنانے میں
مرے منزل بکف جن پہ تُو طعنہ زن دکھائی دے
یہ پاؤں کام آئے ہیں ترا رستہ بنانے میں
مجھ ایسے آسماں کو گھر سے باہر پھینکنے والو
ضرورت چھت کی پڑتی ہے کوئی کمرہ بنانے میں
کہیں رہ جاتی تھیں آنکھیں کہیں لب بھول جاتا تھا
بڑی دشواریاں آئیں مجھے چہرہ بنانے میں
پلٹ کر دیکھتے کیا ہو۔ صفِ دشمن میں یاروں کو
بڑے ماہر ہیں اپنے دل کو یہ کوفہ بنانے میں
کسی کرچی کے اندر کھو گیا میرا بدن مجھ سے
جہانِ ذات کو اک آئینہ خانہ بنانے میں
مٹھاس ایسے نہیں آئی مرے الفاظِ تازہ میں
لگی ہے عمر مجھ کو دودھ کا چشمہ بنانے میں
بڑا دل پھینک ہے یہ دل بڑی آوارہ آنکھیں ہیں
کوئی عجلت ہوئی شاید دل و دیدہ بنانے میں
کسی ہجرِ مسلسل کا بڑا کردار ہے منصور
محبت کی کہانی اتنی سنجیدہ بنانے میں
انا الحق کی صداؤں میں کہیں گم ہو گیا میں بھی
اسے منصور اپنی ذات کا حصہ بنانے میں
مرے ہمزاد اپنا آپ نادیدہ بنانے میں
تجھے کیا مل گیا آنکھوں کو لرزیدہ بنانے میں
منصور آفاق

راہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 43
اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا
راہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا
کس طرف سے آئی تھی تیری صدا
ہر طرف تکنا پڑا، جانا پڑا
زندگی ہے، شورشیں ہی شورشیں
خود کو اکثر ڈھونڈ کر لانا پڑا
تیری رحمت سے ہوئے سب میرے کام
شکر ہے دامن نہ پھیلانا پڑا
کوئی دل کی بات کیا کہنے لگے
اپنا اک اک لفظ دہرانا پڑا
راستے میں اس قدر تھے حادثات
ہر قدم پھر دل کو سمجھانا پڑا
زندگی جیسے اسی کا نام ہے
اس طرح دھوکا کبھی کھانا پڑا
ہے کلی بے تاب کھلنے کے لئے
اور اگر کھلتے ہی مرجھانا پڑا
زندگی کا راز پانے کے لئے
زندگی کی راہ میں آنا پڑا
راستے سے اس قدر تھے بے خبر
مل گیا جو اس کو ٹھہرانا پڑا
دوستوں کی بے رُخی باقیؔ نہ پوچھ
دشمنوں میں دل کو بہلانا پڑا
باقی صدیقی