ٹیگ کے محفوظات: وافر

ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 190
چمن تو ہیں نئی صبحوں کے دائمی، پھر بھی
ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی
مری ہی عمر تھی جو میں نے رائیگاں سمجھی
کسی کے پاس نہ تھا ایک سانس وافر بھی
خود اپنے غیب میں بن باس بھی ملا مجھ کو
میں اس جہان کے ہر سانحے میں حاضر بھی
ہیں یہ کھنچاؤ جو چہروں پہ آب و ناں کے لیے
انھی کا حصہ ہے میرا سکونِ خاطر بھی
میں اس جواز میں نادم بھی اپنے صدق پہ ہوں
میں اس گنہ میں ہوں اپنی خطا سے منکر بھی
یہ کس کے اذن سے ہیں اور یہ کیا زمانے ہیں
جو زندگی میں مرے ساتھ ہیں مسافر بھی
ہیں تیری گھات میں امجد جو آسمانوں کے ذہن
ذرا بہ پاسِ وفا ان کے دام میں گر بھی
مجید امجد

رُت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 519
پانیوں کو منجمد ہوناتھا آخر ہو گئے
رُت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے
ہر طرف گہری سفیدی بچھ گئی ہے آنکھ میں
ایک جیسے شہر کے سارے مناظر ہو گئے
پھیر دی چونے کی کوچی زندگی کے ہاتھ نے
جو مکاں ہوتے تھے لوگوں کے مقابر ہو گئے
کھڑکیاں جیسے مزاروں پر دئیے جلتے ہوئے
چمنیاں جیسے کئی آسیب ظاہر ہو گئے
بین کرتی عورتوں کی گائیکی لپٹی ہمیں
روح کے ماتم کدے کے ہم مجاور ہو گئے
برف کی رُت سے ہماری سائیکی لپٹی رہی
اک کفن کے تھان میں سپنے بھی شاعر ہو گئے
بے پنہ افسردگی کی ایک ٹھنڈی رات میں
کم ہوئیں منصور آنکھیں خواب وافر ہو گئے
منصور آفاق