ٹیگ کے محفوظات: وائے

یہ صعوبت کب تلک کوئی اٹھائے

دیوان پنجم غزل 1766
درد و غم سے دل کبھو فرصت نہ پائے
یہ صعوبت کب تلک کوئی اٹھائے
طفل تہ بازار کا عاشق ہوں میں
دل فروشی کوئی مجھ سے سیکھ جائے
زار رونا چشم کا کب دیکھتے
دیکھیں ہیں لیکن خدا جو کچھ دکھائے
کب تلک چاک قفس سے جھانکیے
برگ گل یاں بھی صبا کوئی تو لائے
کب سے ہم کو ہے تلاش دست غیب
تا کمر پیچ اس کا اپنے ہاتھ آئے
اس کی اپنی بنتی ہی ہرگز نہیں
بگڑی صحبت ایسی کیا کوئی بنائے
جو لکھی قسمت میں ذلت ہو سو ہو
خط پیشانی کوئی کیونکر مٹائے
داغ ہے مرغ چمن پائیز سے
دل نہ ہو جلتا جو اس کا گل نہ کھائے
زخم سینہ میرا اس کے ہاتھ کا
ہو کوئی رجھواڑ تو اس کو رجھائے
میر اکثر عمر کے افسوس میں
زیر لب بالاے لب ہے ہائے وائے
میر تقی میر

ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل

دیوان پنجم غزل 1671
صد ہزار افسوس آکر خالی پائی جاے گل
ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل
بے نصیبی سے ہوئے ہم موسم گل میں اسیر
تھے نہ پیشانی میں اپنے سجدہ ہاے پاے گل
دعوی حسن سراپا تھا پہ نازاں تجھ کو دیکھ
شاخیں پر گل جھک گئیں یعنی بہت شرمائے گل
کیا گل مہتاب و شبو کیا سمن کیا نسترن
اس حدیقے میں نہ نقش پا سے اس کے پائے گل
جیتے جی تو داغ ہی رکھا موئے پر کیا حصول
گور پر دلسوزی سے جوں شمع سر رکھ لائے گل
بے دلی بلبل نہ کر تاثیر میں گو تو ہے داغ
خوش زبان عشق کی جب ہم نے بھر کے کھائے گل
اس چمن میں جلوہ گر جس حسن سے خوباں ہیں میر
موسم گل میں کہیں اس خوبی سے کب آئے گل
میر تقی میر

اور مجلس میں جو رہیے دیکھ تو شرمائے وہ

دیوان سوم غزل 1251
کیا کریں نیچی نظر کرنے سے غصہ کھائے وہ
اور مجلس میں جو رہیے دیکھ تو شرمائے وہ
کس طرح تڑپے ہے کیا کیا جی گھٹا جاتا ہے ہائے
ساتھ اس کے دل لگا ہو جس کسو کا وائے وہ
کیا سلوک اس بے وفا کے نقل کریے ہم نشیں
منتیں کریے تو یاں تک گھر سے چل کر آئے وہ
لطف سے لبریز ہے اس کام جاں کا سب بدن
مختلط ہوجائے ہم سے جو کبھو تو ہائے وہ
بے خودی ہے جی چلا جاتا ہے ہوں صاحب فراش
بے خبر اے کاش بالیں پر مری آجائے وہ
ہم نہیں ملتے وگرنہ یار ہے تا قتل ساتھ
لوہو پی جاوے ہمارا ہم کو اب جو پائے وہ
میر کو واشد نہیں ہے مقصد اس کا اور ہے
عشق سے لڑکوں کے دل کو کب تلک بہلائے وہ
میر تقی میر

ہو خجل ایسی کہ منھ اپنا نہ پھر دکھلائے شمع

دیوان دوم غزل 831
تیرے ہوتے شام کو گر بزم میں آجائے شمع
ہو خجل ایسی کہ منھ اپنا نہ پھر دکھلائے شمع
کیا جلے جاتے ہیں تجھ سے سب دیے سے دیکھتے
گر یہی یاں کا ہے ڈھب تو حیف مجلس وائے شمع
کس کے تیں ہوتا ہے قطع زندگانی کا یہ شوق
سر کٹانے کو گلے میں جمع ہیں رگ ہاے شمع
کچھ نہیں مجھ میں درونے کی جلن سے اس طرح
کھا چلا ہے جیسے اک ہی داغ سر تا پاے شمع
داغ ہوکر جان دی ان نے تمھارے واسطے
مشت خاک میر پر سو تم نہ لے کر آئے شمع
میر تقی میر