ٹیگ کے محفوظات: وفائی

بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی

رہِ عِشق میں کب دیا کچھ سنائی دکھائی
بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی
سمجھتے ہیں اہلِ نظر حسن کی یہ ادائیں
گھڑی دیکھنے کے بہانے کلائی دکھائی
ہماری توجہ بھی اُس دم ذرا منقسم تھی
مداری نے کچھ ہاتھ کی بھی صفائی دکھائی
دوبارہ بھروسہ کیا آزمائے ہوئے پر
بہت آپ نے بھی طبیعت رجائی دکھائی
عجب کیا جو عاشق نے سر پھوڑ کر جان دے دی
عجب کیا جو محبوب نے بے وفائی دکھائی
باصر کاظمی

آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 93
اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی
تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں
آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی
ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے
تو نے کس گھڑی ظالم میری ہمنوائی کی
ترک کر چکے قاصد کوئے نا مراداں کو
کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی
طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کے
آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی
پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاد
دیکھنا اڑا دیگا پھر خبر رہائی کی
دکھ ہوا جب اس در پر کل فراز کو دیکھا
لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی
احمد فراز

سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 19
شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا
سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا
تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا
ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا
جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا
اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا
سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے
جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا
ردا چھٹی مرے سر سے،مگر میں کیا کہتی
کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا
ملے تو ایسے،رگِ جاں کو جیسے چُھو آئے
جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا
کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے
بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا
میں سچ کو سچ ہی کہوں گی ،مجھے خبر ہی نہ تھی
تجھے بھی علم نہ تھا میری اس بُرائی کا
نہ دے سکا مجھے تعبیر،خواب تو بخشے
میں احترام کروں گی تری بڑائی کا
پروین شاکر

زندگی حالتِ جدائی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 208
لمحے لمحے کی نارسائی ہے
زندگی حالتِ جدائی ہے
مردِ میدان ہوں اپنی ذات کا میں
میں نے سب سے شکست کھائی ہے
اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے
اب یہ صورت ہے جانِ جاں کہ تجھے
بھولنے میں مری بھلائی ہے
خود کو بھولا ہوں، اُس کو بھولا ہوں
عمر بھر کی یہی کمائی ہے
میں ہنر مندِ رنگ ہوں میں نے
خون تھوکا ہے داد پائی ہے
جانے یہ تیرے وصل کے ہنگام
تیری فرقت کہاں سے آئی ہے
جون ایلیا

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 118
یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
پسند آتا ہے دل سے یوسف کو
وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں
ہے بدن خوابِ وصل کا دنگل
آؤ زور آزمائی کرتے ہیں
اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں
ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں
ہم عجب ہیں کہ اس کو بانہوں میں
شکوہء نارسائی کرتے ہیں
حالتِ وصل میں بھی ہم دونوں
لمحہ لمحہ جدائی کرتے ہیں
آپ جو میری جاں ہیں۔۔میں دل ہوں
مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں
باوفا ایک دوسرے سے میاں
ہر نفس بے وفائی کرتے ہیں
جو ہیں سرحد کے پار سے آئے
وہ بہت خود ستائی کرتے ہیں
پَل قیامت کے سود خوار ہیں جون
یہ ابد کی کمائی کرتے ہیں
جون ایلیا

بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 81
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے ‘شرمِ نا رسائی’ کا
بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا
نہ ہو’ حسنِ تماشا دوست’ رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آسا
چراغِ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
نہ مارا جان کر بے جرم، غافل!@ تیری گردن پر
رہا مانند خونِ بے گنہ حق آشنائی کا
تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
وہی اک بات ہے جو یاں نفَس واں نکہتِ گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
دہانِ ہر” بتِ پیغارہ جُو”، زنجیرِ رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
نہ دے نامے کو اتنا طول غالب، مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا
@نسخۂ حمیدیہ، نظامی، حسرت اور مہر کے نسخوں میں لفظ ’قاتل‘ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

