ٹیگ کے محفوظات: نہار

یہاں بھی ہوتا تھا ایک موسم بہار کر کے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 72
کہاں نجانے چلا گیا انتظار کر کے
یہاں بھی ہوتا تھا ایک موسم بہار کر کے
جو ہم پہ ایسا نہ کارِ دنیا کا جبر ہوتا
تو ہم بھی رہتے یہاں جنوں اختیار کر کے
نجانے کس سمت جا بسی بادِ یاد پرور
ہمارے اطراف خوشبوئوں کا حصار کر کے
کٹیں گی کس دن مدار و محور کی یہ طنابیں
کہ تھک گئے ہم حسابِ لیل و نہار کر کے
تری حقیقت پسند دنیا میں آ بسے ہیں
ہم اپنے خوابوں کی ساری رونق نثار کر کے
یہ دل تو سینے میں کس قرینے سے گونجتا تھا
عجیب ہنگامہ کر دیا بے قرار کر کے
ہر ایک منظر ہر ایک خلوت گنوا چکے ہیں
ہم ایک محفل کی یاد پر انحصار کر کے
تمام لمحے وضاحتوں میں گزر گئے ہیں
ہماری آنکھوں میں اک سخن کو غبار کر کے
یہ اب کھلا ہے کہ اس میں موتی بھی ڈھونڈنے تھے
کہ ہم تو بس آ گئے ہیں دریا کو پار کر کے
بقدرِ خوابِ طلب لہو ہے نہ زندگی ہے
ادا کرو گے کہاں سے اتنا ادھار کر کے
عرفان ستار

ایسی طرح روزگار دیکھیے کب تک رہے

دیوان ششم غزل 1910
چرخ پر اپنا مدار دیکھیے کب تک رہے
ایسی طرح روزگار دیکھیے کب تک رہے
سہرے کہاں تک پڑیں آنسوئوں کے چہرے پر
گریہ گلے ہی کا ہار دیکھیے کب تک رہے
ضعف سے آنکھیں مندیں کھل نہ گئیں پھر شتاب
غش یہ ہمیں اب کی بار دیکھیے کب تک رہے
لب پہ مرے آن کر بارہا پھر پھر گئی
جان کو یہ اضطرار دیکھیے کب تک رہے
اس سے تو عہد و قرار کچھ بھی نہیں درمیاں
دل ہے مرا بے قرار دیکھیے کب تک رہے
اس سرے سے اس سرے داغ ہی ہیں صدر میں
ان بھی گلوں کی بہار دیکھیے کب تک رہے
آنکھیں تو پتھرا گئیں تکتے ہوئے اس کی راہ
شام و سحر انتظار دیکھیے کب تک رہے
آنکھ ملاتا نہیں ان دنوں وہ شوخ ٹک
بے مزہ ہے ہم سے یار دیکھیے کب تک رہے
روے سخن سب کا ہے میری غزل کی طرف
شعر ہی میرا شعار دیکھیے کب تک رہے
گیسو و رخسار یار آنکھوں ہی میں پھرتے ہیں
میر یہ لیل و نہار دیکھیے کب تک رہے
میر تقی میر

نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں

دیوان ششم غزل 1852
آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں
نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں
وصل میں اس کے روز و شب کیا خوب گذرتی تھی اپنی
ہجراں کا کچھ اور سماں ہے اب وہ لیل و نہار نہیں
خالی پڑے ہیں دام کہیں یا صید دشتی صید ہوئے
یا جس صید افگن کے لیے تھے اس کو ذوق شکار نہیں
سبزہ خط کا گرد گل رو بڑھ کانوں کے پار ہوا
دل کی لاگ اب اپنی ہو کیونکر وہ اس منھ پہ بہار نہیں
لطف عمیم اس کا ہی ہمدم کیوں نہ غنیمت جانیں ہم
ربط خاص کسو سے اسے ہو یہ تو طور یار نہیں
عشق میں اس بے چشم و رو کے طرفہ رویت پیدا کی
کس دن اودھر سے اب ہم پر گالی جھڑکی مار نہیں
مشتاق اس کے راہ گذر پر برسوں کیوں نہ بیٹھیں میر
ان نے راہ اب اور نکالی ایدھر اس کا گذار نہیں
میر تقی میر

