ٹیگ کے محفوظات: ورے

پودے چمن میں پھولوں سے دیکھے بھرے بھرے

دیوان چہارم غزل 1507
موسم ہے نکلے شاخوں سے پتے ہرے ہرے
پودے چمن میں پھولوں سے دیکھے بھرے بھرے
آگے کسو کے کیا کریں دست طمع دراز
وہ ہاتھ سو گیا ہے سرہانے دھرے دھرے
کیا سمجھے اس کے رتبۂ عالی کو اہل خاک
پھرتے ہیں جوں سپہر بہت ہم ورے ورے
مرتا تھا میں تو باز رکھا مرنے سے مجھے
یہ کہہ کے کوئی ایسا کرے ہے ارے ارے
گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگ گل سے میر
بلبل پکاری دیکھ کے صاحب پرے پرے
میر تقی میر

آسماں آگیا ورے کچھ تو

دیوان چہارم غزل 1477
جی رکا رکنے سے پرے کچھ تو
آسماں آگیا ورے کچھ تو
جو نہ ہووے نماز کریے نیاز
آدمی چاہیے کرے کچھ تو
طالع و جذب و زاری و زر و زور
عشق میں چاہیے ارے کچھ تو
جینا کیا ہے جہان فانی کا
مرتے جاتے ہیں کچھ مرے کچھ تو
سہمے سہمے نظر پڑیں ہیں میر
اس کے اطوار سے ڈرے کچھ تو
میر تقی میر

ظاہر تو پاس بیٹھے ہیں پر ہیں بہت پرے

دیوان دوم غزل 972
مت سہل سمجھو ایسے ہیں ہم کیا ورے دھرے
ظاہر تو پاس بیٹھے ہیں پر ہیں بہت پرے
سختی بہت ہے پاس و مراعات عشق میں
پتھر کے دل جگر ہوں تو کوئی وفا کرے
خالی کروں ہوں رو رو کے راتوں کو دل کے تیں
انصاف کر کہ یوں کوئی دن کب تلک بھرے
رندھنے نے جی کے خاک میں ہم کو ملا دیا
گویا کہ آسمان بہت آگیا ورے
داڑھی کو تیری دیکھ کے ہنستے ہیں لڑکے شیخ
اس ریش خند کو بھی سمجھ ٹک تو مسخرے
جل تھل فقط نہیں مرے رونے سے بھر گئے
جنگل پڑے تھے سوکھے سو وہ بھی ہوئے ہرے
جی کو بچا رکھیں گے تو جانیں گے عشق میں
ہر چند میر صاحب قبلہ ہیں منگرے
میر تقی میر

بیٹھا ہوں پیشِ آئینہ ڈرے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 57
آنکھوں کو آنکھوں کے آگے دھرے ہوئے
بیٹھا ہوں پیشِ آئینہ ڈرے ہوئے
ایک ذرا معیار کے بدلے جانے سے
دیکھا، کیسے کھوٹے سکے کھرے ہوئے
جسم سے اٹھی باس پرانے جنگل کی
آہٹ آہٹ سارے رستے ہرے ہوئے
اے حیرانی! وُہ تو آج بھی زندہ ہے
اتنے سال ہوئے ہیں جس کو مرے ہوئے
آفتاب اقبال شمیم