ٹیگ کے محفوظات: وصال

لہو میں تلخیٔ شیریں دمِ وصال کی تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
نظر میں تازگی عُریانیٔ جمال کی تھی
لہو میں تلخیٔ شیریں دمِ وصال کی تھی
طلوع میں بھی مرے شوخیاں تو تھیں لیکن
مزہ تھا اُس میں جو ساعت مرے زوال کی تھی
وگرنہ تجھ سا طرحدار مانتا کب تھا
جو تھی تو اس میں کرامت مرے سوال کی تھی
بدستِ شوق فقط میں ہی تیغِ تیز نہ تھا
حیا کے ہاتھ میں صُورت تری بھی ڈھال کی تھی
فروِغ نُور تھا جس سے شبِ طلُوعِ بدن
سرِ چراغ وُہ سُرخی ترے ہی گال کی تھی
کنارِ شوق تلک شغلِ کسبِ لُطف گیا
کوئی بھی فکر نہ جیسے ہمیں مآل کی تھی
نہ جس سے تھی کبھی درکار مخلصی ماجدؔ
گرفت مجھ پہ وہ کرنوں کے نرم جال کی تھی
ماجد صدیقی

مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 141
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے
محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا
مزاجِ عشق میں کب اعتدال رکھا ہے
ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ
یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے
بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں
سو میں نے رشتہ غم کو بحال رکھا ہے
ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا
سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے
حسابِ لطفِ حریفاں کیا ہے جب تو کھلا
کہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے
بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے
فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی
یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے
احمد فراز

کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 140
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے، جانتے ہیں
دامِ دنیا سے کہیں زلف کا جال اچھا ہے
میں نے پوچھا تھا کہ آخر یہ تغافل کب تک؟
مسکراتے ہوئے بولے کہ سوال اچھا ہے
دل نہ مانے بھی تو ایسا ہے کہ گاہے گاہے
یارِ بے فیض سے ہلکا سا ملال اچھا ہے
لذتیں قرب و جدائی کی ہیں اپنی اپنی
مستقل ہجر ہی اچھا نہ وصال اچھا ہے
رہروانِ رہِ اُلفت کا مقدر معلوم
ان کا آغاز ہی اچھا نہ مال اچھا ہے
دوستی اپنی جگہ، پر یہ حقیقت ہے فراز
تیری غزلوں سے کہیں تیرا غزال اچھا ہے
احمد فراز

عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 32
ہونے کا اظہار نہیں ہے، صرف خیال میں زندہ ہوں
عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں
ٹھیک ہے میرا ہونا تیرے ہونے سے مشروط نہیں
لیکن اتنا یاد رہے میں ایک ملال میں زندہ ہوں
اپنا دل برباد کیا تو پھر یہ گھر آباد ہوا
پہلے میں اک عرش نشیں تھا اب پاتال میں زندہ ہوں
اک امکان کی بے چینی سے ایک محال کی وحشت تک
میں کس حال میں زندہ تھا اور میں کس حال میں زندہ ہوں
دنیا میری ذات کو چاہے رد کر دے، تسلیم کرے
میں تو یوں بھی تیرے غم کے استدلال میں زندہ ہوں
کتنی جلدی سمٹا ہوں میں وسعت کی اس ہیبت سے
کل تک عشق میں زندہ تھا میں آج وصال میں زندہ ہوں
ایک فنا کی گردش ہے یہ ایک بقا کا محور ہے
ایک دلیل نے مار دیا ہے ایک سوال میں زندہ ہوں
عرفان ستار

فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 136
جو حال خیز ہو دل کا وہ حال ہے بھی نہیں
فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں
تُو آ کے بے سروکارانہ مار ڈال مجھے
کہ تیغ تھی بھی نہیں اور ڈھال ہے بھی نہیں
مرا زوال ہے اس کے کمال کا حاصل
مرا زوال تو میرا زوال ہے بھی نہیں
کیا تھا جو لبِ خونیں سے اس پہ میں نے سخن
کمال تھا بھی نہیں اور کمال ہے بھی نہیں
وہ اک عجیب زلیخا ہے، یعنی بے یوسف
ہمارے مصر میں اس کی مثال ہے بھی نہیں
تُو ایک کہنہ متاعِ دکانِ شرم ہے، شرم!
ترے بدن کا کوئی حال، حال ہے بھی نہیں
وہ کیا تھی ایک عروسِ ہزار شوہر تھی
سو اب مجھے غمِ ہجر و وصال ہے بھی نہیں
تری گلی میں تو کوڑے کے ڈھیر ہیں جب سے
تری گلی میں کمینوں کا کال ہے بھی نہیں
جون ایلیا

اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 135
حال یہ ہے کہ خواہشِ پُرسشِ حال بھی نہیں
اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں
اے شجرِ حیاتِ شوق، ایسی خزاں رسیدگی؟
پوششِ برگ و گُل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں
مُجھ میں وہ شخص ہو چکا جس کا کوئی حساب تھا
سُود ہی کیا، زیاں ہے کیا، اس کا سوال بھی نہیں
مست ہیں اپنے حال میں دل زدگان و دلبراں
صُلح و سلام تو کُجا، بحث و جدال بھی نہیں
تُو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں، خوفِ زوال بھی نہیں
خیمہ گہ نگاہ کو لوٹ لیا گیا ہے کیا؟
آج افق کے دوش پر گرد کی شال بھی نہیں
اف یہ فضا سے احتیاط تا کہیں اڑ نہ جائیں ہم
بادِ جنوب بھی نہیں، بادِ شمال بھی نہیں
وجہ معاشِ بے دلاں، یاس ہے اب مگر کہاں
اس کے درود کا گماں، فرضِ محال بھی نہیں
غارتِ روز و شب کو دیکھ، وقت کا یہ غضب تو دیکھ
کل تو نڈھال بھی تھا میں، آج نڈھال بھی نہیں
میرے زبان و ذات کا ہے یہ معاملہ کہ اب
صبحِ فراق بھی نہیں، شامِ وصال بھی نہیں
پہلے ہمارے ذہن میں حسن کی اک مثال تھی
اب تو ہمارے ذہن میں کوئی مثال بھی نہیں
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیا

اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 105
رو بہ زوال ہو گئی مستی حال شہر میں
اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں
یہ جو کراہتے ہوئے لوٹ رہے ہیں شہر سے
خوب دکھا کے آئے ہیں اپنا کمال شہر میں
شہر وفا میں ہر طرف سود و زیاں کی ہے شمار
لائیں گے اب کہاں سے ہم کوئی مثال شہر میں
حالت گفتگو نہیں عشرت آرزو نہیں
کتنی اداس آئی ہے شام وصال شہر میں
خاک نشیں ترے تمام خانہ نشین ہو گئے
چار طرف ہے اڑ رہی گرد ملال شہر میں
جون ایلیا

مستجمع جمیع صفات و کمال کا

دیوان پنجم غزل 1534
دل رفتۂ جمال ہے اس ذوالجلال کا
مستجمع جمیع صفات و کمال کا
ادراک کو ہے ذات مقدس میں دخل کیا
اودھر نہیں گذار گمان و خیال کا
حیرت سے عارفوں کو نہیں راہ معرفت
حال اور کچھ ہے یاں انھوں کے حال و قال کا
ہے قسمت زمین و فلک سے غرض نمود
جلوہ وگرنہ سب میں ہے اس کے جمال کا
مرنے کا بھی خیال رہے میر اگر تجھے
ہے اشتیاق جان جہاں کے وصال کا
میر تقی میر

ہیں پریشاں چمن میں کچھ پر و بال

دیوان اول غزل 267
سیر کر عندلیب کا احوال
ہیں پریشاں چمن میں کچھ پر و بال
تب غم تو گئی طبیب ولے
پھر نہ آیا کبھو مزاج بحال
سبزہ نورستہ رہگذار کا ہوں
سر اٹھایا کہ ہو گیا پامال
کیوں نہ دیکھوں چمن کو حسرت سے
آشیاں تھا مرا بھی یاں پرسال
سرد مہری کی بسکہ گل رو نے
اوڑھی ابر بہار نے بھی شال
ہجر کی شب کو یاں تئیں تڑپا
کہ ہوا صبح ہوتے میرا وصال
ہم تو سہ گذرے کج روی تیری
نہ نبھے گی پر اے فلک یہ چال
دیدئہ تر پہ شب رکھا تھا میر
لکۂ ابر ہے مرا رومال
میر تقی میر

