ٹیگ کے محفوظات: ولی

مظہر ہے چمن کی تشنگی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 155
اُترا ہے جو منہ کلی کلی کا
مظہر ہے چمن کی تشنگی کا
پھٹنے کو ہے کیا کوئی پٹاخہ
کیوں شور تھما لگے گلی کا
اوہام فنا نظر میں رقصاں
تحفہ ہے یہ عمر ادھ ڈھلی کا
دیکھا کوئی گُل تو یاد آیا
ہنسنا کسی ناز کی پلی کا
اس شوخ کا جسم ہے کہ ماجدؔ
موزوں کوئی شعر ہے ولیؔ کا
ماجد صدیقی

اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 4
میخانوں کی رونق ہیں ، کبھی خانقہوں کی
اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے
دلداریِ واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ
اب شہر میں ہر رندِ خرابات ولی ہے
قطعہ
فیض احمد فیض