ٹیگ کے محفوظات: والا

وقت، لگتا ہے کہ ’میرا، نہیں رہنے والا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
کھو ہی جاؤں نہ کہیں میں، کہ ہوں مہ کا ہالا
وقت، لگتا ہے کہ ’میرا، نہیں رہنے والا
جس سے زیبا ہوں، وہ زیبائی ہے اب جانے کو
ہے گلُو میں سے اُترنے کو، یہ جاں کی مالا
تن بدن میں ہے مرے، کیسی یہ کھیتی باڑی
میری رگ رگ میں اُتر آیا، یہ کیسا بھالا
میں کہ خوشہ ہوں ، دعا کیسے یہ مانگوں اُلٹی
میں نہ ،چکّی کا بنوں خاک و فلک کی ،گالا
ڈھیل شاید نہ دے اب اور مجھے، چیخنے کی
جسم میں ہے جو، پُراسرار اَلَم کا چھالا
بام پر بُوم سیہ بختی کا، اُترا جیسے
مجھ کو کرتا ہے طلب، دُور کا پانی، کالا
کیا پتہ سانس کی آری ابھی ماجد نہ رُکے
فیصلہ یہ بھی مرا، مجھ سے ہو بالا بالا
ماجد صدیقی

میری حالت تو کوئی دیکھنے والا سمجھے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 74
جو ہو خود ایک تماشا وہ بھلا کیا سمجھے
میری حالت تو کوئی دیکھنے والا سمجھے
مجھ میں آباد ہے اک شہر، ترے حُسن کا شہر
وہ جو باہر سے مجھے دیکھے وہ تنہا سمجھے
مجھ سے ممکن یہ نہیں ہے کہ میں کھل کر کہہ دوں
اس کے بس میں یہ نہیں ہے کہ اشارہ سمجھے
آہ ایسی، کہ سنے کوئی تو سمجھے نغمہ
اشک ایسا، کوئی دیکھے تو ستارا سمجھے
ٹھیک ہے دشت بھی ہوں، باغ بھی ہوں، دریا بھی
جس کو جیسا نظر آؤں مجھے ویسا سمجھے
لفظ پردہ ہیں، اسے کاش بتا دے کوئی
اس کو سمجھائے کہ سمجھے، مرا لہجہ سمجھے
بس یہی ہے جو میّسر ہے مرے قرب کے ساتھ
جو مرے دل میں بسے وہ اِسے دنیا سمجھے
سانحہ کرکے سنایا تھا اُسے رنجِ فراق
سُن کے بس اتنا کہا اُس نے کہ ’’اچھا۔ ۔ ۔ سمجھے‘‘
دل کسی حرفِ ملائم سے سنبھل بھی جاتا
میرے سینے میں اچھلتا ہے بگولا، سمجھے؟
وصل سے اِن کے نمو پاتی ہے اک کیفیۤت
کوئی الفاظ و معانی کا یہ رشتہ سمجھے
اتنا دشوار ہوں کیا میں جو کسی پر نہ کھلوں؟
کوئی تو ہو مجھے میرے علاوہ سمجھے
ابھی سمجھو تو میں کیا خوب سخن تم سے کروں
بعد میرے مجھے سمجھے بھی تو پھر کیا سمجھے
تُو سمجھتا ہے اُسے، شکر بجا لا عرفان
وہ جسے دیر نہ کعبہ، نہ کلیسا سمجھے
عرفان ستار

کچھ بھی تمہارے غم کے علاوہ نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 12
اب دردِ دل کا کوئی مداوا نہیں رہا
کچھ بھی تمہارے غم کے علاوہ نہیں رہا
وہ دن بھی تھے کہ میں بھی بہت خوش لباس تھا
اب کیا کہ جب وہ دیکھنے والا نہیں رہا
میری دعا ہے تجھ سے یہ دنیا وفا کرے
میرا تو تجربہ کوئی اچھا نہیں رہا
ماحول میرے گھر کا بدلتا رہا، سو اب
میرے مزاج کا تو ذرا سا نہیں رہا
کہتے نہ تھے ہمیشہ رہے گا نہ اتنا رنج
گزرے ہیں چند سال ہی، دیکھا، نہیں رہا
کیا سانحہ ہوا ہے یہ آنکھوں کو کیا خبر
منظر نہیں رہا، کہ اجالا نہیں رہا
کیوں دل جلائیں کرکے کسی سے بھی اب سخن
جب گفتگو کا کوئی سلیقہ نہیں رہا
میں چاہتا ہوں دل بھی حقیقت پسند ہو
سو کچھ دنوں سے میں اسے بہلا نہیں رہا
دھندلا سا ایک نقش ہے، جیسے کہ کچھ نہ ہو
موہوم سا خیال ہے، گویا نہیں رہا
ویسے تو اب بھی خوبیاں اُس میں ہیں ان گنت
جیسا مجھے پسند تھا، ویسا نہیں رہا
عرفان، دن پھریں گے ترے، یوں نہ رنج کر
کیا، میری بات کا بھی بھروسہ نہیں رہا؟
عرفان ستار

