ٹیگ کے محفوظات: وسار

جو چاہتے تو اسے جاں سے مار سکتے تھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 588
یہ عمر جیل کے اندر گزار سکتے تھے
جو چاہتے تو اسے جاں سے مار سکتے تھے
یہ اور بات کہ راتیں رہی ہیں ہم بستر
ہم اپنے ہاتھ پہ سورج اتار سکتے تھے
بہت تھے کام کسی ڈاٹ کام پر ورنہ
غزل کی زلفِ پریشاں سنوار سکتے تھے
وہ ایک کام جو ممکن تھا رہ گیا افسوس
جو ایک جاں تھی اسے تجھ پہ وار سکتے تھے
ہمیشہ ربط کے پندار کا بھرم رکھا
صباحتِ لب و رخ تو وسار سکتے تھے
یہ بار بند نہ ہوتا تو ہم شرابی لوگ
تمام رات کسینو میں ہار سکتے تھے
کسی سے کی تھی محبت کی بات کیا منصور
کہ ایک مصرعے میں جیسے ہزار سکتے تھے
منصور آفاق