ٹیگ کے محفوظات: وسیلوں

پُرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 47
خرد کے پاس فرسوُدہ دلیلوں کے سوا کیا تھا
پُرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا
ہوا رَستے کی، منظر موسموں کے، سایہ پیڑوں کا
سفر کا ماحصل بیکار میلوں کے سوا کیا تھا
تو وہ شب بھر کی رَونق چند خیموں کی بدولت تھی
اَب اِس میدان میں سنسان ٹیلوں کے سوا کیا تھا
پرندوں کی قطاریں اُڑ نہیں جاتیں تو کیا کرتیں
ہماری بستیوں میں خشک جھیلوں کے سوا کیا تھا
تعجب کیا ہے وعدے ہی اگر حصے میں آئے ہیں
مری کوشش کے ہاتھوں میں وسیلوں کے سوا کیا تھا
عرفان صدیقی

یہ مثلث زندگی دو مستطیلوں میں گزار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 162
جسم میں ٹھونکی ہوئی میخوں میں کیلوں میں گزار
یہ مثلث زندگی دو مستطیلوں میں گزار
جا کہیں آباد کر ٹوٹے ہوئے برباد دل
جا کوئی دن بے سہاروں ،بے وسیلوں میں گزار
یاد کی تصویرسے باہر قدم رکھ ، جا کہیں
شہر کی شہلا شگن شامیں شکیلوں میں گزار
استراحت سایہ ء گل میں تجھے زیبا نہیں
عمر جا کر دشت کے آوارہ ٹیلوں میں گزار
قرب کی گرمی انوکھی ہی سہی لیکن یہ رات
ہے یہی بہتربہانوں اور حیلوں میں گزار
خود اُسے ناراض کرکے تُونے بھیجا تھا سو اب
واہموں میں کاٹ راتیں ،دن دلیلوں میں گزار
دید کے پیاسے پرندے اڑ رہے ہیں آس پاس
چاند کچھ دن،آنسوئوں کی گرم جھیلوں میں گزار
میری گردن پر جلاپھر اپنے بوسوں کے چراغ
پھر کوئی شب لمس کے پُر شوق نیلوں میں گزار
کوچہء جاناں ہی تیرا نقطہ ء پرکار ہے
زندگی اپنی انہی دوچار میلوں میں گزار
چاہیے ہے حسنِ مطلق کی اگر قربت تجھے
عمر اپنی خوبرووں میں جمیلوں میں گزار
خامہء دل !ہم سخن کر مثنوی مولائے روم
دن سروشوں میں کٹیں شب جبرئیلوں میں گزار
گر پڑا ہے تُو سفر میں دشت کے، سو زندگی
اب مثالِ استخوانِ تازہ چیلوں میں گزار
کچھ ہوا کے بول سن،پیڑوں کی بھیگی شام سے
سُن پرندوں کی سریں ،کچھ دن سریلوں میں گزار
رات اس کے عارض و لب کے قصیدوں میں کٹے
دن پہاڑوں پر کہیں باغی قبیلوں میں گزار
تُو مذاہب سے نکل کر آبِ سادہ بانٹ بس
یہ فساد فی سبیل اللہ سبیلوں میں گزار
آدمی ہوں میں مرے گھر میں گنہ ممکن بھی ہے
رات جاتُو ذوالجلالوں ، ذوالجلیلوں میں گزار
اے سویٹر بننے والی، رنگوں کی آواز سن
سرخ دھاگے کھینچ، نیلا سوت پیلوں میں گزار
صحبتِ صالح تُرا صالح کند ، طالع کند
دوگھڑی ہم بے نظیروں بے مثیلوں میں گزار
جب تلک منصورپیچھے سے کمک آتی نہیں
وقت قلعہ بند ہو کر بس فصیلوں میں گزار
منصور آفاق