ٹیگ کے محفوظات: وہ اور میں

وہ اور میں

اُس کے دھیان میں ارمانوں کی جوت جگائے بیٹھا ہوں

وہ گوری تو ایسی ہے

جیسے دھوپ کے گلشن میں بہتی ندی کا نغمہ ہو

روشنیوں کی رِم جھم میں

اُس کا بھیگا بھیگا مکھڑا جب دیکھوں

اَن دیکھا ہی رہ جائے

بے تسخیر ہے جادو اس کی آنکھوں کا۔۔۔۔

وہ تو وہ ہے

اور مرے آدرش کے جیون مندر میں

دیکھوں تو مجھ جیسی ہے

میں اپنی پہچان کے بھیدی لمحے میں

اس سے پوچھوں

گوری! تم کیوں اپنے رنگ دکھا کر مجھ سے

اپنا انگ چراتی ہو؟

وہ مجھ کو سمجھائے لیکھ اشارے میں

تم مٹی کی کایا ہو

روپ سے روپ بدلتا، ڈھلتا سایا ہو

میں تو میں ہوں

کل کے آج میں، آج کے کل میں رہتی ہوں

جنم جنم سے اک اک پل میں رہتی ہوں

آفتاب اقبال شمیم