رہ رہ گئے مہ و خور آئینہ وار دونوں

دیوان چہارم غزل 1466
کیا کیا جھمک گئے ہیں رخسار یار دونوں
رہ رہ گئے مہ و خور آئینہ وار دونوں
تصویر قیس و لیلیٰ ٹک ہاتھ لے کے دیکھو
کیسے ہیں عاشقی کے حیران کار دونوں
دست جنوں نے اب کے کپڑوں کی دھجیاں کیں
دامان و جیب میرے ہیں تار تار دونوں
پر سال کی سی بارش برسوں میں پھر ہوئی تھی
ابر اور دیدئہ تر روتے ہیں زار دونوں
دن ہیں بڑے کبھو کے راتیں بڑی کبھو کی
رہتے نہیں ہیں یکساں لیل و نہار دونوں
دل اور برق ابر و فصل گل ایک سے ہیں
یعنی کہ بے کلی سے ہیں بے قرار دونوں
خوش رنگ اشک خونیں گرتے رہے برابر
باغ و بہار ہیں اب جیب و کنار دونوں
اس شاخ گل سے قد کی کیا چوٹ لگ گئی ہے
جو دل جگر ہوئے ہیں خون ایک بار دونوں
چلتے جو اس کو دیکھا جی اپنے کھنچ گئے ہیں
ہم اور میر یاں ہیں بے اختیار دونوں
میر تقی میر

نوگل جیسے جلوہ کرے اس رشک بہار کو دیکھا ہے

دیوان سوم غزل 1256
کیسے ناز و تبختر سے ہم اپنے یار کو دیکھا ہے
نوگل جیسے جلوہ کرے اس رشک بہار کو دیکھا ہے
چال زمانے کی ہے نظر میں شام و سحر کس کو ہے قیام
نووارد ہم یاں کے ہیں پر لیل و نہار کو دیکھا ہے
ایک نہ آیا دید میں اپنی دلکش دلچسپ اس کے رنگ
ان آنکھوں سے اس گلشن میں یوں تو ہزار کو دیکھا ہے
قدرکفر اسلام سے زائد جانی سبحہ فروشی سے
بکتے کہیں بازار میں تونے گہ زنار کو دیکھا ہے
قلب و دماغ و جگر کے گئے پر ضعف ہے جی کی غارت میں
کیا جانے یہ قلقچی ان نے کس سردار کو دیکھا ہے
بائو سے بھی گر پتا کھڑکے چوٹ چلے ہے ظالم کی
ہم نے دام گہوں میں اس کے ذوق شکار کو دیکھا ہے
جمع کرو دل میر سے تم بھی بیتابی تھی دل کو بہت
اچھے کچھ آثار نہ تھے میں اس بیمار کو دیکھا ہے
میر تقی میر

اک جھمکے میں کہاں پھر صبر و قرار عاشق

دیوان دوم غزل 836
اے رشک برق تجھ سے مشکل ہے کار عاشق
اک جھمکے میں کہاں پھر صبر و قرار عاشق
خاک سیہ سے یکساں تیرے لیے ہوا ہوں
تو بھی تو ایک شب ہو شمع مزار عاشق
اے بحر حسن ہووے یہ آگ سرد ٹک تب
جوں موج ہو لبالب تجھ سے کنار عاشق
دلخواہ کوئی دلبر ملتا تو دل کو دیتے
گر چاہنے میں ہوتا کچھ اختیار عاشق
پلکوں کی اس کی کاوش ہر دم جب ایسی ہووے
مشکل کہ جی سے جاوے پھر خار خار عاشق
کیا جانے محو جو ہو اپنے ہی رو و مو کا
گذرے ہے کس طرح سے لیل و نہار عاشق
خواری کا موجب اپنی ہے اضطراب ہر دم
دل سمجھے تو رہے بھی کچھ اعتبار عاشق
آنکھوں تلے سے سرکے وہ چشم مست ٹک تو
جاتا دکھائی دیوے رنج و خمار عاشق
کیا بوجھ بھاری سے میں ناکام کاٹتا ہوں
دنیا سے ہے نرالا کچھ کاروبار عاشق
اس پردے میں غم دل کہتا ہے میر اپنا
کیا شعر و شاعری ہے یارو شعار عاشق
میر تقی میر

دیر تک رہگزار کو دیکھا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 58
کارواں یا غبار کو دیکھا
دیر تک رہگزار کو دیکھا
پھول سا رنگ، خار سے انداز
تجھ کو دیکھا بہار کو دیکھا
زلف و رُخ کے طلسم سے نکلے
حسنِ لیل و نہار کو دیکھا
دل آزاد کا خیال آیا
اپنے ہر اختیار کو دیکھا
ہر ستارے سے روشنی مانگی
ہر شبِ انتظار کو دیکھا
کسی لمحے پہ اپنا نام نہ تھا
گردش روزگار کو دیکھا
پھر تسلی کسی کی یاد آئی
پھر دل بے قرار کو دیکھا
ہر گل تر تھا ایک داغِ نمو
ہم نے ہر شاخسار کو دیکھا
دھیان میں آئی زندگی باقیؔ
رقص میں اک شرار کو دیکھا
باقی صدیقی