ٹیگ کے محفوظات: وحساب

دل کو خیال صبر نہیں آنکھوں کو میل خواب نہیں

دیوان پنجم غزل 1694
عشق نے ہم کو مار رکھا ہے جی میں اپنے تاب نہیں
دل کو خیال صبر نہیں آنکھوں کو میل خواب نہیں
کوئی سبب ایسا ہو یارب جس سے عزت رہ جاوے
عالم میں اسباب کے ہیں پر پاس اپنے اسباب نہیں
قحط نہیں ہے دل کا اب من مارے تم کیوں پھرتے ہو
لینے والا چاہیے اس کا ایسا تو کمیاب نہیں
خط کا جواب نہ لکھنے کی کچھ وجہ نہ ظاہر ہم پہ ہوئی
دیر تلک قاصد سے پوچھا منھ میں اس کے جواب نہیں
رونا روز شمار کا مجھ کو آٹھ پہر اب رہتا ہے
یعنی میرے گناہوں کو کچھ حصر و حد وحساب نہیں
رنگ شکستہ دل ہے شکستہ سر ہے شکستہ مستی میں
حال کسو کا اپنا سا اس میخانے میں خراب نہیں
ٹھہریں میر کسو جاگہ ہم دل کو قرار جو ٹک آوے
ہوکے فقیر اس در پر بیٹھیں اس کے بھی ہم باب نہیں
میر تقی میر