ٹیگ کے محفوظات: واک

ملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے

دیوان اول غزل 603
خنجر بہ کف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے
ملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے
جس سے اسے لگائوں روکھا ہی ہو ملے ہے
سینے میں جل کر ازبس دل خاک ہو گیا ہے
کیا جانوں لذت درد اس کی جراحتوں کی
یہ جانوں ہوں کہ سینہ سب چاک ہو گیا ہے
صحبت سے اس جہاں کی کوئی خلاص ہو گا
اس فاحشہ پہ سب کو امساک ہو گیا ہے
دیوار کہنہ ہے یہ مت بیٹھ اس کے سائے
اٹھ چل کہ آسماں تو کا واک ہو گیا ہے
شرم و حیا کہاں کی ہر بات پر ہے شمشیر
اب تو بہت وہ ہم سے بے باک ہو گیا ہے
ہر حرف بسکہ رویا ہے حال پر ہمارے
قاصد کے ہاتھ میں خط نمناک ہو گیا ہے
زیر فلک بھلا تو رووے ہے آپ کو میر
کس کس طرح کا عالم یاں خاک ہو گیا ہے
میر تقی میر

دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 199
مٹی ذرا سی قریہء لولاک کے عوض
دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض
جاگیر بھی حویلی بھی چاہت بھی جسم بھی
تم مانگتے ہو دامنِ صد چاک کے عوض
اِس شہر میں تو ایک خریدار بھی نہیں
سورج کہاں فروخت کروں خاک کے عوض
وہ پیٹ برگزیدہ کسی کی نگاہ میں
جو بیچتے ہیں عزتیں خوراک کے عوض
مثلِ غبار پھرتا ہوں آنکھوں میں جھانکتا
اپنے بدن کی اڑتی ہوئی راکھ کے عوض
دے سکتا ہوں تمام سمندر شراب کے
اک جوش سے نکلتے ہوئے کاک کے عوض
بھونچال آئے تو کوئی دو روٹیاں نہ دے
میلوں تلک پڑی ہوئی املاک کے عوض
غالب کا ہم پیالہ نہیں ہوں ، نہیں نہیں
جنت کہاں ملے خس و خاشاک کے عوض
ہر روز بھیجنا مجھے پڑتا ہے ایک خط
پچھلے برس کی آئی ہوئی ڈاک کے عوض
جاں مانگ لی ہے مجھ سے سرِ اشتیاقِ لمس
بندِ قبا نے سینہء بیباک کے عوض
کام آ گئی ہیں بزم میں غم کی نمائشیں
وعدہ ملا ہے دیدئہ نمناک کے عوض
آیا عجب ہے مرحلہ شوقِ شکار میں
نخچیر مانگتا ہے وہ فتراک کے عوض
نظارئہ جمال ملا ہے تمام تر
تصویر میں تنی ہوئی پوشاک کے عوض
منصور ایک چہرۂ معشوق رہ گیا
پہنچا کہاں نہیں ہوں میں ادراک کے عوض
منصور آفاق