ٹیگ کے محفوظات: واسطہ

میرا وُہی اُس سے واسطہ ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
چھت کو جو ستوں کا آسرا ہے
میرا وُہی اُس سے واسطہ ہے
اُترا ہے کہاں کہاں سے جانے
نس نس میں جو زہر سا بھرا ہے
اپنائیں نہ خاک و باد جِس کو
وُہ پیڑ بھلا کہاں پھلا ہے
کیوں بات یہ، ناتواں نہ جانے
کب شیر شکار سے ٹلا ہے
حاوی ہے جو ہر کہیں سروں پر
ناوقت وُہ مِہر کب ڈھلا ہے
جو عمر گزشتنی ہے ماجِد!
بِیتے بھی تو اُس کا رمزکیا ہے
ماجد صدیقی

پڑھ کے کلامِ فیض جو پھونکا شفا ملی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 456
اک حبس کے مریض کو تازہ ہوا ملی
پڑھ کے کلامِ فیض جو پھونکا شفا ملی
کل رات باغ میں مجھے پتوں کے دکھ ملے
لیکن وہاں سے نکلا توبادِ صبا ملی
کیسے کروں وسیلے کی عظمت سے انحراف
مجھ کو خدا کی ذات بھی بل واسطہ ملی
اک دن ملا بہار میں ہنستا ہوا مجھے
اک شام غم کا کرتی ہوئی تجربہ ملی
بولیں گے جبرائیل بھی میرے وجود میں
مجھ کو کسی فقیر سے جس دن دعا ملی
شہرِ ابد نژاد ابھی کتنا دور ہے
پوچھوں گا کائنات کی جو ابتدا ملی
منصور میں نے بانٹ دی خستہ حروف میں
مجھ کو جو آسماں سے شرابِ بقا ملی
منصور آفاق