وصل کی رات میں لڑائی کی

دیوان ششم غزل 1881
یار نے ہم سے بے ادائی کی
وصل کی رات میں لڑائی کی
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
اب توقع نہیں رہائی کی
کلفت رنج عشق کم نہ ہوئی
میں دوا کی بہت شفائی کی
طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب
دھوم ہے اس کی رہگرائی کی
خندئہ یار سے طرف ہوکر
برق نے اپنی جگ ہنسائی کی
کچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میں
دیکھ کر کیا یہ آشنائی کی
وصل کے دن کو کار جاں نہ کھنچا
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
منھ لگایا نہ دختر رز کو
میں جوانی میں پارسائی کی
جور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچے
عمر نے سخت بے وفائی کی
کوہکن کیا پہاڑ توڑے گا
عشق نے زور آزمائی کی
چپکے اس کی گلی میں پھرتے رہے
دیر واں ہم نے بے نوائی کی
اک نگہ میں ہزار جی مارے
ساحری کی کہ دلربائی کی
نسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئی
برسوں تک ہم نے جبہہ سائی کی
میر کی بندگی میں جانبازی
سیر سی ہو گئی خدائی کی
میر تقی میر

بو کہ پھر کر بہار آئی ہے

دیوان پنجم غزل 1780
گل قفس تک نسیم لائی ہے
بو کہ پھر کر بہار آئی ہے
عشق دریا ہے ایک لنگردار
تہ کسو نے بھی اس کی پائی ہے
وہ نہ شرماوے کب تلک آخر
دوستی یاری آشنائی ہے
وے نہیں تو انھوں کا بھائی اور
عشق کرنے کی کیا منائی ہے
بے ستوں کوہکن نے کیا توڑا
عشق کی زور آزمائی ہے
بھیڑیں ٹلتی ہیں اس کے ابرو ہلے
چلی تلوار تو صفائی ہے
لڑکا عطار کا ہے کیا معجون
ہم کو ترکیب اس کی بھائی ہے
کج روی یار کی نہیں جاتی
یہی بے طور بے ادائی ہے
آنے کہتا ہے پھر نہیں آتا
یہی بدعہدی بے وفائی ہے
کر چلو نیکی اب تو جس تس سے
شاید اس ہی میں کچھ بھلائی ہے
برسوں میں میر سے ملے تو کہا
اس سے پوچھو کہ یہ کجائی ہے
میر تقی میر

یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی

دیوان سوم غزل 1272
کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی
یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی
تعارف کیا رہا اہل چمن سے
ہوئی اک عمر میں اپنی رہائی
کہاں کا بے ستوں فرہاد کیسا
یہ سب تھی عشق کی زورآزمائی
جفا اٹھتی وفا جو عمر کرتی
سو کی اس رفتنی نے بے وفائی
کہیں سو کیا کہیں سر پر ہمارے
قیامت شامت اعمال لائی
گیا اس ترک کی آمد کو سن جی
تھمی ہم سے نہ اک دم بھی اوائی
موافق ٹک ہو تو تو پھر جہاں میں
مثل ہو میری تیری آشنائی
بغیر از چہرئہ مہتابی یار
ہمارے منھ پہ چھوٹے ہے ہوائی
گئی ٹکڑے ہو دل کی آرسی تو
ہوئی صدچند اس کی خودنمائی
فراق یار کو آساں نہ سمجھو
کہ جان و تن کی مشکل ہے جدائی
پھر آنا کعبے سے اپنا نہ ہو گا
اب اس کے گھر کی ہم نے راہ پائی
ہوئے ہیں درد دل سے میر کے تنگ
پھر اس جوگی نے یاں دھونی لگائی
میر تقی میر