جو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 49
غمِ دل حیطۂِ تحریر میں آتا ہی نہیں
جو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیں
اوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسے
سب کا اس دور میں یہ حال ہے ، میرا ہی نہیں
برق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہے
مَیں تو چھاؤں میں کسی پیڑ کے بیٹھا ہی نہیں
اک کرن تھام کے میں دھوپ نگر تک پہنچا
کون سا عرش ہے جس کا کوئی زینہ ہی نہیں
کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید
آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں
بوجھ لمحوں کا ہر اک سر پہ اٹھائے گزرا
کوئی اس شہر میں سستانے کو ٹھہرا ہی نہیں
سایہ کیوں جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم
تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں
موتی کیا کیا نہ پڑے ہیں تہِ دریا لیکن
برف لہروں کی کوئی توڑنے والا ہی نہیں
اس کے پردوں پہ منقش تری آواز بھی ہے
خانۂِ دل میں فقط تیرا سراپا ہی نہیں
حائلِ راہ تھے کتنے ہی ہوا کے پر بت
تو وہ بادل کہ مرے شہر سے گزرا ہی نہیں
یاد کے دائرے کیوں پھیلتے جاتے ہیں شکیبؔ
اس نے تالاب میں کنکر ابھی پھینکا ہی نہیں
شکیب جلالی

سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 29
اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا
ساری گلی سنسان پڑی تھی بادِ فنا کے پہرے میں
ہجر کے دلان اور آنگن میں بس ایک سایہ زندہ تھا
وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے
ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا
وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی
اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا
تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی، وعدے اور پھر دن گننا
آنا تھا جانے والے کو، جانے والا زندہ تھا
دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی
تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا
پیلے پتوں کی سہ پہر کی وحشت پرسہ دیتی تھی
آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس ایک کوا زندہ تھا
جون ایلیا

نہیں ہے دل کوئی دشمن بغل میں پالا ہے

دیوان دوم غزل 1025
طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے
نہیں ہے دل کوئی دشمن بغل میں پالا ہے
حنا سے یار کا پنجہ نہیں ہے گل کے رنگ
ہمارے ان نے کلیجوں میں ہاتھ ڈالا ہے
گیا ہے پیش لے اعجاز عشق سے فرہاد
وگرنہ خس نے کہیں بھی پہاڑ ٹالا ہے
سنا ہے گریۂ خونیں پہ یہ نہیں دیکھا
لہو کا ہر گھڑی آنکھوں کے آگے نالا ہے
رہے خیال نہ کیوں ایسے ماہ طلعت کا
اندھیرے گھر کا ہمارے وہی اجالا ہے
دلوں کو کہتے ہیں ہوتی ہے راہ آپس میں
طریق عشق بھی عالم سے کچھ نرالا ہے
ہزار بار گھڑی بھر میں میر مرتے ہیں
انھوں نے زندگی کا ڈھب نیا نکالا ہے
میر تقی میر

مدتیں ہو گئیں ڈوبا تھا وہ چہرہ مجھ میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 165
پھر کسی نام کا مہتاب نہ نکلا مجھ میں
مدتیں ہو گئیں ڈوبا تھا وہ چہرہ مجھ میں
روز و شب جسم کی دیوار سے ٹکراتا ہے
قید کر رکھا ہے کس نے یہ پرندہ مجھ میں
ایک مدت سے مری بیعت جاں مانگتی تھی!
آج خاموش ہے کیا دیکھ کے دنیا مجھ میں
ویسے میرے خس و خاشاک میں کیا رکھا ہے
آگ دکھلاؤ تو نکلے گا تماشا مجھ میں
ریت اُڑتی ہے بہت ساحل احساس کے پاس
سوکھتا جاتا ہے شاید کوئی دریا مجھ میں
اب میں خود سے بھی مخاطب نہیں ہونے پاتا
جب سے چپ ہو گیا وہ بولنے والا مجھ میں
عرفان صدیقی