حال ہے اور قال ہے کچھ اور

دیوان اول غزل 217
شیخی کا اب کمال ہے کچھ اور
حال ہے اور قال ہے کچھ اور
وعدے برسوں کے کن نے دیکھے ہیں
دم میں عاشق کا حال ہے کچھ اور
سہل مت بوجھ یہ طلسم جہاں
ہر جگہ یاں خیال ہے کچھ اور
تو رگ جاں سمجھتی ہو گی نسیم
اس کے گیسو کا بال ہے کچھ اور
نہ ملیں گو کہ ہجر میں مر جائیں
عاشقوں کا وصال ہے کچھ اور
کوزپشتی پہ شیخ کی مت جائو
اس پہ بھی احتمال ہے کچھ اور
اس میں اس میں بڑا تفاوت ہے
کبک کی چال ڈھال ہے کچھ اور
میر تلوار چلتی ہے تو چلے
خوش خراموں کی چال ہے کچھ اور
میر تقی میر

مجھ کو لے جائے گی، یہ موجِ وصال اور کہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 204
میرا جسم اور کہیں، میرا خیال اور کہیں
مجھ کو لے جائے گی، یہ موجِ وصال اور کہیں
زیرِ افلاک ستاروں کا سفر جاری ہے
اب کے نکلیں گے ہم اے شامِ زوال اور کہیں
دور تک آئنے ویران ہیں آنکھوں کی طرح
ڈھونڈنے جائیے اپنے مہ و سال اور کہیں
کچھ اسی دشت پہ موقوف نہیں تیرِ ستم
زندگی ہے تو ہدف ہوں گے غزال اور کہیں
اس سے اک حرفِ دل آزار کا رشتہ ہی سہی
یوں بھی ہوتی ہے کہاں پرسشِ حال اور کہیں
عرفان صدیقی

یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 172
سخن میں رنگ تمہارے خیال ہی کے تو ہیں
یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں
کہا تھا تم نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب
سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں
ذرا سی بات ہے دل میں اگر بیاں ہوجائے
تمام مسئلے اظہارِ حال ہی کے تو ہیں
یہاں بھی اس کے سوا اور کیا نصیب ہمیں
ختن میں رہ کے بھی چشمِ غزال ہی کے تو ہیں
جسارتِ سخنِ شاعراں سے ڈرنا کیا
غریب مشغلۂ قیل و قال ہی کے تو ہیں
ہوا کی زد پہ ہمارا سفر ہے کتنی دیر
چراغ ہم کسی شامِ زوال ہی کے تو ہیں
عرفان صدیقی

اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 96
درد کی شب گزر گئی تیرے خیال کے بغیر
اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر
وقت کے ساتھ طے کیے ہم نے عجیب مرحلے
کچھ مہ و سال کے بہ فیض، کچھ مہ و سال کے بغیر
میرے سکوت نے عیاں رنجِ کہن کیا نہیں
میں نے سخن کیا نہیں پرسشِ حال کے بغیر
تیغِ ستم کے سامنے ہاتھ کو ڈھال کر دیا
ہم نے کمال کردیا دستِ کمال کے بغیر
چار طرف رمیدہ خو، پائے ہوا، صدائے ہو
میرے بغیر لکھنؤ، دشت غزال کے بغیر
عرفان صدیقی

رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 50
تیرا سراپا میرا تماشا، کوئی تو برجِ زوال میں تھا
رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا
میری چشم تحیر آگے اور ہی نقش ہویدا تھے
چہرہ اپنے وہم میں تھا‘ آئینہ اپنے خیال میں تھا
عقدۂ جاں بھی رمزِ جفر ہے‘ جتنا جتنا غور کیا
جو بھی جواب تھا میرا پنہاں میرے حرف سوال میں تھا
تیر سہی‘ زنجیر سہی‘ پر ہوئے بیاباں کہتی ہے
اور بھی کچھ وحشت کے علاوہ شاید پائے غزال میں تھا
ورنہ ہم ابدال بھلا کب ترکِ قناعت کرتے ہیں
ایک تقاضا رنج سفر کا خواہش مال و منال میں تھا
تیغِ ستم کے گرد ہمارے خالی ہاتھ حمائل تھے
اب کے برس بھی ایک کرشمہ اپنے دستِ کمال میں تھا
عرفان صدیقی

پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 572
ہجراں کے بے کنار جہنم میں ڈال کے
پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے
میں آنکھ کی دراز میں کرتا ہوں کچھ تلاش
گہرے سیاہ بلب سے منظر اجال کے
دفنا نہیں سکا میں ابھی تک زمین میں
کچھ روڈ پر مرے ہوئے دن پچھلے سال کے
بستر پہ کروٹوں بھری شکنوں کے درمیاں
موتی گرے پڑے ہیں تری سرخ شال کے
تصویر میں نے اپنی سجا دی ہے میز پر
باہر فریم سے ترا فوٹو نکال کے
پازیب کے خرام کی قوسیں تھیں پاؤں میں
کتھک کیا تھا اس نے کناروں پہ تھال کے
اڑنے دے ریت چشمِ تمنا میں دشت کی
رکھا ہوا ہے دل میں سمندر سنبھال کے
سر پہ سجا لیے ہیں پرندوں کے بال و پر
جوتے پہن لیے ہیں درندوں کی کھال کے
آنکھوں تلک پہنچ گئی، دلدل تو کیا کروں
رکھا تھا پاؤں میں نے بہت دیکھ بھال کے
حیرت فزا سکوت ہے دریائے ذات پر
آبِ رواں پہ اترے پرندے کمال کے
میں سن رہا ہوں زرد اداسی کی تیز چاپ
جھڑنے لگے ہیں پیڑ سے پتے وصال کے
منصور راکھ ہونے سے پہلے فراق میں
سورج بجھانے والا ہوں پانی اچھال کے
منصور آفاق

بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 464
تشریف آوری تھی چراغِ خیال کی
بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی
شاید جنم جنم کی اداسی ہے میرے ساتھ
صدیاں پڑی ہیں صحن میں شامِ ملال کی
میں نے تمام عمر گزاری شبِ فراق
میں شکل جانتا نہیں صبحِ وصال کی
ہے کوئی مادھولال میرے انتظارمیں
آواز آرہی ہے کہیں سے دھمال کی
پچھلے پہر میں گزری ہے منصور زندگی
میری شریکِ عمر ہے ساعت زوال کی
منصور آفاق

آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 425
پرانے غم کے نئے احتمال بسم اللہ
آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ
بس ایک تیری کمی تھی جنوں کے صحرا میں
خوش آمدید اے میرے غزال، بسم اللہ
آ دیکھ زخم ترو تازہ ہیں مہکتے ہیں
آ مجھ سے پوچھنے پرسانِ حال بسم اللہ
اندھیرے کروٹیں لیتے ہیں مجھ میں پہلے بھی
بہ سرو چشم شبِ ذوالجلال بسم اللہ
سنا ہے آج اکیلا ہے اپنے کمرے میں
چل اس کے پاس دلِ خوش خیال بسم اللہ
لگی تھی آنکھ ذرا ہجر کی تھکاوٹ سے
میں اٹھ گیا میرے دشتِ ملال بسم اللہ
یہ کیسے خانۂ درویش یاد آیا ہے
بچھاؤں آنکھیں ؟ اے خوابِ وصال بسم اللہ
پھر اپنے زخم چھپانے کی رُت پلٹ آئی
شجر نے اوڑھ لی پتوں کی شال بسم اللہ
کھنچا ہوا ترا ناوک نہ جان ضائع ہو
ہے جان پہلے بھی جاں کا وبال بسم اللہ
یہ تیرے وار تو تمغے ہیں میری چھاتی کے
لو میں نے پھینک دی خود آپ ڈھال بسم اللہ
یہ لگ رہا ہے کہ اپنے بھی بخت جاگے ہیں
کسی نے مجھ پہ بھی پھینکا ہے جال بسم اللہ
نہیں کچھ اور تو امید رکھ ہتھیلی پر
دراز ہے مرا دستِ سوال بسم اللہ
کسی فقیر کی انگلی سے میرے سینے پر
لکھا ہوا ہے فقید المثال بسم اللہ
منصور آفاق

ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 354
پلیز جمع کرومت ملال کی آنکھیں
ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں
جواب دو کہ فریضہ یہی تمہارا ہے
ہیں انتظار میں ، میرے سوال کی آنکھیں
بڑا ہے شوق مسافر نوازیوں کا انہیں
بچھا رہے ہیں شجر اپنی چھال کی آنکھیں
مرا خیال ہے تارے نہیں یہ آنکھیں ہیں
شبِ فراق میں صبحِ وصال کی آنکھیں
حنوط کرنا پڑے گا چراغِ شام مجھے
کھلی ہوئی افق پر زوال کی آنکھیں
کٹا ہوا یہ کوئی کیک تو نہیں منصور
پڑی ہیں تھال میں اک اور سال کی آنکھیں
منصور آفاق

ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 344
مناسب اتنا نہیں اعتدال کمرے میں
ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں
کسی ستم زدہ روزن سے آتو سکتی تھی
ذرا سی دیر کو صبحِ وصال کمرے میں
لٹک رہاتھا دریچے میں بھیڑیے کا بت
دکھائی دیتا تھا کوئی غزال کمرے میں
بس اس لئے کہ سپاہی بہت زیادہ تھے
تھی تاج پوشی کی تقریب ہال کمرے میں
اسے بھی زاویے سیدھے کمر کے کرنے تھے
مجھے بھی آیا تھا یہ ہی خیال کمرے میں
بلٹ پروف محافظ تھے ہر طرف لیکن
گزر رہے تھے حکومت کے سال کمرے میں
ہر ایک شے میں اداسی ہے شام کی منصور
اتر رہا ہے نظر سے ملال کمرے میں
منصور آفاق

ناموں کے زخم رہ گئے برگد کی چھال پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 166
دونوں بچھڑ کے چل دیئے راہِ ملال پر
ناموں کے زخم رہ گئے برگد کی چھال پر
شب کے سکوت میں لیا یوں اس نے کوئی نام
مندری بجی ہو جس طرح پیتل کے تھال پر
بارش میں بھیگتی چلی آئی تھی کوئی ہیر
بوندیں ٹھہر گئی تھیں دھنک رنگ شال پر
آتی تھی ٹیلی فون سے آوازِ لمسِ یار
بستر بچھا تھا فرشِ بہشتِ خیال پر
منصور کیا سفید کرسمس کی رات ہے
تارے مچل رہے ہیں زمیں کے وصال پر
ذرا بھی دھیان نہیں وصل کے فریضوں پر
یونہی وہ کاڑھتی پھرتی ہے دل قمیضوں پر
قیام کرتا ہوں اکثر میں دل کے کمرے میں
کہ جم نہ جائے کہیں گرد اس کی چیزوں پر
یہی تو لوگ مسیحا ہیں زندگانی کے
ہزار رحمتیں ہوں عشق کے مریضوں پر
کسی انار کلی کے خیال میں اب تک
غلام گردشیں ماتم کناں کنیزوں پر
جلا رہی ہے مرے بادلوں کے پیراہن
پھوار گرتی ہوئی ململیں شمیضوں پر
غزل کہی ہے کسی بے چراغ لمحے میں
شبِ فراق کے کاجل زدہ عزیزوں پر
وہ غور کرتی رہی ہے تمام دن منصور
مرے لباس کی الجھی ہوئی کریزوں پر
منصور آفاق

یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 158
ہے تیرا سامنا کرنا، شبِ زوال کے بعد
یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد
ترے زمانے میں ہوتا تو عین ممکن تھا
کھڑا غلاموں میں ہوتا کہیں بلال کے بعد
عجب حصار سا کھینچا ہے اسم نے تیرے
خیال کوئی نہ آیا ترے خیال کے بعد
تجھے ملے تو ملاقاتیں سب ہوئیں منسوخ
ہوئی تلاش مکمل، ترے وصال کے بعد
فرشتے ٹانکتے پھرتے ہیں پھول شاخوں پر
خدا بدل گیا اس کی بس ایک کال کے بعد
وہ جس نے مجھ سے کہا آپ کون ہیں منصور
سوال بن گیا وہ آئینہ سوال کے بعد
منصور آفاق

طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 68
فراق و رابطہ کا احتمال ختم ہوا
طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا
وہ بجھ گئی ہے تمناجو آگ رکھتی تھی
وہ ہجر راکھ ہوا، وہ وصال ختم ہوا
کوئی بھی اپنے مقاصد میں پیش رفت نہیں
یونہی حیات کا اک اور سال ختم ہوا
ہم اس کی سمت چلے وہ کسی کی سمت چلا
سوال کرنے سے پہلے سوال ختم ہوا
چلی تو جھونک گئی دھول ساری آنکھوں میں
رکی ہوا تو چمن کا جمال ختم ہوا
بجھی ہوئی ہے انگیٹھی سیہ دسمبر میں
اے چوبِ سوختہ تیرا کمال ختم ہوا
کسی کے واسطے افلاک پستیاں منصور
بلندیوں پہ کسی کا زوال ختم ہوا
منصور آفاق

ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 47
اچھے عیسیٰ ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سَو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بے تابی کو
ہجر اچھا، نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
آگیا اس کا تصور، تو پکارا یہ شوق
دل میں جم جائے الہٰی، یہ خیال اچھا ہے
برق اگر گرمیِ رفتار میں اچھی ہے امیر
گرمیِ حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے
امیر مینائی