ٹیگ کے محفوظات: نہ

وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے

طَور جب عاشقانہ ہوتا ہے
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
کچھ نہیں جن کے پاس اُن کے پاس
خواہشوں کا خزانہ ہوتا ہے
دل کسی کا کسی کے کہنے سے
کبھی پہلے ہوا نہ ہوتا ہے
بجلیوں کا ہدف نجانے کیوں
ایک ہی آشیانہ ہوتا ہے
غم نہیں اب جو ہم ہیں غیر فعال
اپنا اپنا زمانہ ہوتا ہے
دیکھتے ہیں تمہاری بستی میں
کب تلک آب و دانہ ہوتا ہے
دوستو کر لیا بہت آرام
کارواں اب روانہ ہوتا ہے
ڈھونڈتے ہیں جو آپ باصرِؔ کو
اُس کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

سازشوں کا وُہی نشانہ رہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
جس شجر پر بھی آشیانہ رہا
سازشوں کا وُہی نشانہ رہا
آنکھ اُٹھی نہیں اِدھر سے اُدھر
سر پہ اپنے وُہ تازیانہ رہا
اُس جنوں کو سلام جس کے طفیل
ہم سے مانوس اِک زمانہ رہا
ہم سے مالی کا مثل بچّوں کے
پھل نہ پکنے کا ہی بہانہ رہا
ہم کہاں کے ہیں محترم ماجدؔ
کیا ہے اپنا بھرم رہا نہ رہا
ماجد صدیقی

ہمیں اب تو خدایا نیند آئے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 19
تھمے یہ شور سارا نیند آئے
ہمیں اب تو خدایا نیند آئے
صداؤں کے گھنے جنگل سے نکلوں
کروں خود میں بسیرا، نیند آئے
نہ دیکھوں خواب میں کوئی دوبارہ
اگر مجھ کو دوبارہ نیند آئے
سناؤ نا کوئی جھوٹی کہانی
بنے کوئی بہانہ نیند آئے
مری بنتی نہیں اپنے خدا سے
پڑھوں جب بھی سپارہ نیند آئے
کہاں ڈھونڈوں بھلا دو پل سکوں کے
ترے پہلو میں جب نہ نیند آئے
تھکن سے چور ہیں بے خواب لمحے
ملے کوئی اشارہ نیند آئے
نینا عادل

کچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں رہا نہ جائے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 27
ہر طنز کیا جائے، ہر اک طعنہ دیا جائے
کچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں رہا نہ جائے
تاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہی بیغام
حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے
قطعہ
جون ایلیا

جی میں ہے کہوں حال غریبانہ کہیں گے

دیوان ششم غزل 1895
ہم رو رو کے درد دل دیوانہ کہیں گے
جی میں ہے کہوں حال غریبانہ کہیں گے
سودائی و رسوا و شکستہ دل و خستہ
اب لوگ ہمیں عشق میں کیا کیا نہ کہیں گے
دیکھے سو کہے کوئی نہیں جرم کسو کا
کہتے ہیں بجا لوگ بھی بیجا نہ کہیں گے
ہوں دربدر و خاک بسر چاک گریباں
اس طور سے کیونکر مجھے رسوا نہ کہیں گے
ویرانے کو مدت کے کوئی کیا کرے تعمیر
اجڑی ہوئی آبادی کو ویرانہ کہیں گے
میں رویا کڑھا کرتا ہوں دن رات جو درویش
من بعد مرے تکیے کو غم خانہ کہیں گے
موقوف غم میر کہ شب ہوچکی ہمدم
کل رات کو پھر باقی یہ افسانہ کہیں گے
میر تقی میر

میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو

دیوان پنجم غزل 1704
دل کھلتا ہے واں صحبت رندانہ جہاں ہو
میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو
ان بکھرے ہوئے بالوں سے خاطر ہے پریشاں
وے جمع ہوئے پر ہیں بلا شانہ جہاں ہو
رہنے سے مرے پاس کے بدنام ہوئے تم
اب جاکے رہو واں کہیں رسوا نہ جہاں ہو
کچھ حال کہیں اپنا نہیں بے خودی تجھ کو
غش آتا ہے لوگوں کو یہ افسانہ جہاں ہو
کیوں جلتا ہے ہر جمع میں مانند دیے کے
اس بزم میں جا شمع سا پروانہ جہاں ہو
ان اجڑی ہوئی بستیوں میں دل نہیں لگتا
ہے جی میں وہیں جا بسیں ویرانہ جہاں ہو
وحشت ہے خردمندوں کی صحبت سے مجھے میر
اب جا رہوں گا واں کوئی دیوانہ جہاں ہو
میر تقی میر

طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا

دیوان اول غزل 114
جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا
طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا
جہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایا
ہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا
خلش نہیں کسو خواہش کی رات سے شاید
سرشک یاس کے پردے میں دل روانہ ہوا
ہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یاں سے
ہزار حیف سر حرف اس سے وا نہ ہوا
کھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میر
سمند ناز پہ ایک اور تازیانہ ہوا
میر تقی میر

پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا
غمِ جہاں ہو، رخِ یار ہو کہ دستِ عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا
تھے خاکِ راہ بھی ہم لوگ قہرِ طوفاں بھی
سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا
خوشا کہ آج ہر اک مُدّعی کے لب پر ہے
وہ راز جس نے ہمیں راندۂ زمانہ کیا
وہ حیلہ گر جو وفا جُو بھی ہے جفا خُو بھی
کِیا بھی فیض تو کس بُت سے دوستانہ کیا
فیض احمد فیض

سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 7
کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا فسانہ تھا!
سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا
دیکھا تو ہرتبسمِ لب والہانہ تھا
پرکھا تو ایک حیلۂ صنعت گرانہ تھا
دنیا، امیدِ دید کی دنیا تھی دیدنی
دیوار و در اداس تھے، موسم سہانا تھا
ہائے وہ ایک شام کہ جب مست، نَے بلب
میں جگنوؤں کے دیس میں تنہا روانہ تھا
یہ کون ادھر سے گزرا، میں سمجھا حضور تھے
اِک موڑ اور مڑ کے جو دیکھا، زمانہ تھا
اک چہرہ، اس پہ لاکھ سخن تاب رنگتیں
اے جرأتِ نگہ، تری قسمت میں کیا نہ تھا
ان آنسوؤں کی رو میں نہ تھی موتیوں کی کھیپ
ناداں سمندروں کی تہوں میں خزانہ تھا
اےغم، انیسِ دل، یہ تری دلنوازیاں
ہم کو تری خوشی کے لیے مسکرانا تھا
اک طرفہ کیفیت، نہ توجہ نہ بےرخی
میرے جنونِ دید کو یوں آزمانا تھا
ہائے وہ دھڑکنوں سے بھری ساعتیں مجید
میں ان کو دیکھتا تھا، کوئی دیکھتا نہ تھا
مجید امجد

تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
کوئی بھی دَور سرِ محفلِ زمانہ رہا
تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا
مرے نشانِ قدم دشتِ غم پہ ثبت رہے
اَبد کی لوح پہ تقدیر کا لکھا نہ رہا
وہ کوئی کنجِ سمن پوش تھا کہ تودۂ خس
اک آشیانہ بہرحال آشیانہ رہا
تم اک جزیرۂ دل میں سمٹ کے بیٹھ رہے
مری نگاہ میں طوفانِ صد زمانہ رہا
طلوعِ صبح کہاں، ہم طلوع ہوتے گئے
ہمارا قافلۂ بے درا روانہ رہا
یہ پیچ پیچ بھنور، اس کی اک گرہ تو کھلی
کوئی تڑپتا سفینہ رہا رہا نہ رہا
نہ شاخ گل پہ نشیمن نہ رازِ گل کی خبر
وہ کیا رہا جو جہاں میں قلندرانہ رہا
?1952
مجید امجد

دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 275
ہاں اے دلِ دیوانہ حریفانہ اٹھا لے
دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے
خاک اڑتی ہے سینے میں بہت رقص نہ فرما
صحرا سے مری جان پری خانہ اٹھا لے
تم کیا شررِ عشق لیے پھرتے ہو صاحب
اس سے تو زیادہ پرِ پروانہ اٹھا لے
یار اتنے سے گھر کے لیے یہ خانہ بدوشی
سر پر ہی اٹھانا ہے تو دُنیا نہ اٹھا لے
پھر بار فقیروں کا اٹھانا مرے داتا
پہلے تو یہ کشکولِ فقیرانہ اٹھا لے
جو رنج میں اس دل پہ اٹھایا ہوں اسے چھوڑ
تو صرف مرا نعرۂ مستانہ اٹھا لے
آسان ہو جینے سے اگر جی کا اٹھانا
ہر شخص ترا عشوۂ ترکانہ اٹھا لے
لو صبح ہوئی موجِ سحر خیز ادھر آئے
اور آکے چراغِ شبِ افسانہ اٹھا لے
ہم لفظ سے مضمون اٹھا لاتے ہیں جیسے
مٹی سے کوئی گوہرِ یک دانہ اٹھا لے
عرفان صدیقی

یہ مرا دیس مصیبت زدہ کاشانہ ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 57
جسم دو لخت ہواجب سے جدا شانہ ہوا
یہ مرا دیس مصیبت زدہ کاشانہ ہوا
وقت پھر ایسابھی آیا کہ اسے ملتے ہوئے
کوئی آنسو نہ گرا کوئی تماشا نہ ہوا
میں نے بھی وزن کیا لوگ جہاں تلتے تھے
ڈیڑھ سرسائی ہوا ،پورا میں ماشا نہ ہوا
یہ تری جنگ ہوئی امن و اماں کی تحریک
میرے آغشتہ ء خوں عہد کا لاشہ نہ ہوا
میری بستی میں رہی جسم کی اردو رائج
بولنے والا کوئی روح کی بھاشا نہ ہوا
تھانہ ء حسن میں تفتیش ابھی جاری ہے
ابر آلود کہانی میں مرا شانہ ہوا
یہ صحیفہ ہوا، منصور کوئی میرے خلاف
کسی بدنام رسالے کا تراشا نہ ہوا
منصور آفاق

پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چال ایسی غم زمانہ چلا
پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا
منزل زیست بے سراغ رہی
کوئی جب تک برہنہ پا نہ چلا
دل ملیں تو قدم بھی ملتے ہیں
ساتھ ورنہ کوئی چلا نہ چلا
کس طرف سے تری صدا آئی
چھوڑ کر دل ہر اک ٹھکانہ چلا
کیوں گریزاں ہیں منزلیں ہم سے
نہ چلے ہم کہ رہنما نہ چلا
آج کیسی ہوا چلی باقیؔ
ایک جھونکے میں آشیانہ چلا
باقی صدیقی