ٹیگ کے محفوظات: واہ!

ربّ عالم پناہ میں رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
پاندھیوں کو نہ راہ میں رکھنا
ربّ عالم پناہ میں رکھنا
عرش تک کو ہِلا کے جو رکھ دے
تاب ایسی بھی آہ میں رکھنا
لے نہ بیٹھیں یہ باتفنگ تمہیں
کوئی مُخبر سپاہ میں رکھنا
شیر جو ہو گیا ہے آدم خور
اُس کی یہ خُو نگاہ میں رکھنا
تاجور! نسخۂ حصولِ تخت
سینت رکھنا، کُلاہ میں رکھنا
ہو جو ماجِد سُخن پسند تو پِھر
فرق کیا واہ واہ میں رکھنا
ماجد صدیقی

نظر میں اہلِ ہوس کی گناہ کرتے رہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
نگاہ ہم پہ جو وہ گاہ گاہ کرتے رہے
نظر میں اہلِ ہوس کی گناہ کرتے رہے
تھے اُن کے ناز نظر میں، نیاز تھے اپنے
بیاں حکایتِ محتاج و شاہ کرتے رہے
بھٹکنے دی نہ نگہ تک کسی کی پاس اپنے
یہی وہ جبر تھا جو اہلِ جاہ کرتے رہے
ہر ایک شب نے دئیے زخم جو ہمیں، اُن پر
ستارۂ سحری کو گواہ کرتے رہے
ہمیں سے پوچھئے اِس ربط میں مزے کیا ہیں
کہ رفعتوں سے ہمیں رسم و راہ کرتے رہے
چمن میں برق نے پھر کی ہے کوئی صنّاعی
ہوا کے ہونٹ جبھی واہ واہ کرتے رہے
کرم غیاب میں کچھ اُس سے تھا جُدا ماجدؔ
ہمارے سامنے جو خیر خواہ کرتے رہے
ماجد صدیقی

بند آنکھوں نگاہ کی جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 163
ذات اپنی گواہ کی جائے
بند آنکھوں نگاہ کی جائے
ہم تو بس اپنی چاہ میں ہیں مگن
کچھ تو اس کی بھی چاہ کی جائے
ایک ناٹک ہے زندگی جس میں
آہ کی جائے، واہ کی جائے
دل! ہے اس میں ترا بَھلا کہ تری
مملکت بے سپاہ کی جائے
ملکہ جو بھی اپنے دل کی نہ ہو
جون ! وہ بےکلاہ کی جائے
جون ایلیا

صوفی ہوا کو دیکھ کے کاش آوے راہ پر

دیوان ششم غزل 1825
آیا ہے ابر قبلہ چلا خانقاہ پر
صوفی ہوا کو دیکھ کے کاش آوے راہ پر
وہ آنکھ اٹھا کے شرم سے کب دیکھے ہے ولے
ہوتے ہیں خون نیچی بھی اس کی نگاہ پر
بالفرض چاہتا ہے گنہ لیک میری جاں
واجب ہے خون کرنا کہاں اس گناہ پر
کیا بحث میرے وقر سے میں ہوں فقیر محض
ہے اس گلی میں حرف و سخن عزشاہ پر
تہ سے سخن کے لوگ نہ تھے آشنا عبث
جاگہ سے تم گئے انھوں کی واہ واہ پر
ڈر چشم شور چرخ سے گل پھول یک طرف
آنکھ اس دنی کی دوڑے ہے اک برگ کاہ پر
دیکھی ہے جن نے یار کے رخسار کی جھمک
اس کی نظر گئی نہ شب مہ میں ماہ پر
ہم جاں بہ لب پتنگوں کی سدھ لیجیو شتاب
موقوف اپنا جانا ہے اب ایک آہ پر
کہتے تو ہیں کہ ہم بھی تمھیں چاہتے ہیں میر
پر اعتماد کس کو ہے خوباں کی چاہ پر
میر تقی میر

مارا ہے بے گناہ و گناہ اس طرف ہنوز

دیوان سوم غزل 1140
ہے تند و تیز اس کی نگاہ اس طرف ہنوز
مارا ہے بے گناہ و گناہ اس طرف ہنوز
سر کاٹ کر ہم اس کے قدم کے تلے رکھا
ٹیڑھی ہے اس کی طرف کلاہ اس طرف ہنوز
مدت سے مثل شب ہے مرا تیرہ روزگار
آتا نہیں وہ غیرت ماہ اس طرف ہنوز
پتھرا گئیں ہیں آنکھیں مری نقش پا کے طور
پڑتی نہیں ہے یار کی راہ اس طرف ہنوز
جس کی جہت سے مرنے کے نزدیک پہنچے ہم
پھرتا نہیں وہ آن کے واہ اس طرف ہنوز
آنکھیں ہماری مند چلیں ہیں جس بغیر یاں
وہ دیکھتا بھی ٹک نہیں آہ اس طرف ہنوز
برسوں سے میر ماتم مجنوں ہے دشت میں
روتا ہے آ کے ابر سیاہ اس طرف ہنوز
میر تقی میر

