ٹیگ کے محفوظات: وہیں

چھب جو بھی ہے اُس کی آتشیں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
زہر اب ہے، مے ہے، انگبیں ہے
چھب جو بھی ہے اُس کی آتشیں ہے
انوار ہی پھُوٹتے ہیں اُس سے
زرخیز بڑی وُہ سرزمیں ہے
جو ناز کرے اُسے روا ہے
وُہ شوخ ہے، شنگ ہے، حسیں ہے
ہالہ ہے کہ اُس کا ہے گریباں
مطلع ہے کہ اُس کی آستیں ہے
کیا ذکر ہو اُس کے آستاں کا
جو لطف ہے جانئے وہیں ہے
نسبت ہے یہی اب اُس سے اپنی
ہم خاتمِ چشم، وہ نگیں ہے
حرفوں سے جو منعکس ہے ماجدؔ
یہ بھی تو جمالِ ہم نشیں ہے
ماجد صدیقی

اس آگہی سے میں تو کہیں کا نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 14
دنیا سے دور ہو گیا، دیں کا نہیں رہا
اس آگہی سے میں تو کہیں کا نہیں رہا
رگ رگ میں موجزن ہے مرے خوں کے ساتھ ساتھ
اب رنج صرف قلبِ حزیں کا نہیں رہا
دیوار و در سے ایسے ٹپکتی ہے بے دلی
جیسے مکان اپنے مکیں کا نہیں رہا
تُو وہ مہک، جو اپنی فضا سے بچھڑ گئی
میں وہ شجر، جو اپنی زمیں کا نہیں رہا
سارا وجود محوِ عبادت ہے سر بہ سر
سجدہ مرا کبھی بھی جبیں کا نہیں رہا
پاسِ خرد میں چھوڑ دیا کوچہءِ جنوں
یعنی جہاں کا تھا میں، وہیں کا نہیں رہا
وہ گردبادِ وہم و گماں ہے کہ اب مجھے
خود اعتبار اپنے یقیں کا نہیں رہا
اب وہ جواز پوچھ رہا ہے گریز کا
گویا محل یہ صرف نہیں کا نہیں رہا
میرا خدا ازل سے ہے سینوں میں جاگزیں
وہ تو کبھی بھی عرشِ بریں کا نہیں رہا
ہر ذرۤہءِ زمیں کا دھڑکتا ہے اس میں غم
دل کو مرے ملال یہیں کا نہیں رہا
آخر کو یہ سنا تو بڑھا لی دکانِ دل
اب مول کوئی لعل و نگیں کا نہیں رہا
عرفان، اب تو گھر میں بھی باہر سا شور ہے
گوشہ کوئی بھی گوشہ نشیں کا نہیں رہا
عرفان ستار

گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 89
مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی
گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی
مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی
خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی
کوئی ضد نہ تھی کوچے میں در ہی کے قریں، ہوتی
جہاں پر آپ کہہ دیتے مری تربت وہیں ہوتی
پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا
تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی
اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا
شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی
ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل
یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی
نہ رو اے بلبل ناشاد مجھ کمبخت کے آگے
کہ تابِ ضبط اب دکھے ہوئے دل سے نہیں ہوتی
شبِ فرقت یہ کہہ کر آسماں سے مر گیا کوئی
سحر اب اس طرح ہو گی اگر ایسے نہیں ہوتی
قسم کھاتے ہو میرے سامنے وعدے پہ آنے کی
چلو بیٹھو وفا داروں کی یہ صورت نہیں ہوتی
بجا ہے آپ بزمِ عدو سے اٹھ کے آ جاتے
اگر نالے نہ کرتا میں تو ساری شب وہیں ہوتی
ترے کوچے کے باہر یہ سمجھ کر جان دیتا ہوں
کہ مرتا ہے جہاں کوئی وہیں تربت نہیں ہوتی
شبِ مہتاب بھی تاریک ہو جاتی ہے آنکھوں میں
قمر جب میرے گھر وہ چاند سی صورت نہیں ہوتی
قمر جلالوی

