ٹیگ کے محفوظات: ورم

گیا دل سو ہم پر ستم کر گیا

دیوان چہارم غزل 1343
جگر خوں کیا چشم نم کر گیا
گیا دل سو ہم پر ستم کر گیا
ان آنکھوں کو نرگس لکھا تھا کہیں
مرے ہاتھ دونوں قلم کر گیا
شب اک شعلہ دل سے ہوا تھا بلند
تن زار میرا بھسم کر گیا
مرے مزرع زرد پر شکر ہے
کل اک ابر آیا کرم کر گیا
نہ اک بار وعدہ وفا کرسکا
بہت بار قول و قسم کر گیا
فقیری میں تھا شیب بارگراں
قد راست کو اپنے خم کر گیا
بکاے شب و روز اب چھوڑ میر
نواح آنکھوں کا تو ورم کر گیا
میر تقی میر

نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں

دیوان اول غزل 322
اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں
نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں
جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد
ہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں
گہے داغ رہتا ہے دل گہ جگر خوں
ان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں
اگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہم
ابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں
لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو
گہے کاغذ و گہ قلم دیکھتے ہیں
وفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھ
اب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں
کہاں تک بھلا روئوگے میر صاحب
اب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں
میر تقی میر

چیک پہ چلتا ہوا قلم کیا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 605
لکھنے والوں میں محترم کیا ہے
چیک پہ چلتا ہوا قلم کیا ہے
ہے بلندی کا فوبیا ورنہ
یہ حریمِ حرم ورم کیا ہے
مسئلے تو ہزار ہیں لیکن
تیری موجودگی میں غم کیا ہے
روز پانی میں ڈوب جاتا ہوں
ایک دریا مجھے بہم کیا ہے
اے سٹیچو بشیر بابا کے
بول کیا ؟ دید کیا ؟ قدم کیا ہے ؟
مرہمِ لمس بے کنار سہی
صحبتِ انتظار کم کیا ہے
موت منصور پر نہیں آتی
کھینچ لے جو کوئی وہ دم کیا ہے
منصور آفاق