ٹیگ کے محفوظات: وہابی

تم لمسِ زندگی کی خرابی سمجھتے ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 238
ہوتے ہیں کیسے گال ، گلابی سمجھتے ہو
تم لمسِ زندگی کی خرابی سمجھتے ہو
تم مجھ سے پوچھتے ہو الف کی کہانیاں
کیا مجھ کو کوئی کرمِ کتابی سمجھتے ہو
کیاگفتگو ہو تم سے فقیہِعجم کہ تم
غالب سی شخصیت کو شرابی سمجھتے ہو
اے دوست یہ بھی آتی ہے فردِ علوم میں
کیوں دوستی کو غیر نصابی سمجھتے ہو
عبدالرسول ! چھاؤں کی نرمی تو کم نہیں
کیوں نیم کے شجر کو وہابی سمجھتے ہو
منصور یہ لہو ہے پروں پر لگا ہوا
تم فاختہ کا رنگ عنابی سمجھتے ہو
منصور آفاق