یا اب کی وے ادائیں جو دل سے آہ نکلے

دیوان دوم غزل 994
یا پہلے وے نگاہیں جن سے کہ چاہ نکلے
یا اب کی وے ادائیں جو دل سے آہ نکلے
کیونکر نہ چپکے چپکے یوں جان سے گذریے
کہیے بتھا جو اس سے باتوں کی راہ نکلے
زردی رنگ و رونا دونوں دلیل کشتن
خوش طالعی سے میری کیا کیا گواہ نکلے
اے کام جاں ہے تو بھی کیا ریجھ کا پچائو
مر جایئے تو منھ سے تیرے نہ واہ نکلے
خوبی و دلکشی میں صدچند ہے تو اس سے
تیرے مقابلے کو کس منھ سے ماہ نکلے
یاں مہر تھی وفا تھی واں جور تھے ستم تھے
پھر نکلے بھی تو میرے یہ ہی گناہ نکلے
غیروں سے تو کہے ہے اچھی بری سب اپنی
اے یار کب کے تیرے یہ خیر خواہ نکلے
رکھتے تو ہو مکدر پر اس گھڑی سے ڈریو
جب خاک منھ پہ مل کر یہ روسیاہ نکلے
اک خلق میر کے اب ہوتی ہے آستاں پر
درویش نکلے ہے یوں جوں بادشاہ نکلے
میر تقی میر

سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ

دیوان دوم غزل 936
یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ
سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ
کھل گیا منھ اب تو اس محجوب کا
کچھ سخن کی بھی نکل آوے گی راہ
شرم کرنی تھی مرا سر کاٹ کر
سو تو ان نے اور ٹیڑھی کی کلاہ
یار کا وہ ناز اپنا یہ نیاز
دیکھیے ہوتا ہے کیونکر یوں نباہ
دین میں اس کافر بے رحم کے
اجر اک رکھتا ہے خون بے گناہ
پتھروں سے سینہ کوبی میں نے کی
دل کے ماتم میں مری چھاتی سراہ
مول لے چک مجھ کو آنکھیں موند کر
دیکھ تو قیمت ہے میری اک نگاہ
لذت دنیا سے کیا بہرہ ہمیں
پاس ہے رنڈی ولے ہے ضعف باہ
روٹھ کر کیا آپ سے ملنے میں لطف
ہووے وہ بھی تو کبھو ٹک عذر خواہ
ضبط بہتیرا ہی کرتے ہیں ولے
آہ اک منھ سے نکل جاتی ہے گاہ
اس کے رو کے رفتہ ہی آئے ہیں یاں
آج سے تو کچھ نہیں یہ جی کی چاہ
دیکھ رہتے دھوکے اس رخسار کے
دایہ منھ دھوتے جو کہتی ماہ ماہ
شیخ تونے خوب سمجھا میر کو
واہ وا اے بے حقیقت واہ واہ
میر تقی میر

کس قدر مغرور ہے اللہ تو

دیوان دوم غزل 912
ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو
کس قدر مغرور ہے اللہ تو
مجھ سے کتنے جان سے جاتے رہے
کس کی میت کے گیا ہمراہ تو
بے خودی رہتی ہے اب اکثر مجھے
حال سے میرے نہیں آگاہ تو
اس کے دل میں کام کرنا کام ہے
یوں فلک پر کیوں نہ جا اے آہ تو
فرش ہیں آنکھیں ہی تیری راہ میں
آہ ٹک تو دیکھ کر چل راہ تو
جی تلک تو منھ نہ موڑیں تجھ سے ہم
کر جفا و جور خاطر خواہ تو
کاہش دل بھی دو چنداں کیوں نہ ہو
آنکھ میں آوے نہ دو دو ماہ تو
دل دہی کیا کی ہے یوں ہی چاہیے
اے زہے تو آفریں تو واہ تو
میر تو تو عاشقی میں کھپ گیا
مت کسی کو چند روز اب چاہ تو
میر تقی میر

دود جگر سے میرے یہ چھت سب سیاہ ہے

دیوان اول غزل 504
نیلا نہیں سپہر تجھے اشتباہ ہے
دود جگر سے میرے یہ چھت سب سیاہ ہے
ابر و بہار و بادہ سبھوں میں ہے اتفاق
ساقی جو تو بھی مل چلے تو واہ واہ ہے
سرمے سے ایسی آنکھیں تمھاری نہیں لگیں
احوال پر ہمارے تمھیں کب نگاہ ہے
کس کس طرح سے ہاتھ نچاتا ہے وعظ میں
دیکھا جو شیخ شہر عجب دستگاہ ہے
ہے روے عجز میر تری خاک راہ پر
یعنی کہ کام اس کا کچھ اب رو براہ ہے
میر تقی میر

بلکہ دی جان اور آہ نہ کی

دیوان اول غزل 437
بات شکوے کی ہم نے گاہ نہ کی
بلکہ دی جان اور آہ نہ کی
گل و آئینہ ماہ و خور کن نے
چشم اس چہرے پر سیاہ نہ کی
کعبے سو بار وہ گیا تو کیا
جس نے یاں ایک دل میں راہ نہ کی
واہ اے عشق اس ستمگر نے
جاں فشانی پہ میری واہ نہ کی
جس سے تھی چشم ہم کو کیا کیا میر
اس طرف ان نے اک نگاہ نہ کی
میر تقی میر

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

دیوان اول غزل 426
جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ
ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ
اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میں
گتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ
شام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرف
ہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ
گذرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھے
برچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ
دامان و جیب چاک خرابی و خستگی
ان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ
بیتابیوں کو سونپ نہ دینا کہیں مجھے
اے صبر میں نے آن کے لی ہے تری پناہ
خوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہ
آنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ
گل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیں
گر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ
گر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگ
کیونکر نہ جائوں مجھ کو تو مرنا ہے خوامخواہ
ناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشق
جاتا تھا میر میں تو چلا اپنی راہ راہ
میر تقی میر