طرف ہے مجھ سے اب ساری خدائی

دیوان دوم غزل 960
بتوں سے آنکھ کیوں میں نے لڑائی
طرف ہے مجھ سے اب ساری خدائی
نرا دھوکا ہی ہے دریاے ہستی
نہیں کچھ تہ سے تجھ کو آشنائی
بگڑتی ہی گئی صورت ہماری
گئے پر دل کے پھر کچھ بن نہ آئی
نہ نکلا ایک شب اس راہ وہ ماہ
بہت کی ہم نے طالع آزمائی
کہا تھا میں نہ دیکھو غیر کی اور
سو تم نے آنکھ مجھ سے ہی چھپائی
نہ ملیے خاک میں کہہ کیونکے پیارے
گذرتی ہے کڑی تیری جدائی
جفا اس کی نہ پہنچی انتہا کو
دریغا عمر نے کی بے وفائی
گلے اس مہ نے لگ کر ایک دو رات
مہینوں تک مری چھاتی جلائی
نہ تھا جب درمیاں آئینہ تب تک
تھی یک صورت کہ ہو جاوے صفائی
نظر اس کی پڑی چہرے پر اپنے
نمدپوشوں سے آنکھ اب کب ملائی
بڑھائی کس قدر بات اس کے قد کی
قیامت میر صاحب ہیں چوائی
میر تقی میر

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

دیوان اول غزل 435
ہے غزل میر یہ شفائیؔ کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی
اس کے ایفاے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی
دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر
آہ نے آہ نارسائی کی
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میر
کس بھروسے پر آشنائی کی
میر تقی میر

یعنی طاقت آزمائی ہوچکی

دیوان اول غزل 432
تاب دل صرف جدائی ہوچکی
یعنی طاقت آزمائی ہوچکی
چھوٹتا کب ہے اسیر خوش زباں
جیتے جی اپنی رہائی ہوچکی
آگے ہو مسجد کے نکلی اس کی راہ
شیخ سے اب پارسائی ہوچکی
درمیاں ایسا نہیں اب آئینہ
میرے اس کے اب صفائی ہوچکی
ایک بوسہ مانگتے لڑنے لگے
اتنے ہی میں آشنائی ہوچکی
بیچ میں ہم ہی نہ ہوں تو لطف کیا
رحم کر اب بے وفائی ہوچکی
آج پھر تھا بے حمیت میر واں
کل لڑائی سی لڑائی ہوچکی
میر تقی میر

جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 242
گرفتِ زر کے گرفتاروں میں رہائی بانٹ
جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ
تُو مجھ کو چھوڑ، کسی اور سے تعلق رکھ
تمام شہر میں اپنی نہ بے وفائی بانٹ
مجھے بھی بخش تصرف کسی کے خوابوں پر
ذرا سی اپنے فقیروں میں بھی خدائی بانٹ
پلٹ پلٹ کے نہ دیکھ اُس کا دل ربا چہرہ
کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ
یہ لوگ شعر کو دیکھیں تری بصارت سے
دیارِ حرف میں آنکھیں جلی جلائی بانٹ
کتابِ ذات کی بے چہرگی کو چہرہ دے
ہزار سال پہ تقریب رونمائی بانٹ
عجیب قحط ہے لوگوں کو عشق بھول گیا
تمام گاؤں میں گندم کٹی کٹائی بانٹ
سنا ہے شہر میں تیری کئی دکانیں ہیں
مرے امام! ذرا زہد کی کمائی بانٹ
ترے لیے تو ہے بد، سات کا عدد منصور
تُو آٹھ روز پہ تقویم کی اکائی بانٹ
منصور آفاق

بات اپنی پرائی کرتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 126
آپ سے آشنائی کرتے ہیں
بات اپنی پرائی کرتے ہیں
کر رہے ہیں کوئی خطا جیسے
اس طرح ہم بھلائی کرتے ہیں
جن پہ ہوتا ہے اعتبار وہی
وقت پر بے وفائی کرتے ہیں
راہ سے آشنا نہیں پھر بھی
حسرت رہنمائی کرتے ہیں
بھول جاتے ہیں خود کو بھی باقیؔ
لوگ جب ہمنوائی کرتے ہیں
باقی صدیقی