پھوٹی سہتے ہیں آنجی سہتے نہیں

دیوان ششم غزل 1843
ایسے دیکھے ہیں اندھے لوگ کہیں
پھوٹی سہتے ہیں آنجی سہتے نہیں
مر گئے ناامید ہم مہجور
خواہشیں جی کی اپنے جی میں رہیں
دیر دریا کنارہ کرتا رہا
عشق میں آنکھیں اپنی زور بہیں
مرتے تھے اس گلی میں لاکھوں جہاں
ہم بھی مارے گئے ندان وہیں
دیر سے میر اٹھ کے کعبے گئے
کہیے کیا نکلے جا کہیں کے کہیں
میر تقی میر

پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے

دیوان دوم غزل 969
سیر کی ہم نے ہر کہیں پیارے
پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے
خشک سال وفا میں اک مدت
پلکیں لوہو میں تر رہیں پیارے
یک نظر دیکھنے کی حسرت میں
آنکھیں تو پانی ہو بہیں پیارے
پہنچی ہے ضعف سے یہ اب حالت
جہاں پہنچا رہا وہیں پیارے
تجھ گلی میں رہے ہے میر مگر
دیکھیں ہیں جب نہ تب نہیں پیارے
میر تقی میر

یہ درد اب کہیں گے کسو شانہ بیں سے ہم

دیوان دوم غزل 863
کب تک رہیں گے پہلو لگائے زمیں سے ہم
یہ درد اب کہیں گے کسو شانہ بیں سے ہم
تلواریں کتنی کھائی ہیں سجدے میں اس طرح
فریادی ہوں گے مل کے لہو کو جبیں سے ہم
فتراک تک یہ سر جو نہ پہنچا تو یا نصیب
مدت لگے رہے ترے دامان زیں سے ہم
ہوتا ہے شوق وصل کا انکار سے زیاد
کب تجھ سے دل اٹھاتے ہیں تیری نہیں سے ہم
چھاجے جو پیش دستی کرے نور ماہ پر
دیکھی عجب سفیدی تری آستیں سے ہم
یہ شوق صید ہونے کا دیکھو کہ آپ کو
دکھلایا صیدگہ میں یسار و یمیں سے ہم
تکلیف درد دل کی نہ کر تنگ ہوں گے لوگ
یہ بات روز کہتے رہے ہم نشیں سے ہم
اڑتی ہے خاک شہر کی گلیوں میں اب جہاں
سونا لیا ہے گودوں میں بھر کر وہیں سے ہم
آوارہ گردی اپنی کھنچی میر طول کو
اب چاہیں گے دعا کسو عزلت نشیں سے ہم
میر تقی میر

آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

دیوان اول غزل 2
کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن
ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ
جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا
جانا نہیں کچھ جز غزل آکر کے جہاں میں
کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا
نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا
جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیرنگیں تھا
مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے
کل تک تو یہی میر خرابات نشیں تھا
میر تقی میر

درخت چھوڑ کے اپنی زمیں نہیں جاتے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 258
کہیں خرابۂ جاں کے مکیں نہیں جاتے
درخت چھوڑ کے اپنی زمیں نہیں جاتے
تھکے ہوئے کسی لمبے سفر سے لوٹے ہیں
ہوائے تازہ ابھی ہم کہیں نہیں جاتے
بہت یقیں ترے دستِ رفو پہ ہے لیکن
میں کیا کروں مرے زخمِ یقیں نہیں جاتے
یہ کون ہیں جو ببولوں سے چھاؤں مانگتے ہیں
اُدھر جو ایک شجر ہے وہیں نہیں جاتے
میں تم سے ملنے کو اس شہرِ شب سے آتا ہوں
جہاں تم ایسے ستارہ جبیں نہیں جاتے
یہ جانتے ہوئے ہم پانیوں میں اترے ہیں
کہ ڈرنے والے بھنور کے قریں نہیں جاتے
عرفان صدیقی

