ٹیگ کے محفوظات: نگہبانی

کہ تھی زمینِ تمنّا ہی اپنی بارانی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
کبھی تھا قحط تو درپے کبھی تھی طغیانی
کہ تھی زمینِ تمنّا ہی اپنی بارانی
میں آج رات بھی بے آشیاں گزاروں گا
ہے لاعلاج چمن میں مری تن آسانی
کھلے دروں وہ بصد لطف رات بھر سویا
جسے سپرد مرے گھر کی تھی نگہبانی
بہائے کاوشِ اسلاف کو بھی لے ڈوبی
بہ عہد نو مرے ناموس کی یہ ارزانی
جو مر چکے ہیں قصیدے لبوں پہ اُن کے ہیں
مرے سپرد ہے زندوں کی مرثیہ خوانی
غضب کہ رن میں جو آنکھیں نہ چار کرتے تھے
وہ بھیجتے ہیں مجھے تحفہ ہائے نسوانی
کسی سے کلمۂ تحسیں تو کیا ملے ماجدؔ
ہے تہمتوں کی مرے نام پر فراوانی
ماجد صدیقی

رویّوں کی اذیّت ناک یکسانی کہاں تک ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 88
مراسم کی ضرورت خندہ پیشانی کہاں تک ہے
رویّوں کی اذیّت ناک یکسانی کہاں تک ہے
ذرا آنسو رکیں تو میں بھی دیکھوں اس کی آنکھوں میں
اُداسی کس قدر ہے اور پشیمانی کہاں تک ہے
نہ جانے انکشافِ ذات سے خود مجھ پہ کیا گزرے
کسے معلوم تابِ چشمِ حیرانی کہاں تک ہے
کہیں تو جا کے سمٹے گا ترا کارِ جہاں بانی
کبھی تُو بھی تو دیکھے گا کہ ویرانی کہاں تک ہے
کبھی تو چند لمحے خود سے باہر بھی بسر کر لوں
ذرا دیکھوں تو وحشت کی فراوانی کہاں تک ہے
کسے معلوم بعد از باریابی کیا تماشا ہو
خبر کیا نا رسائی کی یہ آسانی کہاں تک ہے
کبھی وہ بے حجابانہ ملے تو پھر کھلے مجھ پر
کہ میرے بس میں آخر دل کی جولانی کہاں تک ہے
تلاطم خیزیٔ خواہش نہ تھی اُس کے تخاطب میں
مگر آنکھیں بتاتی تھیں کہ طغیانی کہاں تک ہے
کہاں تک دل کو میں اس یاد پر معمور رکھوں گا
مرے ذمّے ترے غم کی نگہبانی کہاں تک ہے
رفو گر! میں تو شہرِ عشق سے باہر نہیں جاتا
میں کیا جانوں کہ رسمِ چاک دامانی کہاں تک ہے
عرفان ستار

کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
کس شہر نہ شُہرہ ہُوا نادانیِ دل کا
کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا
آؤ کریں محفل پہ زرِ زخم نمایاں
چرچا ہے بہت بے سر و سامانیِ دل کا
دیکھ آئیں چلو کوئے نگاراں کا خرابہ
شاید کوئی محرم ملے ویرانیِ دل کا
پوچھو تو ادھر تیر فگن کون ہے یارو
سونپا تھا جسے کام نگہبانیِ دل کا
دیکھو تو کدھر آج رُخِ بادِ صبا ہے
کس رہ سے پیام آیا ہے زندانیِ دل کا
اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل کا
فیض احمد فیض

کہ ہم دستِ کرم دُنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 184
فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں
کہ ہم دستِ کرم دُنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں
درِ روحانیاں کی چاکری بھی کام ہے اپنا
بتوں کی مملکت میں کارِ سلطانی بھی کرتے ہیں
جنوں والوں کی یہ شائستگی طرفہ تماشا ہے
رفو بھی چاہتے ہیں چاک دامانی بھی کرتے ہیں
مجھے کچھ شوقِ نظّارہ بھی ہے پھولوں کے چہروں کا
مگر کچھ پھول چہرے میری نگرانی بھی کرتے ہیں
جو سچ پوچھو تو ضبطِ آرزو سے کچھ نہیں ہوتا
پرندے میرے سینے میں پر افشانی بھی کرتے ہیں
ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا
کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
بہت نوحہ گری کرتے ہیں دل کے ٹوٹ جانے کی
کبھی آپ اپنی چیزوں کی نگہبانی بھی کرتے ہیں
عرفان صدیقی