ٹیگ کے محفوظات: نہا

اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے

دیوان پنجم غزل 1781
یارب کوئی دیوانہ بے ڈھنگ سا آجاوے
اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے
خاموش رہیں کب تک زندان جہاں میں ہم
ہنگامہ قیامت کا شورش سے اٹھا جاوے
کب عشق کی وادی ہے سر کھینچنے کی جاگہ
ہو سیل بھلا سا تو منھ موڑ چلا جاوے
عاشق میں ہے اور اس میں نسبت سگ و آہو کی
جوں جوں ہو رمیدہ وہ توں توں یہ لگا جاوے
افسوس کی جاگہ ہے یاں باز پسیں دم میں
ہو روبرو آئینہ وہ منھ کو چھپا جاوے
ان نو خطوں سے میری قسمت میں تو تھی خواری
کس طرح لکھا میرا کوئی آ کے مٹا جاوے
دیکھ اس کو ٹھہر رہنا ثابت قدموں سے ہو
اس راہ سے آوے تو ہم سے نہ رہا جاوے
کہیے جہاں کرتا ہو تاثیر سخن کچھ بھی
وہ بات نہیں سنتا کیا اس سے کہا جاوے
یہ رنگ رہے دیکھیں تاچند کہ وہ گھر سے
کھاتا ہوا پان آکر باتوں کو چبا جاوے
ہم دیر کے جنگل میں بھولے پھرے ہیں کب کے
کعبے کا ہمیں رستہ خضر آ کے بتا جاوے
ہاتھوں گئی خوباں کے کچھ شے نہیں پھر ملتی
کیونکر کوئی اب ان سے دل میرا دلا جاوے
یہ ذہن و ذکا اس کا تائید ادھر کی ہے
ٹک ہونٹ ہلے تو وہ تہ بات کی پا جاوے
یوں خط کی سیاہی ہے گرد اس رخ روشن کے
ہر چار طرف گاہے جوں بدر گھرا جاوے
کیا اس کی گلی میں ہے عاشق کسو کی رویت
آلودئہ خاک آوے لوہو میں نہا جاوے
ہے حوصلہ تیرا ہی جو تنگ نہیں آتا
کس سے یہ ستم ورنہ اے میر سہا جاوے
میر تقی میر

پنجہ خورشید کا گہا بھی جائے

دیوان چہارم غزل 1530
یارب اس کا ستم سہا بھی جائے
پنجہ خورشید کا گہا بھی جائے
دیکھ رہیے خرام ناز اس کا
پر کسو پا سے گر رہا بھی جائے
درد دل طول سے کہے عاشق
روبرو اس کے جو کہا بھی جائے
حیرت گل سے آب جو ٹھٹھکا
بہے بہتیرا ہی بہا بھی جائے
کیا کوئی اس گلی میں آوے میر
آوے تو لوہو میں نہا بھی جائے
میر تقی میر

آن رہے ہیں آج دموں پر کل تک کیونکے رہا جاوے

دیوان چہارم غزل 1515
حال رہا ہو ہم میں کچھ تو حال کسو سے کہا جاوے
آن رہے ہیں آج دموں پر کل تک کیونکے رہا جاوے
اس کی گلی وہ ظلم کدہ ہے آ نکلے جو کوئی وہاں
گرد رہ عشق آلودہ تو لوہو میں اپنے نہا جاوے
آنکھوں کی خوننابہ فشانی دیکھیں میر کہاں تک یہ
زرد ہمارے رخساروں پر ہر دم خون بہا جاوے
میر تقی میر

