ٹیگ کے محفوظات: وقار

ہاں مِلے گر تو یوں وقار مِلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
شیر کی کھال مستعار مِلے
ہاں مِلے گر تو یوں وقار مِلے
تھے وہ درباریوں کے چھوڑے ہوئے
جو پرندے پئے شکار مِلے
ڑُخ بہ رُخ چاہے گردِ جَور سجے
تخت کو اور بھی نکھار ملے
جو بھی ہے دردمندِ خلق اُس کو
اور کیا جُز فرازِ دار مِلے
جو خلافِ فرعون اُٹّھی تھی
لب بہ لب کیوں وہی پُکار مِلے
کاسہ لیسوں میں اک سے اک تازہ
جو ملے وہ وفا شعار مِلے
وہ جو لائے بقائے حفظِ عوام
کون ماجِد کو ایسا یار مِلے
ماجد صدیقی

کہیو ہم صحرانوردوں کا تمامی حال زار

دیوان دوم غزل 804
اے صبا گر شہر کے لوگوں میں ہو تیرا گذار
کہیو ہم صحرانوردوں کا تمامی حال زار
خاک دہلی سے جدا ہم کو کیا یک بارگی
آسماں کو تھی کدورت سو نکالا یوں غبار
منصب بلبل غزل خوانی تھا سو تو ہے اسیر
شاعری زاغ و زغن کا کیوں نہ ہووے اب شعار
طائر خوش زمزمہ کنج قفس میں ہے خموش
چہچہے چہیاں کریں ہیں صحن گلشن میں ہزار
برگ گل سے بھی کیا نہ ایک نے ٹک ہم کو یاد
نامہ و پیغام و پرسش بے مراتب درکنار
بے خلش کیونکر نہ ہو گرم سخن گلزار میں
میں قفس میں ہوں کہ میرا تھا دلوں میں خارخار
بلبل خوش لہجہ کے جائے پہ گو غوغائیاں
طرح غوغا کی چمن میں ڈالیں پر کیا اعتبار
طائران خوش لب و لہجہ نہیں رہتے چھپے
شور سے ان کے بھرے ہیں قریہ و شہر و دیار
شہر کے کیا ایک دو کوچوں میں تھی شہرت رہی
شہروں شہروں ملکوں ملکوں ہے انھوں کا اشتہار
کیا کہوں سوے چمن ہوتا جو میں سرگرم گشت
پھول گل جب کھلنے لگتے جوش زن ہوتی بہار
شور سن سن کر غزل خوانی کا میری ہم صفیر
غنچہ ہو آتے جو ہوتا آب و رنگ شاخسار
خوش نوائی کا جنھیں دعویٰ تھا رہ جاتے خموش
جن کو میں کرتا مخاطب ان کو ہوتا افتخار
بعضوں کو رشک قبول خاطر و لطف سخن
بعضوں کا سینہ فگار و بعضوں کا دل داغدار
ایکوں کے ہونٹوں کے اوپر آفریں استاد تھا
ایک کہتے تھے رسوخ دل ہے اپنا استوار
ربط کا دعویٰ تھا جن کو کہتے تھے مخلص ہیں ہم
جانتے ہیں ذات سامی ہی کو ہم سب خاکسار
نقل کرتے کیا یہ صحبت منعقد جب ہوتی بزم
بیٹھ کر کہتے تھے منھ پر میرے بعضے بعضے یار
بندگی ہے خدمت عالی میں ہم کو دیر سے
کر رکھی ہے جان اپنی ہم نے حضرت پر نثار
سو نہ خط ان کا نہ کوئی پرچہ پہنچا مجھ تلک
واہ وا ہے رابطہ رحمت ہے یہ اخلاص و پیار
رفتہ رفتہ ہو گئیں آنکھیں مری دونوں سفید
بسکہ نامے کا کیا یاروں کے میں نے انتظار
لکھتے گر دو حرف لطف آمیز بعد از چند روز
تو بھی ہوتا اس دل بے تاب و طاقت کو قرار
سو تو یک ننوشتہ کاغذ بھی نہ آیا میرے پاس
ان ہم آوازوں سے جن کا میں کیا ربط آشکار
خط کتابت سے یہ کہتے تھے نہ بھولیں گے تجھے
آویں گے گھر بار کی تیرے خبر کو بار بار
جب گیا میں یاد سے تب کس کا گھر کاہے کا پاس
آفریں صد آفریں اے مردمان روزگار
اب بیاباں در بیاباں ہے مرا شور و فغاں
گو چمن میں خوش کی تم نے میری جاے نالہ وار
ہے مثل مشہور یہ عمر سفر کوتاہ ہے
طالع برگشتہ بھی کرتے ہیں اب امداد کار
اک پر افشانی میں بھی ہے یہ وطن گلزار سا
سامعوں کی چھاتیاں نالوں سے ہوویں گی فگار
منھ پہ آویں گے سخن آلودئہ خون جگر
کیونکہ یاران زماں سے چاک ہے دل جوں انار
لب سے لے کر تا سخن ہیں خونچکاں شکوے بھرے
لیک ہے اظہار ہر ناکس سے اپنا ننگ و عار
چپ بھلی گو تلخ کامی کھینچنی اس میں پڑے
بیت بحثی طبع نازک پر ہے اپنی ناگوار
آج سے کچھ بے حسابی جور کن مردم نہیں
ان سے اہل دل سدا کھینچے ہیں رنج بے شمار
بس قلم رکھ ہاتھ سے جانے بھی دے یہ حرف میر
کاہ کے چاہے نہیں کہسار ہوتے بے وقار
کام کے جو لوگ صاحب فن ہیں سو محسود ہیں
بے تہی کرتے رہیں گے حاسدان نابکار
میر تقی میر