جانے کس موج عنایت نے سنبھالا مجھ کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 115
اُس شناور نے بھنور سے نہ نکالا مجھ کو
جانے کس موج عنایت نے سنبھالا مجھ کو
ایک ہلکا سا گماں ہے کہ کہیں تھا کوئی شخص
اور کچھ یاد نہیں اس کا حوالہ مجھ کو
ایسا گمراہ کیا تھا تری خاموشی نے
سب سمجھتے تھے ترا چاہنے والا مجھ کو
عرفان صدیقی

مرے آگے مرا سجدہ پڑا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 603
رسن کا سامنے رستہ پڑا ہے
مرے آگے مرا سجدہ پڑا ہے
ازل کی جاگتی آنکھوں میں آ کر
کہاں سے نیند کا جھونکا پڑا ہے
ابھی کچھ اور جینا چاہتا ہوں
ابھی اجداد کا قرضہ پڑا ہے
یزیدوں سے میں کیسے صلح کرلوں
مرے گھر تازیہ میرا پڑا ہے
خدا سے عین ممکن ہے ملاقات
ابھی تو آخری زینہ پڑا ہے
سبھی عشاق ہیں اک روحِ کل کے
فقیروں میں کبھی جھگڑا پڑا ہے
بھلا مایوس کیوں ہوں آسماں سے
جسے مارا گیا زندہ پڑا ہے
اک ایسی مملکت میں جی رہا ہوں
جہاں آسیب کا سایہ پڑا ہے
بصد افسوس تیرانامِ نامی
مجھے دیوار پر لکھنا پڑا ہے
جہالت کے جہاں بہتے ہیں دریا
اسی اسکول میں پڑھنا پڑا ہے
یہ شامِزرد رُو کا سرخ فتنہ
ہے باقی جب تلک دنیا، پڑا ہے
اسی پل کا ہوں میں بھی ایک حصہ
جہاں خاموش دریا سا پڑا ہے
ابھی آتش فشاں کچھ اور بھی ہیں
پہاڑوں میں ابھی لاوا پڑا ہے
پڑا تہذیب کے منہ پر طمانچہ
سڑک پہ پھر کوئی ننگا پڑا ہے
زمانے سے چھپا رکھی ہیں آنکھیں
مگر وہ دیکھنے والا پڑا ہے
نہیں ہے تیری لافانی کہانی
مجھے منصور سے کہنا پڑا ہے
منصور آفاق

ہجر کے آگ میں ڈالا ہوا میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 313
پھول کا ایک حوالہ ہوا میں
ہجر کے آگ میں ڈالا ہوا میں
آنکھ سے دیکھنے والے ہوئے تم
روح سے دیکھنے والا ہوا میں
چن لئے وقت نے موتی میرے
ایک ٹوٹی ہوئی مالا ہوا میں
اس نے مٹی میں دبا رکھا ہے
سکہ ہوں سونے سے ڈھالا ہوا میں
مجھ میں چہکار پرندوں کی ہے
صبح کا سرد اجالا ہوا میں
لوٹ کر آیا نہیں ہوں شاید
گیند کی طرح اچھالا ہوا میں
پیشوائی کیلئے دنیا اور
اپنی بستی سے نکالا ہوا میں
زندگی نام ہے میرا منصور
موت کا ایک نوالہ ہوا میں
منصور آفاق

وہغم ملا کہ جس کا ازالہ نہ ہو سکا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 49
دل کا حریف مے کا پیالہ نہ ہو سکا
وہ غم ملا کہ جس کا ازالہ نہ ہو سکا
موج صبا کے ساتھ چلی گلستاں کی بات
بدنام پھول توڑنے والا نہ ہو سکا
باقیؔ دلوں میں آ گئی سڑکوں کی تیرگی
بجلی کے قمقموں سے اجالا نہ ہو سکا
باقی صدیقی