ایک عالم میں ہیں ہم وے پہ جدا رہتے ہیں

دیوان دوم غزل 895
اتفاق ایسا ہے کڑھتے ہی سدا رہتے ہیں
ایک عالم میں ہیں ہم وے پہ جدا رہتے ہیں
برسے تلوار کہ حائل ہو کوئی سیل بلا
پیش کچھ آئو ہم اس کوچے میں جا رہتے ہیں
کام آتا ہے میسر کسے ان ہونٹوں سے
بابت بوسہ ہیں پر سب کو چما رہتے ہیں
دشت میں گرد رہ اس کی اٹھے ہے جیدھر سے
وحش و طیر آنکھیں ادھر ہی کو لگا رہتے ہیں
کیا تری گرمی بازار کہیں خوبی کی
سینکڑوں آن کے یوسف سے بکا رہتے ہیں
بسترا خاک رہ اس کی تو ہے اپنا لیکن
گریۂ خونیں سے لوہو میں نہا رہتے ہیں
کیوں اڑاتے ہو بلایا ہمیں کب کب ہم آپ
جیسے گردان کبوتر یہیں آ رہتے ہیں
حق تلف کن ہیں بتاں یاد دلائوں کب تک
ہر سحر صحبت دوشیں کو بھلا رہتے ہیں
یاد میں اس کے قد و قامت دلکش کی میر
اپنے سر ایک قیامت نئی لا رہتے ہیں
میر تقی میر

اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

دیوان دوم غزل 726
کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا
غم میں جاتی ہے عمر دہ روزہ
اپنے ہاں سے دہا نہیں جاتا
طاقت دل تلک تعب کھینچے
اب ستم ٹک سہا نہیں جاتا
اس در تر کا حیرتی ہے بحر
تب تو اس سے بہا نہیں جاتا
کب تری رہ میں میر گرد آلود
لوہو میں آ نہا نہیں جاتا
میر تقی میر

کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

دیوان اول غزل 605
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دوا کر چلے
پڑے ایسے اسباب پایان کار
کہ ناچار یوں جی جلاکر چلے
وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے
ہر اک چیز سے دل اٹھاکر چلے
کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ
سو تم ہم سے منھ بھی چھپاکر چلے
بہت آرزو تھی گلی کی تری
سو یاں سے لہو میں نہاکر چلے
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
جبیں سجدے کرتے ہی کرتے گئی
حق بندگی ہم ادا کر چلے
پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
جھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوں
چمن میں جہاں کے ہم آکر چلے
نہ دیکھا غم دوستاں شکر ہے
ہمیں داغ اپنا دکھاکر چلے
گئی عمر در بند فکر غزل
سو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے
میر تقی میر

دس دن رہے جہان میں ہم سو رہا دہا

دیوان اول غزل 72
رونا ٹک اک تھما تو غم بیکراں سہا
دس دن رہے جہان میں ہم سو رہا دہا
پہلو میں اک گرہ سی تہ خاک ساتھ ہے
شاید کہ مر گئے پہ بھی خاطر میں کچھ رہا
آنکھوں نے رازداری محبت کی خوب کی
آنسو جو آتے آتے رہے تو لہو بہا
آئے تھے اک امید پہ تیری گلی میں ہم
سو آہ اس طرح سے چلے لوہو میں نہا
کس کس طرح سے میر نے کاٹا ہے عمر کو
اب آخر آخر آن کے یہ ریختہ کہا
میر تقی میر

پھر اس پہ ظلم یہ ہے کچھ کہا نہیں جاتا

دیوان اول غزل 61
دکھ اب فراق کا ہم سے سہا نہیں جاتا
پھر اس پہ ظلم یہ ہے کچھ کہا نہیں جاتا
ہوئی ہے اتنی ترے عکس زلف کی حیراں
کہ موج بحر سے مطلق بہا نہیں جاتا
نہیں گذرتی گھڑی کوئی مجھ خراب پر آہ
کہ جس میں غم سے ترے جی ڈھہا نہیں جاتا
ستم کچھ آج گلی میں تری نہیں مجھ پر
کب آ کے خون میں میں یاں نہا نہیں جاتا
خراب مجھ کو کیا اضطراب دل نے میر
کہ ٹک بھی اس کنے اس بن رہا نہیں جاتا
میر تقی میر