ترے خیال پہ تھو تیرے انتظار پہ تف

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 207
شبِ وصال پہ لعنت شبِ قرار پہ تف
ترے خیال پہ تھو تیرے انتظار پہ تف
وہ پاؤں سو گئے جو بے ارادہ اٹھتے تھے
طواف کوچہء جاناں پہ، کوئے یار پہ تف
تجھ ایسے پھول کی خواہش پہ بار ہا لعنت
بجائے خون کے رکھتا ہوں نوکِ خار پہ تف
دلِ تباہ کو تجھ سے بڑی شکایت ہے
اے میرے حسنِ نظر ! تیرے اعتبار پہ تف
پہنچ سکا نہیں اس تک جو میرے زخم کا نور
چراغ خون پہ تھو سینہء فگار پہ تف
ہیں برگِ خشک سی شکنیں خزاں بکف بستر
مرے مکان میں ٹھہری ہوئی بہار پہ تف
کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ
ترے ملالِ تری چشم اشکبار پہ تف
تجھے خبر ہی نہیں ہے کہ مرگیا ہوں میں
اے میرے دوست ترے جیسے غمگسار پہ تف
یونہی بکھیرتا رہتا ہے دھول آنکھوں میں
ہوائے تیز کے اڑتے ہوئے غبار پہ تف
خود آپ چل کے مرے پاس آئے گا کعبہ
مقامِ فیض پہ بنتی ہوئی قطار پہ تف
حیات قیمتی ہے خواب کے دریچوں سے
رہِ صلیب پہ لعنت، فراز دار پہ تف
صدا ہو صوتِ سرافیل تو مزہ بھی ہے
گلے کے بیچ میں اٹکی ہوئی پکار پہ تف
جسے خبر ہی نہیں ہے پڑوسی کیسے ہیں
نمازِ شام کی اُس عاقبت سنوار پہ تف
مری گلی میں اندھیرا ہے کتنے برسوں سے
امیرِ شہر! ترے عہدِ اقتدار پہ تف
ترے سفید محل سے جو پے بہ پے ابھرے
ہزار بار انہی زلزلوں کی مار پہ تف
ترے لباس نے دنیا برہنہ تن کر دی
ترے ضمیر پہ تھو، تیرے اختیار پہ تف
سنا ہے چادرِ زہرا کو بیچ آیا ہے
جناب شیخ کی دستارِ بد قمار پہ تف
تُو ماں کی لاش سے اونچا دکھائی دیتا ہے
ترے مقام پہ لعنت ترے وقار پہ تف
مرے گھرانے کی سنت یہی غریبی ہے
ترے خزانے پہ تھو مالِ بے شمار پہ تف
یہی دعا ہے ترا سانپ پر قدم آئے
ہزار ہا ترے کردارِ داغ دار پہ تف
کسی بھی اسم سے یہ ٹوٹتا نہیں منصور
فسردگی کے سلگتے ہوئے حصار پہ تف
منصور آفاق

ہے بوسہ زن بہار محمدﷺ کے نام پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 168
تہذیب کانکھار محمدﷺ کے نام پر
ہے بوسہ زن بہار محمدﷺ کے نام پر
بے عیب شاہکار ہے ربِ کریم کا
نقطہ بھی ناگوار محمدﷺ کے نام پر
لمحے اسی کے فیض کی زندہ امانتیں
یہ روز وشب نثار محمدﷺ کے نام پر
چودہ سو سال سے گل و گلزار کے تمام
موسم ہیں ساز گار محمدﷺ کے نام پر
ذرے ہوں مہر و ماہ اسی اسم کے طفیل
ذی حس ہوں ذی وقار محمدﷺ کے نام پر
منصور ان کے نام پہ مرنا عروجِ بخت
قرباں میں بار بار محمدﷺ کے نام پر
منصور آفاق