ٹیگ کے محفوظات: وند

اس شہر میں ہمارے خدا وند ہیں بہت

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 39
لات و مناتِ جہل کے فرزند ہیں بہت
اس شہر میں ہمارے خدا وند ہیں بہت
کُھلتے نہیں یہ زورِ مسلسل کے باوجود
آلودگیِٔ کہنہ سے در بند ہیں بہت
دے وقفۂ سکون پر اُٹھا ہُوا قدم
راہِ سفر میں سختیاں ہرچند ہیں بہت
کھوئیں گے کیا یہ معرکہ دوبارہ ہار کر
فکرِ زیاں کریں جو خرد مند ہیں بہت
پوشیدگی ہے ایک طرح کی برہنگی
دلقِ گدا پہ مکر کے پیوند ہیں بہت
اِن کو شعورِ رفتہ و آئندہ دیجئے
یہ لوگ رسمِ وقت کے پابند ہیں بہت
آفتاب اقبال شمیم

چلے فلم کوئی وصال کی دلِ ہجر مند کے سامنے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 565
کوئی نرم نرم سی آگ رکھ مرے بند بند کے سامنے
چلے فلم کوئی وصال کی دلِ ہجر مند کے سامنے
یہ عمل ومل کے کمال چپ، یہ ہنروری کے جمال چپ
یہ ہزار گن سے بھرے ہیں کیا، ترے بھاگ وند کے سامنے
کھلی کھڑکیوں کے فلیٹ سے ذرا جھانک شام کو روڈ پر
ترے انتظار کی منزلیں ہیں مری کمند کے سامنے
کئی ڈاٹ کام نصیب تھے جسے زینہ زنیہ معاش کے
وہ منارہ ریت کا دیوتا تھا اجل پسند کے سامنے
ابھی اور پھینک ہزار بم، مرے زخم زخم پہاڑ پر
کوئی حیثیت نہیں موت کی، کسی سر بلند کے سامنے
منصور آفاق