عشق فرمائے جہاں میں ہوں وہیں ہے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 436
شیخ صاحب کہے افلاک نشیں ہے کوئی
عشق فرمائے جہاں میں ہوں وہیں ہے کوئی
پاؤں پڑتی ہے ازل کی صبح انوار فروش
چہرۂ برقِ تجلیٰ کی جبیں ہے کوئی
جانتا ہوں میں محمدﷺکے وسیلے سے اسے
مجھ کو محسوس نہیں ہوتا کہیں ہے کوئی
ذرے ذرے میں دھڑ کتا ہے وہ مشعوقِ ازل
کرسی و عرش و سموات و زمیں ہے کوئی
کیسی یکتائی کا احساس مجھے ہے منصور
ایک بس اس کے سوا میرا نہیں ہے کوئی
منصور آفاق

برقِ تجلیٰ اوڑھ لی سورج نشیں ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 54
جب قریہء فراق مری سرزمیں ہوا
برقِ تجلیٰ اوڑھ لی سورج نشیں ہوا
جا کر تمام زندگی خدمت میں پیش کی
اک شخص ایک رات میں اتنا حسیں ہوا
میں نے کسی کے جسم سے گاڑی گزار دی
یہ حادثہ بھی روح کے اندر کہیں ہوا
ڈر ہے کہ بہہ نہ جائیں در و بام آنکھ کے
اک اشک کے مکاں میں سمندر مکیں ہوا
ہمت ہے میرے خانہء دل کی کہ بار بار
لٹنے کے باوجود بھی خالی نہیں ہوا
منظر جدا نہیں ہوا اپنے مقام سے
ہونا جہاں تھا واقعہ بالکل وہیں ہوا
کھڑکی سے آرہا تھا ابھی تو نظر مجھے
یہ خانماں خراب کہاں جاگزیں ہوا
چھونے لگی ہے روح کا پاتال کوئی سانس
منصور کون یاد کے اتنے قریں ہوا
منصور آفاق

زیست ہر بات پہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 256
لہر حالات کی اک زیر زمیں ہوتی ہے
زیست ہر بات پہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتی ہے
زندگی بھی تو الجھتی ہے سیاست کی طرح
شعلہ ہوتا ہے کہیں آگ کہیں ہوتی ہے
روشنی رنگ بدلتی ہے تمنا کی طرح
ہم بھٹک جاتے ہیں منزل تو وہیں ہوتی ہے
فاصلہ بھی ہے نگاہوں کے لئے اک جادو
ہاتھ جو آ نہ سکے چیز حسیں ہوتی ہے
بیٹھے بیٹھے چمک اٹھتی ہیں نگاہیں باقیؔ
دور کی شمع کہیں اتنی قریں ہوتی ہے
باقی صدیقی

پہلے سے نہیں ہم کہ وہ پہلے سے نہیں لوگ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 100
رہتے ہیں تصور سے بھی اب دور کہیں لوگ
پہلے سے نہیں ہم کہ وہ پہلے سے نہیں لوگ
منہ کھولے ہوئے بیٹھے ہیں کشکول کی صورت
یاقوت گراں مایہ سے تا نان جویں لوگ
ملتا ہے جہاں کوئی چمکتا ہوا ذرہ
رُکتے ہیں وہیں لوگ بھٹکتے ہیں وہیں لوگ
کیا آپ کی رفتار کا شعلہ ہے زمانہ
رکھ دیتے ہیں ہر نقش زمانہ پہ جبیں لوگ
آ پہنچا ہے اس نکتے پہ افسانۂ ہستی
کچھ سنتے نہیں آپ تو کچھ کہتے نہیں لوگ
اس دور سے چپ چاپ گزر جا دل ناداں
احساس کی آواز بھی سن لیں نہ کہیں لوگ
حالات بدلنا کوئی مشکل نہیں باقیؔ
حالات کے رستے میں ہیں دیوار ہمیں لوگ
باقی صدیقی